آئمہ وشارحین کے نزدیک یہاں لفظ ”سَب“ سے کیا مراد ہے؟
ہمارا مدعا دلائل کے ساتھ بھی بالکل واضح ہے، اب صحیح مسلم کی اس روایت کے متعلق شارحین کی آراء بھی دیکھ لیں، اور یہ کہ انہوں نے یہاں ”سَب“ سے کیا مراد لی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا:
قَالُوا وَيَحْتَمِلُ تَأْوِيلًا آخَرَ أَنَّ مَعْنَاهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخَطِّئَهُ فِي رَأْيِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَتُظْهِرَ لِلنَّاسِ حُسْنَ رَأْيِنَا وَاجْتِهَادِنَا وَأَنَّهُ أَخْطَأَ قَوْلُهُ۔
”علماء کہتے ہیں کہ اس میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ان (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) کی مراد یہ ہے کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ انہیں (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) ان کی رائے اور اجتہاد میں غلط کہیں، اور لوگوں میں ہماری رائے اور اجتہاد کی تصحیح کریں۔“ (شرح النووی علی مسلم:176،175/15)
امام ابو العباس قرطبی رحمہ اللہ:
آپ لکھتے ہیں کہ یہ بعید ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کریں یا انہیں برا بھلا کہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو دین داری، حلم و بردباری اور اچھے ترین اخلاق جیسی صفات کے مالک تھے، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جو بھی روایات حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سَب کرنے کے حوالے سے مروی ہیں ان میں سے اکثر تو جھوٹی اور ضعیف ہیں، اور اگر صحیح روایت ہے تو وہ یہی (مسلم کی زیر بحث) روایت ہے، مگر اس میں بھی یہ صراحت نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ہو۔ اور جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جواب سنا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش بھی ہو گئے۔
اور آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق اجتہاد کو غلط قرار دینے کے متعلق فرما رہے ہوں۔ (المفہم:278/6)
مرزا صاحب ”مسئلہ 157 پارٹ اے“ میں کہتے ہیں کہ بتائیں اہل سنت کے أئمہ میں سے کس نے اس کا انکار کیا ہے کہ بنو امیہ کے دور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر منبروں پر لعنت نہیں ہوتی تھی (دورانیہ 1:22:33) اور بنو امیہ سے مراد یہ جناب معاویہ ہی کو لیتے ہیں۔ اول تو یہ بیوقوفی ہے کہ دعویٰ تو آپ کریں اور دلیل ہم سے مانگیں، دوسری بات یہ کہ یہ لیں کر لیں شوق پورا!! امام صاحب رحمہ اللہ فرما رہے ہیں: یہ بعید ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کریں یا انہیں برا بھلا کہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو دین داری، حلم و بردباری اور اچھے ترین اخلاق جیسی صفات کے مالک تھے۔
علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فمن الممكن أن يريد معاوية من سعد بقوله: "ما منعك أن تسب أبا تراب” أي يظهر للناس خطأه فى رأيه، وإن رأينا ما نحن عليه أشد وأصوب۔
”یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس بات ”آپ ابوتراب پر سب کیوں نہیں کرتے“ سے ان کی مراد یہ ہو کہ لوگوں میں ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی غلطی کو واضح کریں، اور یہ کہ ہماری رائے زیادہ مضبوط اور درست ہے۔“ (اکمال المعلم بفوائد مسلم:416/7)
علامہ مازری نے بھی اس کی شرح میں علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ کی بات نقل فرمائی۔ (المعلم بفوائد مسلم:247/3)۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ اس سے کسی کی غلطی بیان کرنا یا اختلاف رائے رکھنا بھی مراد ہو سکتا ہے، اور ہمارے لیے لازم ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق حسن ظن ہی رکھیں، یہی اہل سنت کا منہج ہے۔ اور أئمہ کرام نے یہاں سَب سے مراد گالی بالکل نہیں لی نہ ہی وہ باتیں ہی کی ہیں جو مرزا صاحب کرتے رہتے ہیں۔
مرزا صاحب حدیث قرطاس کے بیان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بات کے متعلق فرماتے ہیں:
”اس میں دو الفاظ ہیں جو میں چاہ رہا ہوں کہ میں ان کو یہاں پر ہی address کر دوں جو بڑے خطرناک الفاظ ہیں، ایک لفظ وہ ہے جو سیدنا عمر کی زبان سے نکلا، اس کا میں عربی جو wordings ہیں وہ میں پڑھتا ہوں جو پہلی والی طرق میں تھی: ”غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی شدت ہے ”وَجَعُ“ کہتے ہیں شدید بیمار ہونا، اب اس بات کی تاویل بھی ہو سکتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کہنے کا مقصد یہ ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، تنگ نہ کرو، تکلیف میں ہیں۔ اور دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ معاذ اللہ جو باقی لوگوں نے کہی، تو سیدنا عمر کے بارے میں تو ہم یہ گمان نہیں کرتے کیونکہ یہاں الفاظ کی تاویل ممکن ہے تو یہاں ہم تاویل کریں گے، کیونکہ جب دونوں طرف مطلب جاتا ہے تو ایک مسلم سے positive حسن ظن رکھنا چاہیے، لیکن جو دوسری روایت ہے نہ: ہائے جمعرات کا دن، اس میں سیدنا عمر کے الفاظ نہیں ہیں اس میں ہے کہ لوگوں نے کہا، اور ظاہر ہے کہ اس وقت بھی سارے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ تو نہیں تھے……………………“
