”ابوتراب“ والی روایات اور مدینہ کا امیر: انجینئر مرزا کی دوسری دلیل کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

دلیل نمبر:2

مرزا صاحب اس روایت کے دو طرق بیان کیا کرتے ہیں، ایک صحیح بخاری اور دوسرا صحیح مسلم سے، صحیح بخاری کی روایت یہ ہے: جناب ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فَقَالَ هَذَا فُلَانٌ- لِأَمِيرِ الْمَدِينَةِ- يَدْعُو عَلِيًّا عِنْدَ الْمِنْبَرِ- قَالَ فَيَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ يَقُولُ لَهُ: أَبُو تُرَابٍ، فَضَحِكَ، قَالَ: وَاللهِ، مَا سَمَّاهُ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا كَانَ لَهُ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ، فَاسْتَطْعَمْتُ الْحَدِيثَ سَهْلًا، وَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، كَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَاضْطَجَعَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟“ قَالَتْ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَوَجَدَ رِدَاءَهُ قَدْ سَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَخَلَصَ التُّرَابُ إِلَى ظَهْرِهِ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، فَيَقُولُ: ”اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ“. مَرَّتَيْنِ۔
”ایک شخص حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ فلاں شخص- مدینہ کا امیر- منبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ کیا کہتا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ”ابوتراب“ کہتا ہے۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ اس پر مسکرانے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ نام تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھا ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس نام سے بڑھ کر اور کوئی نام محبوب نہیں تھا۔ (وہ شخص کہتا ہے کہ) میں نے سہل رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے جاننے کے لیے خواہش ظاہر کی اور عرض کیا: اے ابوعباس! یہ مکمل واقعہ کس طرح سے ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے، اور پھر (ناراضگی کے سبب) باہر نکلے اور مسجد میں لیٹ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) دریافت فرمایا، تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مسجد میں ہیں۔ آپ مسجد میں تشریف لائے، دیکھا تو ان کی چادر پشت سے ہٹ چکی تھی اور ان کی کمر پر خاک لگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کمر سے مٹی صاف فرمانے لگے اور آپ فرما رہے تھے: اٹھو اے ابوتراب اٹھو! دو مرتبہ آپ نے فرمایا۔“ (صحیح بخاری:3703)
اب آپ سوچیں گے کہ اس روایت میں ایسا کیا ہے؟ تو عرض ہے کہ روایت میں اگرچہ کچھ نہیں مگر مرزا صاحب نے اپنی دقیق نظر سے یہ استدلال کیا ہے کہ بنو امیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حقارت کے ساتھ ابوتراب کہا کرتے تھے، اور اس کی دلیل کیا ہے؟ دلیل ہے مرزا صاحب کی قائم کردہ بریکٹیں، آپ اس روایت کو اپنے ریسرچ پیپر میں اسی عنوان کے تحت ان الفاظ کے ساتھ لکھتے ہیں:

”صحیح بخاری کی حدیث میں ہے: سیدنا ابوحازم تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بتانے لگا کہ فلاں (بنو امیہ سے تعلق رکھنے والا) شخص جو امیر مدینہ ہے، [اپنے منبر پر] سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا (بُرے انداز سے) ذکر کرتا ہے (سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے) پوچھا وہ کیا کہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ (حقارت سے) ان (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کو ابوتراب (یعنی مٹی والا) کہتا ہے……….“

