مضمون کے اہم نکات
علمِ حدیث میں کسی راوی کی ثقاہت اور اس کی روایت کے قابلِ قبول ہونے کا فیصلہ ائمہ جرح و تعدیل کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بعض اوقات کسی راوی کے نام کے ساتھ «الفقیہ» کا لفظ دیکھ کر اسے اس کی توثیق اور حدیث میں قابلِ اعتماد ہونے کی دلیل سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ محض فقیہ ہونا اور روایتِ حدیث میں ثقہ و ضابط ہونا دو الگ اوصاف ہیں۔ ایک شخص فقہی مسائل اور احکامِ شرعیہ کی معرفت رکھ سکتا ہے، لیکن حفظِ حدیث، ضبطِ روایات یا اسناد کی حفاظت میں کمزور بھی ہو سکتا ہے۔ کتبِ رجال میں متعدد ایسے اشخاص کا ذکر موجود ہے جنہیں فقیہ، قاضی یا مفتی کہا گیا، لیکن محدثین نے ان کی روایات پر جرح بھی کی ہے۔ اس کے برعکس بہت سے فقہاء ایسے بھی ہیں جو حدیث میں ثقہ، حافظ اور معتبر امام تسلیم کیے گئے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون کا مقصد ائمہ جرح و تعدیل کی تصریحات سے یہ واضح کرنا ہے کہ «الفقیہ» بذاتِ خود توثیقِ حدیث کا مستقل اور صریح لفظ نہیں، بلکہ کسی شخص کی فقہی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی فقیہ کی روایت قبول کرنے کے لیے اس کی عدالت، صدق، ضبط اور محدثین کے مجموعی اقوال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
کیا لفظ «الفقیہ» جرح و تعدیل میں توثیق شمار ہوتا ہے؟
عربی زبان میں «الفقیہ» اس شخص کو کہا جاتا ہے جو فقہ اور احکامِ شرعیہ کی معرفت رکھتا ہو۔
تاہم علمِ رجال میں کسی شخص کا فقیہ ہونا اس بات کی لازمی ضمانت نہیں کہ وہ حدیث کی روایت میں بھی ثقہ اور مضبوط حافظے کا مالک ہے۔
اس فرق کو سمجھنے کے لیے تین اصطلاحات کا مفہوم سامنے رکھنا ضروری ہے:
① الفقیہ: فقہ اور احکامِ شرعیہ کی معرفت رکھنے والا شخص۔
② الثقہ: ایسا راوی جس میں روایت کی قبولیت کے لیے درکار عدالت اور ضبط کی صفات پائی جاتی ہوں۔
③ الضعیف: ایسا راوی جس کی روایت میں قبولیت کی مطلوبہ شرائط پوری نہ ہوں، خواہ اس کی کمزوری حفظ و ضبط سے متعلق ہو یا کسی دوسرے سبب سے۔
چنانچہ «الفقیہ» کسی شخص کی علمی مہارت کا وصف ہے، جبکہ «الثقہ» روایتِ حدیث میں اس کے قابلِ اعتماد ہونے کی صریح اصطلاح ہے۔
اس اصول کی وضاحت ائمہ محدثین کے درج ذیل اقوال سے ہوتی ہے۔
ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک ایسے فقہاء جن کی روایات پر جرح کی گئی
① ابراہیم بن علی آمدی الفقیہ کے متعلق حافظ ذہبی کا قول
حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ (متوفی 748ھ) نے ابراہیم بن علی آمدی، المعروف ابن الفراء الفقیہ، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
159 – إبراهيم بن علي الآمدي ابن الفراء الفقيه.
روى عن ابن الحصين والفراوي.
كان يكذب في حكاياته.
ذكره ابن الدبيثي، وأنه اعترف بوضع حكايات.
