شرعی براء کا مفہوم، اس کے مستحق افراد اور کفار سے دوستی کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

معنی البــــــراء

براء کا مفہوم

براء کا مطلب ہے علیحدگی، نجات، دوری، لاتعلقی، بیزاری اور نفرت وغیرہ۔

[بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَی الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ؕ]
اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کے لئے اعلان برأت (لا تعلقی) ہے جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔ (سورۃ التوبہ:1)
[عن أبي موسى انہ قال: أنا بريء مما برئ منه رسول الله صلى الله عليه وسلم]
سیدنا ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اس بات سے بیزار ہوں جس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہیں۔ [صحیح المسلم:104]

من یستحـــق البــــراء؟

براء کامستحق کون ہے؟

اسلام دشمن کفار سے نہ صرف دوستی کرنا منع ہے بلکہ ان سے براء ت یعنی بیزاری، نفرت اور دشمنی کا اظہار کرنا بھی ہر مسلمان پر واجب ہے۔

[اِنَّمَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ اَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَ ظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ]
اللہ تعالیٰ تمہیں ان کافروں کے ساتھ دو ستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی، جو لوگ ایسے کافروں سے دوستی کریں گے وہ ظالم ہیں۔ (سورۃ الممتحنہ:9)
[وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ]
اور ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی بنا پر تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا مگر جب اس پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اظہار بیزاری کیا، ابراہیم (علیہ السلام) واقعی بڑا رقیق القلب اور حوصلے والا تھا۔ (سورۃ التوبہ:114)

نہی الـــولاء عن الـــکـفـــار

کفار سے دوستی کی ممانعت

اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا رویہ رکھنے والے کا فروں سے دوستی کرنا منع ہے۔

[اِنَّمَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ اَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَ ظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ]
اللہ تعالیٰ تمہیں ان کافروں کے ساتھ دو ستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی،جو لوگ ایسے کافروں سے دوستی کریں گے وہ ظالم ہیں۔ (سورۃ الممتحنہ:9)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلاف (عذاب کے لئے) صریح حجت دے دو۔ (سورۃ النساء:144)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص انہیں دوست بنائے گا اس کا شمار بھی انہیں میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ تعالیٰ (ایسے) ظالموں کی راہنمائی نہیں فرماتا۔ (سورۃ المائدہ:51)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی، ان میں سے جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تماشا بنا لیا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ اگر تم واقعی مومن ہو تو اللہ سے ڈر جاؤ۔ (سورۃ المائدہ:57)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمۡ وَ اِخۡوَانَکُمۡ اَوۡلِیَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡکُفۡرَ عَلَی الۡاِیۡمَانِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تم میں سے جو انہیں دوست بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔ (سورۃ التوبہ:23)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ وَ قَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ ۚ یُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَ اِیَّاکُمۡ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ رَبِّکُمۡ ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِہَادًا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِیۡ ٭ۖ تُسِرُّوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ ٭ۖ وَ اَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَیۡتُمۡ وَ مَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡہُ مِنۡکُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (اپنے وطن سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اسے ماننے سے انکار کرچکے ہیں۔ رسول کو اور تمہیں صرف اس وجہ سے جلا وطن کیا ہے کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے ہو، تم انہیں خفیہ دوستانہ پیغام بھیجتے ہو حالانکہ جو تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو میں اسے خوب جانتا ہوں لہٰذا تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ (سورۃ الممتحنہ:1)
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ قَدۡ یَئِسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الۡکُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ آخرت (کے ثواب سے) اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے کافر (اللہ کی رحمت سے) مایوس ہیں۔ (سورۃ الممتحنہ:13)
[لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ]
مومن، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہاں اگر کافروں کے ظلم سے بچنے کے لئے (اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے) ایسا طرز عمل اختیار کرو تو وہ معاف ہے۔ اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے (اور یاد رکھو) تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ (سورہ آل عمران:28)

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرنے والے خواہ اپنے ماں باپ اور بیوی بچے ہی کیوں نہ ہوں، ان سے بھی دوستی کرنا منع ہے۔

[لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ]
تم کبھی نہ پاؤ گے کہ وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا ان کے بھائی یا کنبے قبیلے کے لوگ ہوں۔ یہ (اہل ایمان) وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح (یعنی نور ایمان) کے ساتھ ان کی مدد فرمائی۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اللہ کے لشکر والے ہیں آگاہ رہو اللہ کے لشکر والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ:22)

کفار کے کلچر اور تہذیب و تمدن کی طرف محض جھکاؤ اور میلان رکھنا بھی منع ہے۔

[وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ]
اور ظالموں کی طرف بالکل نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے پھر تمہیں کوئی ایسا سرپرست نہیں ملے گا جو اللہ سے بچا سکے اور کہیں سے تمہیں مدد بھی نہیں پہنچے گی۔ (سورۃ ہود:113)

کفار سے دوستی کرنے والے اللہ، رسول اور قرآن پر ایمان نہیں لائے۔

[وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ]
اگر یہ لوگ اللہ، اس کے رسول اور اس چیز پر ایمان لائے ہوتے جو نبی پر نازل کی گئی ہے تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ (سورۃ المائدہ:81)