یہ گستاخ شخص کون تھا ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، مگر یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اس روایت میں اس بات کا کوئی سراغ نہیں کہ یہ شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حقارت کے ساتھ ابوتراب کہہ رہا تھا، یہ تو مرزا صاحب کی بریکٹ سے ہی انکشاف سامنے آیا ہے۔ بلکہ جو شخص حضرت سہل رضی اللہ عنہ کے پاس اس واقعہ کی خبر لے کر آیا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کنیت اور اس کے پیچھے موجود واقعہ سے ہی بے خبر تھا، اسی وجہ سے اس نے اس امیر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب کہنے پر تعجب کیا، کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مٹی والا کہہ رہا ہے! وہ تو پھر اسے بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ کنیت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی تھی۔ لہٰذا یہ مرزا صاحب کی دھوکے بازی ہے کہ بنو امیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ”ابوتراب“ حقارت سے کہتے تھے۔ اور اس کی وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ مرزا صاحب اسی بنیاد پر یہی الزام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھی لگاتے ہیں، اور انہوں نے ایک اصول گھڑ لیا ہے کہ بنو امیہ جب ابوتراب کہیں تو سمجھ جاؤ کہ یہ حقارت سے کہہ رہے ہیں، اور جہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کنیت سے انہیں ذکر کیا ہو، تو مرزا صاحب یہی اشکال پیدا کرتے ہیں کہ بنو امیہ حقارت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب کہتے تھے۔ اور یہ جس بنیاد پر کہا جاتا ہے وہ دلیل آپ کے سامنے ہے۔ اگر اس امیر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حقارت ہی سے ابوتراب کہا تو اس سے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا کیا تعلق ہے؟ اور یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی نعوذ باللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حقارت سے ابوتراب کہتے؟
صحیح مسلم کی روایت: عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ، لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ انْظُرْ، أَيْنَ هُوَ؟ فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ۔
”جناب سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آل مروان میں سے ایک شخص کو مدینہ کا امیر بنایا گیا۔ اس نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، اس نے کہا: اگر آپ اس سے انکار کرتے ہیں تو یوں کہہ دیں کہ اللہ ابوتراب پر لعنت کرے۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک ابوتراب سے بڑھ کر کوئی نام محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو ابوتراب کے نام سے بلایا جاتا تو وہ بہت خوش ہوتے تھے۔ تو اس (امیر) نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے یہ قصہ سنائیں کہ انہیں ابوتراب کا نام کیسے ملا؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو گھر میں علی رضی اللہ عنہ کو موجود نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) پوچھا: تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ انھوں نے بتایا: میرے اور ان کے درمیان کوئی بات ہو گئی تھی تو مجھ سے غصہ ہو کر باہر چلے گئے ہیں، اور میرے ہاں قیلولہ بھی نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آدمی سے کہا: دیکھو، وہ کہاں ہیں؟ اس نے واپس آ کر بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ مسجد میں لیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ لیٹے ہوئے تھے، اوپر کی چادر ان کے پہلو سے گر گئی تھی اور ان کے جسم پر مٹی لگ گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے وہ مٹی صاف کرتے جاتے اور فرماتے: اٹھ جاؤ ابوتراب! اٹھ جاؤ ابوتراب!“ (صحیح مسلم:2409)
تو یہ ہے مرزا صاحب کی پیش کردہ دلیل، کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو سَب کرنے کا حکم دیا اس سے مراد لعنت کرنا ہے۔ اور کہا کرتے ہیں کہ سَب کا مطلب ہے لعنت! کیوں کہ خود امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کا ترجمہ لعنت کیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں سَب کا مطلب لعنت کرنا ہے، کیوں کہ دوسری حدیث میں سَب کی جگہ لعنت آیا ہے، کہ اس شخص نے کہا کہ ابوتراب پر لعنت کر دو۔
حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے، نہ تو امام مسلم رحمہ اللہ نے سَب کا ترجمہ لعنت کیا ہے، اور نہ ہی اس لعنت والی روایت کا اس پہلے (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) والی روایت کے ساتھ کوئی تعلق ہے، جب یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں تو دونوں کو ملانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
اِس روایت میں واضح ہے کہ یہ گستاخ شخص بنو مروان میں سے تھا، نہ کہ بنی معاویہ رضی اللہ عنہ سے، اب کہاں مروان کی اولاد اور کہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تو اس مجہول شخص کی اس گستاخی کا وبال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیسے جاتا ہے؟ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ یہ سب (لعنت اور گالیاں) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ہوتا تھا۔ لیکن نہ تو اس روایت میں ایسا کچھ ہے کہ یہ سب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ہوا، نہ ہی اس روایت میں ایسی کوئی صراحت موجود ہے کہ اس واقعہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور جناب سعد رضی اللہ عنہ والے واقعہ سے کوئی تعلق ہے! تو جب ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو یہ سراسر صحابی رسول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر بہتان ہے، کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنے کا حکم دیا (نعوذ باللہ)۔ نہ تو ساری زندگی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی ایسا کیا اور نہ ہی اس کے کرنے کا حکم ہی دیا۔ دعویٰ تو مرزا صاحب نے بہت بڑا کیا ہے کہ جی جو باتیں مودودی صاحب نے تاریخ سے کی ہیں، میں نے وہ احادیث کی کتابوں سے ثابت کیا ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ انجینئر صاحب کے استدلالات تو مودودی صاحب کے دلائل سے بھی زیادہ فضول ہیں۔
نہ تو مرزا صاحب نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ظالم شخص کون تھا، اور اسے امیر کس نے مقرر کیا تھا، اور یہ واقعہ کب کا ہے؟
جب اس میں اتنے ابہام ہیں تو اس کی نسبت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا اور اس بنا پر ان پر طعن کرنا کتنا بڑا ظلم ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحیح قول کے مطابق ”60ھ“ میں وفات پائے (الإصابة: 122/6)۔ جبکہ جناب سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ میں وفات پانے والے صحابہ میں سب سے آخری صحابی ہیں، اور آپ ”91ھ“ میں وفات پائے (الإصابة:167/3)۔ یعنی اس تحقیق کے مطابق سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد تقریباً 31 سال حیات رہے۔ اب اس بات کا غالب احتمال موجود ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ والا واقعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کا ہے۔ تو جب یہ امیر مدینہ ہی مجہول ہے، اور یہ کس کے دور میں امیر بنایا گیا یہ بھی مذکور نہیں تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ تو محض الزام تراشی ہے۔ دلائل کے نام پر آپ لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ جو بات نہ ہی انہوں نے کہی اور جو کام نہ ہی انہوں نے کیا، آپ ایسے ہر کام کی نسبت ان کی طرف کر دیتے ہیں، اور دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ جی ہر بات حوالے سے کی جاتی ہے۔ تو یہ مرزا صاحب کے حوالے بھی آپ کے سامنے ہی ہیں۔
یعنی آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بنو امیہ خاندان میں سے ہیں، تو اب بنو امیہ کی ساتویں پشت سے اٹھ کر بھی اگر کوئی غلط کام کرے، تو اس کے قصور وار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی ہیں، اور اس غلط کام کی نسبت انہی کی طرف کی جائے گی؟ کوئی تو اللہ کا خوف کریں!