55-b- Mas’alah Wassi- e- RASOOL kon hai? – 46:28
مرزا صاحب کا بیان کردہ اصول کیا ہے؟ کہ جب مطلب دونوں طرف جاتا ہو تو ہم مثبت معنی لیں گے، اور فرمایا کہ ایک مسلم سے حسن ظن رکھنا چاہیے۔ تو مرزا صاحب! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نا صرف ایک مسلمان ہیں بلکہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مگر پھر بھی مرزا صاحب کا دوغلہ پن آپ کے سامنے ہی ہے۔
غور کریں! اگر تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ گالی دینے کا ہی حکم دے رہے تھے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ گالی کی حرمت پر حدیث سنانے کی بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر کیوں حدیث سنا رہے ہیں؟ یعنی گالی نکالنا تو ہر صورت میں ہر شخص کے لیے حرام ہے، تو اگر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو واقعی گالی نکالنے کا حکم دیا جا رہا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو تو یہ بیان کرنا چاہیے تھا کہ گالی نکالنا تو حرام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، لہٰذا میں کبھی گالی نہیں نکالوں گا۔ مگر وہ ایسا کچھ نہیں فرما رہے، اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بات گالی کی نہیں ہو رہی۔
جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا رجوع:
اسی قصے میں ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بیان فرمائیں تو آپ خاموش ہو گئے اور اس کے بعد کبھی بھی ایسی کوئی بات نہیں کی، سنن نسائی الکبریٰ میں (مرزا صاحب کی پیش کردہ) اسی روایت کے آخر پر ہے کہ: وَاللهِ مَا ذَكَرَهُ مُعَاوِيَةُ بِحَرْفٍ حَتّٰى خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ۔
”اللہ کی قسم اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ایک حرف نہیں کہا حتیٰ کہ آپ مدینہ سے روانہ ہوئے۔“ (سنن الکبریٰ للنسائی:8385)
اس کی سند حسن ہے، بلکہ مرزا صاحب نے خود اپنے ریسرچ پیپر میں اس روایت کو نقل کر کے لکھا: قال الشيخ غلام مصطفى في خصائص علي: اسناد صحيح۔
مگر افسوس ہے کہ اس روایت کے پہلے حصے پر تو بہت زور دیا جاتا ہے، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے کے لیے اسے بڑا اچھالا جاتا ہے، مگر اسی روایت میں ایک مثبت پہلو بھی موجود ہے، کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے اس فعل سے منع ہو گئے، اور اس واقعہ کے بعد بھی آپ سے ثابت نہیں کہ کبھی آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف تبصرہ کیا ہو۔ لہٰذا ان کے اس رجوع کے بعد ہرگز جائز نہیں کہ اسے بنیاد بنا کر ان پر طعن کیا جائے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ تم لوگ یہ حدیثیں چھپاتے ہو، اور میں کوئی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن نہیں کرتا بلکہ صرف حق بیان کرتا ہوں، اور غلطی بیان کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم یہ سب جھوٹ ہے، اگر آپ کی نیت واقعی یہی ہے تو آپ اسی میں موجود مثبت پہلو کو بیان کر کے کوئی مثبت تاثر کیوں نہیں دیتے؟ اور یہ بھی نہایت گھٹیا قسم کا جھوٹ ہے کہ آپ صرف غلطی بیان کرتے ہیں طعن نہیں کرتے، جبکہ آپ کا طرزِ عمل اور لہجہ بتاتا ہے کہ آپ کا مقصد ہی صرف اور صرف ان پر تنقید کرنا ہے، اور آپ غلطی بیان کرنے کے نام پر ان پر محض جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔
اور امام مسلم رحمہ اللہ کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھا ہے کہ میں یہ کتاب عوام الناس کے لیے لکھ رہا ہوں۔ مگر کیا انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ سَب کا ترجمہ گالی ہے، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ساٹھ سال منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی جاتیں؟ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ بغضِ علی اور قبائلی تعصب کی بنا پر کرتے؟ لہٰذا یہ صحیح مسلم اور امام مسلم کے نام پر دھوکہ دینا چھوڑ دیں۔
