تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا: ” مَعِيْشَةً “} زندگی، وہ چیزیں جن پر زندگی گزرتی ہے، مثلاً کھانا پینا اور دوسری ضروریات۔ (قاموس) {” ضَنْكًا “ ” ضَنُكَ يَضْنُكُ ضَنْكًا وَضُنَاكًا وَ ضَنَاكَةً “} مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس لیے {” مَعِيْشَةً “} کی صفت ہونے کے باوجود لفظ میں تبدیلی نہیں ہوئی، یہ واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی رہتا ہے، یعنی وہ تنگی والی زندگی گزارے گا۔ اس کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اس لیے وہ سب سے راجح ہے۔ صحیح ابن حبان میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزو جل کے اس قول {” فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا “} کے متعلق روایت کیا، آپ نے فرمایا: ({عَذَابُ الْقَبْرِ }) ”(مراد) عذاب قبر ہے۔“ {” اَلتَّفْسِيْرُ الصَّحِيْحُ الْمَسْبُوْرُ “} میں اسے الاحسان (۳۱۱۹)، مستدرک حاکم (۱؍۳۸۱، ح: ۱۴۰۵) اور کئی کتابوں سے نقل کیا گیا ہے اور مختلف ائمہ سے اس کا حسن، جید یا صحیح ہونا بھی نقل کیا گیا ہے۔ امام طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے حسن سند کے ساتھ اس کی تفسیر ”الشقاء“ فرمائی ہے۔ ”الشقاء“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ طہ (۲) {” مَعِيْشَةً ضَنْكًا “} کے الفاظ میں دنیا اور قبر دونوں کی تنگ زندگی شامل ہے۔ اللہ کی نصیحت سے منہ موڑنے والا شخص اللہ پر توکل اور اس کے عطا کردہ پر قناعت سے محرومی کی وجہ سے ہر وقت زیادہ سے زیادہ مال و جاہ کی ہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ مال کی دو وادیاں ملنے پر تیسری کی تلاش میں چل نکلتا ہے۔ باؤلے کتے کی پیاس کی طرح اس کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ اربوں کھربوں کا مالک ہونے کے باوجود فقیر ہوتا ہے، حرص اور بخل کی کمینگی کی وجہ سے اسے کسی کی دلی محبت حاصل نہیں رہتی۔ اموال و اولاد اس کے لیے راحت بننے کے بجائے اللہ کی طرف سے عذاب بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵، ۸۵) پھر وہ وقت آ جاتا ہے کہ اسے گولیوں کے بغیر نیند نہیں آتی اور ہر آسائش حاصل ہوتے ہوئے بھی اسے اس رنج و الم سے بھری ہوئی زندگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت خود کشی کے سوا نظر نہیں آتی۔ یقین نہ ہو تو جاپان، سویڈن، ناروے وغیرہ میں خود کشی کا تناسب دیکھ لیں۔
➌ { وَ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى:} دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے کان اور آنکھیں بند کر لینے اور حق کو تسلیم نہ کرنے کی پاداش میں قیامت کے دن اسے اندھا، گونگا اور بہرا کرکے اٹھایا جائے گا۔ (بنی اسرائیل: ۹۷) قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے۔ دیکھیے سورۂ معارج (۴) اس کے مختلف اوقات میں لوگوں کے احوال مختلف ہوں گے۔ قبر سے اٹھتے وقت وہ اندھا ہو گا، پھر جہنم کی ہولناکی اور اہل ایمان کی عزت دکھانے کے لیے بینا کر دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ طور (۱۴، ۱۵) اور سورۂ مریم (۳۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔
کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف]
اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔ }
جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97]۔ ’ یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ‘ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔
پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:51]۔ ’ آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ ‘
پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومَنْ أعرضَ عن ذِكْري}؛ أي: كتابي الذي يُتَذَكَّر به جميع المطالب العالية، وأن يتركه على وجه الإعراض عنه أو ما هو أعظم من ذلك؛ بأن يكون على وجه الإنكار له والكفر به. {فإنَّ له معيشةً ضنكاً}؛ أي: فإنَّ جزاءه أن نَجْعَلَ معيشَته ضيقةً مشقَّةً، ولا يكون ذلك إلاَّ عذاباً. وفُسِّرت المعيشةُ الضَّنْك بعذاب القبر، وأنَّه يُضَيَّقُ عليه قبرُه، ويُحْصَرُ فيه، ويعذَّبُ جزاءً لإعراضِهِ عن ذِكْرِ ربِّه، وهذه إحدى الآيات الدالَّة على عذاب القبر.
والثانية: قوله تعالى: {ولو تَرَى إذِ الظالمونَ في غَمَراتِ الموتِ والملائكةُ باسطو أيديهم ... } الآية.
والثالثة: قوله: {وَلَنُذيقَنَّهم من العذابِ الأدنى دونَ العذابِ الأكبرِ}.
والرابعة: قوله عن آل فرعون: {النارُ يُعْرَضونَ عليها غُدُوًّا وعَشِيًّا ... } الآية.
والذي أوجب لمن فسرها بعذاب القبر فقط من السلف وقصروها على ذلك ـ والله أعلم ـ آخر الآية، وأنَّ الله ذَكَرَ في آخرها عذابَ يوم القيامة.
وبعض المفسِّرين يرى أن المعيشة الضَّنْكَ عامَّة في دار الدنيا؛ بما يُصيبُ المعرِضَ عن ذِكْرِ ربِّه من الهموم والغموم والآلام، التي هي عذابٌ معجَّل، وفي دار البرزخ، وفي الدار الآخرة؛ لإطلاق المعيشة الضَّنْكِ وعدم تقييدها. {ونحشُرُه}؛ أي: هذا المعرض عن ذِكْر ربِّه {يومَ القيامةِ أعمى}: البصر على الصحيح؛ كما قال تعالى: {ونحشُرُهم يومَ القِيامة على وجوهِهِم عُمْياً وبُكْماً وصُمًّا}.