مرزا صاحب کے استدلال پر ایک اینکر کا سادہ سا منہ توڑ جواب:

انجینئر صاحب کا انٹرویو لیتے ہوئے ایک اینکر نے اس مسئلے پر سوال کرتے ہوئے کہا:

” اور اس کے اوپر آپ بات کرتے ہیں 4230 کی اس کے اندر ہے کہ proper سَب کا لفظ موجود ہے صحیح مسلم کے اندر موجود ہے“۔

تو مرزا صاحب حوالے کی اصلاح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”6229“
اینکر صاحب کہتے ہیں: ”تو اب یہاں پہ جو ہے عرفان شاہ مشہدی صاحب اس حدیث کو ایکسپلین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں جو سَب کا مطلب ہے وہ کچھ اور ہے، کچھ اور سینس ہے، آپ آتے ہیں اُدھر کی حدیث اٹھا کے کبھی آپ دوسری کتابوں سے اٹھا کے اسے میچ کرنے کی (کوشش کرتے ہیں)۔“
اس پر انجینئر صاحب کہتے ہیں: ”میچ کرنے کی ضرورت نہیں میرے بھائی صحیح مسلم 6229 حدیث کھول لیں اس میں سَب کا ترجمہ خود ہوا ہے، امام مسلم نے نقل کیا وہ کہتے تھے: ابوتراب علی ابن ابی طالب پر لعنت، جب لعنت کا لفظ موجود ہے تو!“
اس پر اینکر صاحب سوال کرتے ہیں: ”کس نے دی تھی لعنت؟“
انجینئر صاحب جواب دیتے ہیں:

