بچے کا انکار کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیتِ ملاعنت (لعان) نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أيما امرأة أدخلت علىٰ قوم من ليس منهم فليست من الله فى شيء ، ولن يدخلها الله جنته ، وأيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله عنه يوم القيامة وفضحه علىٰ رؤوس الأولين والآخرين
”جس بھی عورت نے بچے کو کسی ایسی قوم کی طرف منسوب کیا جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں، تو اس کا اللہ (کے دین اور رحمت) کے ساتھ کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں اور اللہ اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا، اور (اسی طرح) اگر کوئی آدمی اپنے بچے کا انکار کرے جبکہ وہ (بچہ) اس کی طرف دیکھ رہا ہو تو روزِ قیامت اللہ اس سے حجاب فرما لے گا (اسے اپنے دیدار سے محروم کر دے گا) اور اسے تمام مخلوق کی موجودگی میں رسوا کرے گا“۔
ابوداؤد، کتاب الطلاق 2263۔ النسائي في الطلاق 147/6۔
باب العقيقة
عقیقہ کے متعلق احکامات
① سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما ، وأميطوا عنه الأذىٰ
”لڑکے کے ساتھ عقیقہ لگا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے (عقیقہ کر کے) خون بہاؤ اور اس کی طرف سے تکلیف دور کرو“۔
بخاری، کتاب العقيقة 5471، 5472۔ ابوداؤد، کتاب الضحايا 2839۔ ترمذی، کتاب الاضاحی 1515۔
② سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع ويحلق رأسه ويسمىٰ
”لڑکا اپنے عقیقے کی وجہ سے رہن رکھا ہوتا ہے، (پیدائش سے) ساتویں روز اس کی طرف سے (دو جانور) ذبح کیے جائیں گے، اس کا سر منڈایا جائے گا اور نام رکھا جائے گا“۔
ترمذی، کتاب الاضاحی 1522۔ ابوداؤد، کتاب الضحايا 2838۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔
ترمذى، كتاب الذبائح 1513۔ ابن ماجه، كتاب الذبائح 3163۔ روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منصبِ نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اپنا عقیقہ کیا۔
بزار 1337۔ یہ روایت باطل ہے صحیح نہیں۔ اس کی سند میں عبداللہ بن المحرراوی انتہائی ضعیف ہے۔