تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الصّٰبِرِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ:} یہ آیات چونکہ حج کے بیان میں آئی ہیں اور حج میں سفر کی صعوبتوں کے علاوہ بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، بعض ساتھیوں کے مزاج کی شدت، خود غرضی یا ضروریات کی کمی کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آتی ہے، خصوصاً جب ان میں بدعقیدہ اور مشرک لوگ بھی ہوں، کیونکہ یہ سورت مکہ میں اتری اور اب بھی بہت سے حاجی وہ ہوتے ہیں جو شرک و بدعت میں گرفتار ہوتے ہیں اور توحید و سنت کی بات سننا برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ بعض اوقات بھوک، بیماری، راستے کی رکاوٹیں اور قدرتی آفات پیش آ جاتی ہیں، تو اللہ کے وہ متواضع بندے ان سب مواقع پر «فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ» [البقرۃ: ۱۹۷] اور «وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ (155) الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ» [البقرۃ: ۱۵۵، ۱۵۶] پر عمل کرتے ہوئے اتنا صبر کرتے ہیں کہ صابرین کے لقب سے سرفراز ہوتے ہیں۔
➌ { وَ الْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ: ”اَلْمُقِيْمِيْنَ“} کا نون {” الصَّلٰوةِ “} کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے گر گیا ہے۔ مضاف پر اگرچہ الف لام نہیں آتا مگر اسم فاعل یا صفت کا کوئی صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف ہو تو اس پر الف لام آ جاتا ہے۔ سفر حج کی صعوبتوں کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ نماز میں سستی ہو جائے، یا وہ صحیح طریقے سے ادا نہ کی جا سکے، مگر اللہ کے وہ عاجز بندے اللہ سے اتنی محبت رکھتے اور نماز میں غفلت سے اس قدر خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہر وقت اس کی فکر میں رہتے ہیں اور اسے اتنی پابندی سے بروقت اور صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کی طرف سے انھیں ”نماز قائم کرنے والے“ کا لقب عطا ہوتا ہے، گویا وہ ہر وقت نماز ہی میں ہیں۔
➍ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} اس سفر میں چونکہ خرچ بہت ہوتا ہے، اس لیے فرمایا کہ ہمارے وہ بندے سفر کے خرچ میں، یا کھانے پینے کے خرچ میں، یا اپنے ساتھیوں پر خرچ کرنے میں، یا قربانی وغیرہ پر خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتے، بلکہ ہم نے جو کچھ انھیں دیا ہے، یہ سمجھ کر کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اسی کا عطا کردہ ہے، فراخ دلی سے خرچ کرتے ہیں۔
➎ اس آیت کی مندرجہ بالا تفسیر مفسر بقاعی نے سیاق و سباق کے لحاظ سے کی ہے۔ الفاظ عام ہونے کا تقاضا ہے کہ {”الْمُخْبِتِيْنَ “} (اللہ کے متواضع بندوں) کی یہ صفات ان میں صرف حج کے دوران میں نہیں بلکہ دوسرے تمام اوقات میں بھی پائی جاتی ہیں، جس سے وہ بشارت الٰہی {” بَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ “} کے مستحق بنتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5564]
مسند احمد میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت }۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے؟ فرمایا: { ہر بال کے بدلے ایک نیکی }۔ دریافت کیا اور“اون“ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: { ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔
تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الانبیاء:25] ’ تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ‘۔
سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنا دیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کر کے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کر دیئے جاؤ گے۔“ «وَالْمُقِيمِي» کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے «وَالْمُقِيمِي» پڑھا ہے اور «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔
مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمدللہ ہم کر آئے ہیں۔ «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر صفاتِ المخبتين، فقال: {الذين إذا ذُكِرَ الله وَجِلَتْ قلوبُهم}؛ أي: خوفاً وتعظيماً، فتركوا لذلك المحرَّمات لخوفهم ووجلهم من الله وحده. {والصابرين على ما أصابَهم}: من البأساء والضرَّاء وأنواع الأذى؛ فلا يجري منهم التسخُّطِ لشيءٍ من ذلك، بل صبروا ابتغاء وجه ربِّهم؛ محتسبينَ ثوابه، مرتقبين أجرَه. {والمقيمي الصلاةِ}؛ أي: الذين جَعَلوها قائمةً مستقيمةً كاملةً؛ بأن أدَّوا اللازمَ فيها والمستحبَّ وعبوديَّتها الظاهرة والباطنة. {ومما رَزَقْناهم يُنفِقونَ}: وهذا يشملُ جميع النفقات الواجبة؛ كالزَّكاة والكفَّارة والنفقة على الزوجات والمماليك والأقارب، والنفقات المستحبَّة؛ كالصدقات بجميع وجوهها.
وأتى بـ {من} المفيدة للتبعيض لِيُعْلَمَ سهولةُ ما أمر الله به ورغَّب فيه، وأنَّه جزءٌ يسيرٌ مما رَزَقَ الله، ليس للعبدِ في تحصيلِهِ قدرةٌ لولا تيسيرُ الله له ورزقُه إيَّاه؛ فيا أيُّها المرزوق من فضل الله! أنفِقْ مما رَزَقَكَ الله؛ ينفِق اللهُ عليك ويزِدْك من فضله.