اس روایت میں آپ کے مدعے کے مطابق کوئی دلیل نہیں ہے، آپ کا مدعا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خود بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے (نعوذ باللہ!) اور اس کا حکم بھی دیتے، اور آپ کے حکم سے منبروں پر بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کی جاتی اور گالیاں دی جاتیں، اور یہ سلسلہ ساٹھ سال تک جاری رہا۔ تو مرزا صاحب! نہ تو اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گالی نکالنے یا برا بھلا کہنے کی بات ہے، نہ ہی گالیوں یا لعنت کرنے کے حکم کا ذکر ہے، نہ ہی کسی منبر پر اس کا ثبوت ہے، اور نہ ہی ساٹھ سالوں کا! ساٹھ سال دور، ساٹھ مہینے دور، ساٹھ ہفتے دور، ساٹھ دن دور بلکہ اس روایت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اس کے بعد کبھی بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ایسا کچھ صادر ہوا ہی نہیں۔ لہٰذا یہ روایت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بیان کرنی چاہیے نہ کہ ان پر تنقید کرنے کے لیے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کی بنیاد پر ان میں سے کسی ایک فریق کے متعلق منفی تاثر عام نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی ان میں سے کسی ایک کے لیے نفرت رکھنی چاہیے اور نہ ہی نفرت پھیلانی چاہیے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس بارے میں ایک بہت ہی خوبصورت قول منقول ہے، آپ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا:
مَا تَقُولُ فِيمَا كَانَ مِنْ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ؟ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ: مَا أَقُولُ فِيهَا إِلَّا الْحُسْنَى، رَحِمَهُمُ اللّٰهُ أَجْمَعِينَ۔
”سیدنا علی و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جو بھی معاملہ تھا آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ تو اس پر امام ابوعبداللہ (احمد بن حنبل) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں تو اس بارے میں صرف اچھی بات ہی کرتا ہوں، اللہ ان تمام (صحابہ) پر رحم فرمائے۔“ (السنة للخلال:713)
الحمد للہ ہم بھی اہل سنت ہی کے منہج پر ہیں، مگر کیا مرزا صاحب کا طرزِ عمل بھی اہل سنت والا ہے؟ اس کا فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔
اسی مسلم کی روایت کی بنا پر مرزا صاحب یہ دھوکا دیتے ہیں کہ جناب سعد رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بہت خلاف تھے، اور پھر اسے کچھ اور ہی رنگ دیتے ہیں جبکہ یہ جھوٹ ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہی سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق جو تبصرہ منقول ہے، کیا انجینئر صاحب اسے بھی کبھی حق گوئی کے نام پر بیان کرتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں:
ما رأيت أحدا بعد عثمان أقضى بحق من صاحب هذا الباب يعني معاوية۔
”میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد اس دروازے والے یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔“ (تاریخ دمشق لابن عساکر:161/59)
شیخ غلام مصطفیٰ امن پوری حفظہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا۔ (دفاع صحابہ:504)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ صحیح مسلم کی اس روایت میں انجینئر صاحب کے مدعے کے مطابق کچھ بھی نہیں، آپ کا بنیادی اعتراض ہی گالیوں اور لعنت پر ہے، اور یہاں نہ ہی گالی کا ذکر ہے نہ ہی لعنت کا، بلکہ اگر اس روایت سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض نکلتا بھی ہے، تو اسی روایت کے مطابق وہ اعتراض رفع بھی ہو جاتا ہے، کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے بعد میں اس سے رجوع فرما لیا تھا، اور پھر کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بات نہیں کی۔
اور یہ روایت اس طرح بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں اور انجینئر صاحب کے خلاف ہے کہ آپ تو یہ جھوٹ بولا کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت ظالمانہ تھی اور ان کے سامنے بولنے والوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا تھا۔ جبکہ یہاں تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بالکل بے خوف ہو کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات کا جواب دیا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان فرمائے، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ردعمل کیا تھا؟ سو فیصد اس کے الٹ جو کہ مرزا صاحب بیان کیا کرتے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے نا صرف ان کی بات سنی بلکہ اس کے بعد اپنے عمل سے رجوع بھی فرمایا اور کبھی اس حوالے سے بات نہیں کی۔
اب مرزا صاحب کی بیان کردہ دلیل بھی دیکھ لیں، کہ جو آپ اس کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ صحیح مسلم کی اس روایت میں سَب سے مراد لعنت یا گالی ہی ہے۔