”بنو مروان نے بنو امیہ نے!“

اینکر صاحب جواب دیتے ہیں: ”تو بنو مروان ذمہ دار ہوا نہ، تو یہاں حضرت معاویہ پر بات چل رہی ہے!“
تو فوراً مرزا صاحب اپنی چَرب زبان کو حرکت میں لاتے ہیں: ”ہاں نہیں وہ حضرت معاویہ والی علیحدہ سے حدیثیں ہیں!“
(پھر مرزا صاحب اینکر کی بات کا جواب دینے کی بجائے، بات کو گھما گئے)۔
Hazrat Ali R. A par LANAT kon karwata Tha-1:15/ 3:29
اب آپ کے سامنے ہے کہ مرزا صاحب کے پیش کردہ دلائل اتنے پائیدار ہیں کہ ایک اینکر نے انہیں لاجواب کر دیا، اور آپ کے بے بنیاد استدلال کا جواب دیا۔ اور مرزا صاحب اپنی اسی علمی جہالت کے سبب کسی عالم کے سامنے بیٹھ کر بات نہیں کرتے، ورنہ آپ کے حوالوں کی حقیقت سامنے آ جائے۔ آپ کے یہ فضول استدلالات آپ کے سامنے بیٹھے جہلاء کے سامنے تو چل سکتے ہیں مگر کسی صاحب عقل کے سامنے نہیں۔
اینکر کے اعتراض کہ ”آپ کہیں کی روایت اٹھا کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے ساتھ میچ کرتے ہیں“ کے جواب میں مرزا صاحب نے کہا کہ: ”بھائی میچ کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں!“ حالانکہ اس قدر دھوکے باز اور فراڈ ہیں کہ پھر اس مدینہ کے حاکم والی روایت کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ساتھ ملا رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں واقعات کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ اور ساتھ کہہ رہے ہیں کہ میچ کرنے کی ضرورت نہیں اور پھر میچ کیے بھی جا رہے ہیں۔
پھر فرماتے ہیں امام مسلم رحمہ اللہ نے نقل کیا وہ کہتے تھے: ابوتراب علی ابن ابی طالب پر لعنت، جب لعنت کا لفظ موجود ہے………… حالانکہ یہ بھی انجینئر صاحب کا بہت بڑا جھوٹ ہے۔ صحیح مسلم میں ایسا کچھ بھی موجود نہیں، نہ ہی امام مسلم رحمہ اللہ نے لفظ سَب کی وضاحت کی ہے اور نہ ہی ان دو الگ الگ روایات کو ملایا ہے، آپ صحیح مسلم کھول کر مشاہدہ بھی کر سکتے ہیں، بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق حدیث اور اس دوسری حدیث کہ جسے مرزا صاحب پہلی روایت سے میچ کرتے ہیں میں پانچ روایات کا فاصلہ ہے، تو کہاں سے ایک روایت کو اٹھا کر مرزا صاحب کہاں پر موجود دوسری روایت کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، اور ظلم پر ظلم یہ ہے کہ پھر اس کی نسبت امام مسلم رحمہ اللہ کی طرف کی جا رہی ہے، کہ انہوں نے بتایا ہے کہ سَب کا مطلب ہے لعنت۔ اب ایک لطیفہ سنیں! جناب انجینئر صاحب کہتے ہیں:

”میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج یہ ہمارا پلیٹ فارم اللہ کے فضل سے علم حدیث کے حوالے سے جو خدمت کر رہا ہے، آج اگر امام مسلم رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو یقیناً گریڈنگ میں پہلا نمبر ہمارے اس پلیٹ فارم کو دیتے کہ ہم نے امام مسلم کے اس منہج کو ”جو محدثین کا منہج انہوں نے ایک جگہ جمع کیا تھا“ وہ عام مسلمانوں تک پہنچا دیا ہے۔“

Imam Muslim became Shiah?8:35
مزید فرماتے ہیں: ”کہ حق گوئی کا جس طرح ہمارے پلیٹ فارم سے مظاہرہ ہو رہا ہے اس کی مثال دینا شاید ممکن نہیں ہے، اگر آپ کو کوئی مثال ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔“
Imam Hassan ka qatil kon-1:07
خیر اینکر کو جو مرزا صاحب نے کہا: ”نہیں، وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق احادیث علیحدہ سے ہیں“! تو بھائی جان جو علیحدہ سے ہیں وہ پیش کریں نا، آپ تو اسے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذمے لگا رہے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ اس روایت کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، وہ واقعہ اور ہے، اور یہ والی روایت کوئی اور ہے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے لعنت اور گالیاں دی جاتی، تو اس روایت میں کہاں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لعنت یا گالی دی؟ یا اس کا حکم دیا؟ یا یہ واقعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کا ہے؟ لہٰذا اس قبیح حرکت کا وبال اسی امیر پر ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس سے بری ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی کو ایسا حکم نہیں دیا اور جس روایت میں سَب کے الفاظ ہیں تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ اس کا مطلب گالی یا لعنت ہرگز نہیں۔
اینکر صاحب کے الزامی جواب کے بعد مرزا صاحب نے جو کہا کہ نہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق علیحدہ احادیث موجود ہیں، تو اس سے ثابت ہوا کہ اس روایت کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں، تو جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق الگ سے روایات ہیں وہ بھی دیکھ لیں: