تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[204] سب سے بڑی غفلت تو یہی ہے کہ انسان یہ بھول جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اس دنیا میں جو دار الامتحان ہے اسے اللہ کا بندہ بن کر ہی رہنا چاہیے۔ نیز یہ بھول جائے کہ آخرت میں اس کے سب اعمال پر جواب طلبی اور مواخذہ ہو گا۔ دنیا میں جب بھی کوئی فتنہ و فساد پیدا ہوا ہے تو اسی قسم کی غفلت سے پیدا ہوا ہے اسی لیے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ انہیں کسی وقت بھی ایسی غفلت میں نہ رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا چاہیے جو اس غفلت کا صحیح علاج ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے۔
«غدو» کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو۔ «اصال» جمع ہے «اصیل» کی، جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔
حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں، اپنی زبان سے کرتے رہو۔ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کر لیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» ۱؎ [2-البقرة:186] ’ جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے، قبول فرما لیا کرتا ہوں۔ ‘
بخاری و مسلم میں ہے کہ { لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر ترس کھاؤ۔ تم کسی بہرے کو، یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکارتے ہو، وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے۔ تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے، اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6610]
ہو سکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] یعنی ’ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔ ‘ سے ہے۔
امام ابن جریر اور ان سے پہلے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا، اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔
لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور مراد اس سے یا تو نماز میں ہے، یا نماز اور خطبے میں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر، پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ اس لیے مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔
(ان دونوں بزرگوں کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے اور دونوں آیات کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» )
حدیث شریف میں ہے: { تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:430]
اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے۔ پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔
ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو سجدے کی آیات میں شمار کیا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1056، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
الحمدللہ! تفسیر سورۃ الاعراف ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الذكر لله تعالى يكون بالقلب ويكون باللسان ويكون بهما وهو أكمل أنواع الذكر وأحواله، فأمر الله عبده ورسوله محمداً أصلاً وغيره تبعاً بذكر ربِّه في نفسه؛ أي: مخلصاً خالياً، {تضرُّعاً}؛ أي: متضرعاً بلسانك مكرِّراً لأنواع الذكر، {وخِيفةً}: في قلبك؛ بأن تكون خائفاً من الله، وَجِلَ القلب منه خوفاً أن يكون عملك غير مقبول، وعلامة الخوف أن يسعى ويجتهد في تكميل العمل وإصلاحه والنصح به. {ودون الجهر من القول} ـ؛ أي: كن متوسطاً، لا تجهرْ بصلاتك ولا تخافِتْ بها وابتغ بين ذلك سبيلاً ـ {بالغدو}: أول النهار، {والآصال}: آخره، وهذان الوقتان [لذكرِ اللهِ] فيهما مزيَّةٌ وفضيلةٌ على غيرهما. {ولا تكن من الغافلينَ}: الذين نَسُوا الله فأنساهم أنفُسَهم؛ فإنَّهم حُرِموا خير الدنيا والآخرة، وأعرضوا عمَّن كلُّ السعادة والفوز في ذكره وعبوديَّته، وأقبلوا على مَن كلُّ الشقاوة والخيبة في الاشتغال به.
وهذه من الآداب التي ينبغي للعبد أن يراعِيَها حقَّ رعايتها، وهي الإكثار من ذكر الله آناء الليل والنهار، خصوصاً طرفي النهار، مخلصاً خاشعاً متضرِّعاً متذللاً ساكناً متواطئاً عليه قلبه ولسانه بأدبٍ ووَقارٍ وإقبال على الدُّعاء والذِّكر وإحضارٍ له بقلبه وعدم غفلة؛ فإنَّ الله لا يستجيبُ دعاءً من قلبٍ غافلٍ لاهٍ.