حدیث 36: تمہارے گناہ نہ کرنے سے اللہ کا دوسرے لوگ پیدا کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ایسے ہو جاؤ کہ گناہ تم سے سرزد ہی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین سے ہٹا دے گا اور تمہاری جگہ ایک دوسرا گروہ پیدا کرے گا جس کا شیوہ یہ ہو کہ گناہ کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش اور مغفرت کی طلب گاری کرے۔“
صحيح مسلم التوبة، باب سقوط الذنوب حديث : 2749، و مقام حدیث، ص:331
طلوع اسلام والوں نے اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان کو زیادہ گناہ کرنے چاہئیں اور پھر بخشش طلب کرنی چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ خوش ہو۔
جواب :
حدیث صحیح ہے لیکن اس کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ انسان کی خلقت میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ انسان کثرت سے توبہ و استغفار کرے اور یہ تب ہوتا ہے کہ انسان گناہ کرے ۔ مقصد دراصل یہ ہے کہ توبہ و استغفار کثرت سے ہو جبکہ گناہ کرنا بالواسطہ مقصد ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے سانپ اور بچھو وغیرہ پیدا کیے جو فطری طور پر انسان کے دشمن ہیں اور وہ انسان کو ڈستے ہیں لیکن یہ غایت حقیقی نہیں بلکہ اس میں دوسری غایتیں اور حکمتیں بالذات مقصود ہیں۔
انسان کی خلقت کا مقصد کثرت استغفار اس بنا پر ہے کہ انسان کے علاوہ ایسی بہت سی مخلوقات ہیں جو گناہ نہیں کرتیں، مثلاً: فرشتے، شجر، حجر اور حیوانات وغیرہ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرتی ہیں لیکن استغفار نہیں کرتیں، البتہ فرشتوں کا استغفار قرآن کریم میں مذکور ہے لیکن وہ مومنوں کے لیے ہے۔ ارشاد ہوا:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا
”وہ فرشتے جنہوں نے عرش کو اٹھا رکھا ہے اور جو اس کے اردگرد ہیں، وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مومنوں کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں۔“
(40-المؤمن:7)
لہذا صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کی خلقت کا مقصود بالذات استغفار کرنا ہے۔
◈ نوٹ: یہاں تک وہ احادیث بیان کی گئی ہیں جنہیں طلوع اسلام والوں نے امام بخاری کے حوالے سے نقل کیا ہے اور ان پر اعتراض کیا ہے، البتہ حدیث نمبر 36 صحیح بخاری کی نہیں، وہ صحیح مسلم کی ہے۔ انہوں نے غلطی سے اسے امام بخاری کی طرف منسوب کیا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی تقریباً چار احادیث ہیں جن پر انہوں نے اعتراض کیا ہے لیکن ہم نے ان کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ہمیں ان پر اعتراض کا پہلو نظر نہیں آیا، البتہ ان کے علاوہ بعض ایسی صحیح احادیث ہیں جن پر منکرین حدیث اعتراض کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض قابل ذکر سمجھ کر یہاں زیر بحث لائی جا رہی ہیں۔