اردو ترجمہ:
ابراہیم بن علی آمدی، ابن الفراء، فقیہ تھا۔ اس نے ابن الحصین اور فراوی سے روایت کی۔
وہ اپنی بیان کردہ حکایات میں جھوٹ بولتا تھا۔
ابن دبیثی رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ اس نے خود حکایات گھڑنے کا اعتراف کیا تھا۔
الكتاب: ميزان الاعتدال في نقد الرجال
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
رقم الترجمة: 159
وضاحت:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ابراہیم بن علی آمدی کے نام کے ساتھ «الفقیہ» کا لفظ استعمال کیا، لیکن اس کے باوجود اس کی حکایات میں جھوٹ بولنے کی صراحت بھی کی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کو فقیہ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر روایت یا بیان قابلِ اعتماد ہے۔
البتہ یہاں جرح کا تعلق خصوصاً اس کی بیان کردہ حکایات سے ہے، اس لیے اس عبارت سے حدیثِ نبوی گھڑنے کا الزام بھی بلا اضافی دلیل ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
② حسن بن صالح بن حی الفقیہ کے متعلق حافظ ذہبی کا بیان
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام حسن بن صالح بن حی رحمہ اللہ کے متعلق لکھا:
1869 -[صح] الحسن بن صالح [م، عو] بن صالح بن حى، الفقيه، أبو عبد الله الهمداني الثوري، أحد الاعلام.
فيه بدعة تشيع قليل، وكان يترك الجمعة.
اردو ترجمہ:
حسن بن صالح بن حی، ابو عبداللہ ہمدانی ثوری، فقیہ اور ممتاز اہلِ علم میں سے ایک تھے۔
ان میں کسی قدر تشیع کا رجحان پایا جاتا تھا اور وہ جمعہ کی نماز ترک کرتے تھے۔
الكتاب: ميزان الاعتدال في نقد الرجال
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
رقم الترجمة: 1869
وضاحت:
اس عبارت میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے حسن بن صالح کو «الفقیہ» اور «أحد الأعلام» قرار دینے کے ساتھ ان کے بعض اعتقادی یا عملی مسائل کا ذکر بھی کیا ہے۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ حسن بن صالح رحمہ اللہ کو متعدد محدثین نے ثقہ اور قابلِ اعتماد بھی قرار دیا ہے۔
لہٰذا اس مثال سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ روایتِ حدیث میں ضعیف تھے، بلکہ یہ واضح ہوتا ہے کہ فقہی مقام، حدیثی ثقاہت اور کسی شخص کے مخصوص اعتقادی یا عملی رجحانات الگ الگ امور ہیں۔
③ محمد بن شجاع ثلجی الفقیہ کے متعلق حافظ ذہبی کی جرح
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے محمد بن شجاع ثلجی کے متعلق لکھا:
الدولابي، حدثنا محمد بن شجاع [ابن] الثلجى، حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن ابن مهدي، قال: … قلت: ابن الثلجى ليس بمصدق على حماد وأمثاله، وقد اتهم. نسأل الله السلامة.
اردو ترجمہ:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ثلجی، حماد اور ان جیسے دوسرے راویوں سے منقول باتوں میں قابلِ تصدیق نہیں، اور اس پر الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔
الكتاب: ميزان الاعتدال في نقد الرجال
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے دوسری کتاب میں اس کا تعارف یوں کروایا:
وفيها محمد بن شجاع بن الثلجي فقيه العراق شيخ الحنفية. …
وصنف واشتغل، وهو متروك الحديث،
اردو ترجمہ:
اسی سال محمد بن شجاع بن ثلجی کا ذکر ملتا ہے، جو عراق کے فقیہ اور احناف کے شیخ تھے۔
انہوں نے تصنیف و تالیف اور علمی مشاغل میں حصہ لیا، لیکن حدیث کی روایت میں انہیں متروک قرار دیا گیا۔
الكتاب: العبر في خبر من غبر
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
وضاحت:
اس مثال میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے محمد بن شجاع ثلجی کو «فقیہ العراق» اور «شیخ الحنفیة» قرار دیا، لیکن حدیث کی روایت کے اعتبار سے اس پر جرح بھی نقل کی۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی شخص کی فقہی مہارت یا کسی فقہی مکتب میں علمی قیادت بذاتِ خود حدیث میں اس کی ثقاہت کی ضمانت نہیں۔
④ عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے متعلق حافظ ابن حجر کا حکم
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (متوفی 852ھ) نے عبداللہ بن زیاد بن سمعان مدنی کے متعلق لکھا:
3326 – عبدُ الله بن زياد بن سليمان بن سِمْعان المخزومي، أبو عبد الرحمن المدني قاضيها: متروكٌ، اتَّهَمه بالكذب أبو داود وغيره، من السابعة. مد ق.
اردو ترجمہ:
عبداللہ بن زیاد بن سلیمان بن سمعان مخزومی، ابو عبدالرحمن مدنی، مدینہ کے قاضی تھے۔
وہ متروک الحدیث ہیں۔ امام ابو داود اور دوسرے محدثین نے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا تعلق ساتویں طبقے سے ہے۔
الكتاب: تحرير تقريب التهذيب للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني
تأليف: الدكتور بشار عواد معروف، الشيخ شعيب الأرنؤوط
رقم الترجمة: 3326
وضاحت:
اس عبارت میں عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے لیے مدینہ کے قاضی ہونے کا وصف موجود ہے، لیکن اس کے باوجود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں متروک قرار دیا اور ان پر جھوٹ کے الزام کا ذکر کیا۔
یہاں «متروک» اور «متہم بالکذب» میں بھی فرق ملحوظ رہنا چاہیے۔ ہر متہم بالکذب راوی کے بارے میں براہِ راست جھوٹ کا قطعی ثبوت یکساں درجے کا نہیں ہوتا۔
یہ مثال واضح کرتی ہے کہ قاضی یا صاحبِ فقہ ہونا روایتِ حدیث میں مستقل توثیق نہیں۔
⑤ مسلم بن خالد زنجی الفقیہ کے متعلق ابن الجوزی کا بیان
علامہ ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) نے مسلم بن خالد زنجی کے متعلق لکھا:
975- مسلم بن خالد بن سعيد بن خرجة، أبو خَالِد. ويلقب: الزنجي.
كان فقيها، عابدا، يصوم الدهر.
توفي بمكة في هذه السنة، لكنه كان كثير الغلط والخطأ في حديثه.
اردو ترجمہ:
مسلم بن خالد بن سعید بن خرجہ، ابو خالد، جنہیں زنجی کہا جاتا تھا۔
وہ فقیہ، عبادت گزار اور مسلسل روزے رکھنے والے شخص تھے۔
اسی سال مکہ مکرمہ میں ان کی وفات ہوئی، لیکن حدیث کی روایت میں ان سے بہت زیادہ غلطیاں اور خطائیں ہوتی تھیں۔
الكتاب: المنتظم في تاريخ الأمم والملوك
المؤلف: جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي (المتوفى: 597هـ)
رقم الترجمة: 975
وضاحت:
اس عبارت میں مسلم بن خالد زنجی کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں: فقاہت، عبادت اور کثرتِ روزہ۔
اس کے باوجود ابن الجوزی رحمہ اللہ نے حدیث کی روایت میں ان کی کثرتِ غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔
اس سے یہ اہم اصول سامنے آتا ہے کہ عبادت، تقویٰ اور فقہی مہارت اپنی جگہ قابلِ قدر صفات ہیں، لیکن حدیث میں ضبط و حفظ کا معیار الگ ہے۔
⑥ موسیٰ بن احمد قرطبی الفقیہ کے متعلق ابن الفرضی کی تصریح
امام ابو الولید ابن الفرضی رحمہ اللہ (متوفی 403ھ) نے موسیٰ بن احمد قرطبی کے متعلق لکھا:
1466 – موسى بن أحْمَد بن سَعِيد بن حسن اليَحْصُبِيّ: من أهل قُرْطُبَة؛ يُكَنَّى: أبا محمد. ويعرف: بالوتد.
وكان يُنْسَبُ إليه تخليط كثير شُهِرَ به وعُرِفَ منه.
اردو ترجمہ:
موسیٰ بن احمد بن سعید بن حسن یحصبی قرطبہ کے رہنے والے تھے۔ ان کی کنیت ابو محمد تھی اور وہ «الوتد» کے نام سے معروف تھے۔
ان کی طرف بہت زیادہ خلط ملط کرنے کی نسبت کی جاتی تھی اور وہ اسی وصف سے مشہور اور پہچانے جاتے تھے۔
الكتاب: تاريخ علماء الأندلس
المؤلف: عبد الله بن محمد بن يوسف بن نصر الأزدي، أبو الوليد، المعروف بابن الفرضي (المتوفى: 403هـ)
رقم الترجمة: 1466
وضاحت:
ابن الفرضی رحمہ اللہ نے موسیٰ بن احمد کے متعلق کثرتِ تخلیط کا ذکر کیا ہے۔
«تخلیط» کا مطلب معاملات یا بیانات میں خلط ملط پیدا کرنا ہے، تاہم اس کے دقیق محل کا تعین سیاق کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔
اس عبارت میں ان کے متعلق کسی دوسرے وصف کی مطلق نفی موجود نہیں، بلکہ خاص طور پر کثرتِ تخلیط کی نشاندہی کی گئی ہے۔
⑦ حماد بن ابی سلیمان الفقیہ کے متعلق ابن ابی حاتم کا بیان
امام ابن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ (متوفی 327ھ) نے حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ کے متعلق نقل کیا:
642 – حماد بن أبي سليمان وهو ابن مسلم … قال أبو محمد يعني أن الغالب عليه الفقه وأنه لم يرزق حفظ الآثار. قال أبو محمد يعني مع سوء حفظ حماد للآثار أحفظ من الحكم.
اردو ترجمہ:
حماد بن ابی سلیمان، جن کا اصل نام حماد بن مسلم تھا۔
ابو محمد ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر فقہ کا علم غالب تھا، لیکن انہیں آثار کے حفظ میں وہ مہارت حاصل نہیں ہوئی تھی۔
پھر فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ حماد، آثار کے حفظ میں کمزوری کے باوجود، حکم سے زیادہ حافظ تھے۔
الكتاب: الجرح والتعديل
المؤلف: أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس ابن أبي حاتم الرازي (المتوفى: 327هـ)
رقم الترجمة: 642
وضاحت:
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کی یہ عبارت مسئلۂ زیرِ بحث میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اس میں صراحت کی گئی ہے کہ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ پر فقہ کا علم غالب تھا، لیکن آثار کے حفظ میں ان کے متعلق نقد موجود تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کی فقہی مہارت اور حدیثی حافظے کا درجہ الگ الگ ہو سکتا ہے۔
البتہ اس سے حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ کی تمام روایات کا مطلق رد لازم نہیں آتا، بلکہ ان کے متعلق تمام ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال دیکھنا ضروری ہے۔
⑧ ابو بکر بن ابی سبرہ، مفتی مدینہ کے متعلق ابن عدی کا قول
امام ابو احمد ابن عدی جرجانی رحمہ اللہ (متوفی 365ھ) نے ابو بکر بن ابی سبرہ کے متعلق لکھا:
2200- أبو بكر بْنِ عَبد اللَّهِ بْنِ مُحَمد بن أبي سبرة مديني مفتي المدينة.
قَالَ الشيخ (أبو أحمد بن عدي): ولأبي بكر بن أبي سَبْرَةَ غَيْرُ مَا ذَكَرْتُ مِنَ الحديث وعامة ما يرويه غير محفوظ روى عنه بن جُرَيج أَحَادِيثَ، وَهو فِي جُمْلَةِ مَنْ يَضَعُ الْحَدِيثَ.
اردو ترجمہ:
ابو بکر بن عبداللہ بن محمد بن ابی سبرہ مدنی تھے اور مدینہ کے مفتی تھے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو بکر بن ابی سبرہ کی ان احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے، لیکن ان کی بیشتر روایات غیر محفوظ ہیں۔
ابن جریج نے بھی ان سے احادیث روایت کی ہیں، اور یہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو احادیث گھڑا کرتے تھے۔
الكتاب: الكامل في ضعفاء الرجال
المؤلف: أبو أحمد عبد الله بن عدي الجرجاني (المتوفى: 365هـ)
رقم الترجمة: 2200
وضاحت:
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ابو بکر بن ابی سبرہ کو «مفتی المدینة» کے لقب سے ذکر کیا، لیکن ساتھ ہی ان کی بیشتر روایات کو غیر محفوظ قرار دیا اور انہیں وضعِ حدیث کرنے والوں میں شمار کیا۔
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ کسی شخص کا مفتی ہونا اس کی روایت میں ثقاہت کی دلیل نہیں۔
یہاں «مفتی المدینة» کا لقب براہِ راست «الفقیہ» کے لفظ سے مختلف ہے، لیکن دونوں کا تعلق فقہی حیثیت اور علمی منصب سے ہے، نہ کہ بذاتِ خود حدیثی توثیق سے۔
⑨ مطہر بن سلیمان الفقیہ کے متعلق امام دارقطنی کا حکم
امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ (متوفی 385ھ) نے مطہر بن سلیمان کے متعلق فرمایا:
16 – وسمعت أبا الحسن يقول: مطهر بن سليمان – يعنى الفقيه – كذاب.
اردو ترجمہ:
ابو بکر برقانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مطہر بن سلیمان، یعنی وہ شخص جو فقیہ کے نام سے معروف تھا، کذاب ہے۔
الكتاب: سؤالات أبى بكر البرقانى للدارقطني في الجرح والتعديل
المؤلف: أحمد بن محمد بن أحمد بن غالب، أبو بكر المعروف بالبرقاني (المتوفى: 425هـ)
رقم الأثر: 16
وضاحت:
اس اثر میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے مطہر بن سلیمان کے لیے «الفقیہ» کی شناخت استعمال کرنے کے باوجود اسے «کذاب» قرار دیا۔
یہ مثال مسئلۂ زیرِ بحث کی نہایت صریح دلیل ہے کہ لفظ «الفقیہ» بذاتِ خود توثیق نہیں، کیونکہ ایک ہی شخص کے لیے فقہی وصف اور سخت حدیثی جرح دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔
⑩ یوسف بن خالد سمتی الفقیہ کے متعلق امام ابن سعد کی جرح
امام محمد بن سعد رحمہ اللہ (متوفی 230ھ) نے یوسف بن خالد سمتی کے متعلق لکھا:
3327- يوسف بن خالد … وكان له بصر بالرأي والفتوى والكتب والشروط. وكان الناس يتقون حديثه لرأيه. وكان ضعيفًا في الحديث.
اردو ترجمہ:
یوسف بن خالد کو رائے، فتویٰ، کتب اور شرائط کے علم میں بصیرت حاصل تھی۔
لوگ اس کی رائے کے سبب اس کی حدیث سے احتیاط کرتے تھے، اور وہ حدیث کی روایت میں ضعیف تھا۔
الكتاب: الطبقات الكبرى
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الهاشمي بالولاء، البصري، البغدادي المعروف بابن سعد (المتوفى: 230هـ)
رقم الترجمة: 3327
وضاحت:
امام ابن سعد رحمہ اللہ کی اس عبارت میں یوسف بن خالد کی فقہی بصیرت اور حدیثی ضعف کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص فقہی آراء، فتاویٰ اور قانونی مسائل میں مہارت رکھتا ہو، لیکن حدیث کی روایت میں کمزور ہو۔
اس لیے کسی شخص کی فقہی قابلیت کا اعتراف اس کی حدیثی کمزوری کو ختم نہیں کرتا۔
⑪ عبداللہ بن محمد قزوینی الفقیہ القاضی کے متعلق ابن یونس مصری کی جرح
امام عبدالرحمن بن احمد بن یونس مصری رحمہ اللہ (متوفی 347ھ) نے عبداللہ بن محمد بن جعفر قزوینی کے متعلق لکھا:
290- عبد الله بن محمد بن جعفر القزوينى … وكان يظهر عبادة وورعا … ووضع أحاديث على متون محفوظة معروفة، وزاد فى نسخ معروفة مشهورة، فافتضح وحرّقت الكتب فى وجهه،
اردو ترجمہ:
عبداللہ بن محمد بن جعفر قزوینی عبادت اور تقویٰ کا اظہار کیا کرتا تھا۔
اس نے معروف اور محفوظ متون پر احادیث گھڑیں اور مشہور و معروف نسخوں میں اضافے کیے، یہاں تک کہ اس کا معاملہ ظاہر ہوگیا اور اس کے سامنے کتابیں جلا دی گئیں۔
الكتاب: تاريخ ابن يونس المصري
المؤلف: عبد الرحمن بن أحمد بن يونس الصدفي، أبو سعيد (المتوفى: 347هـ)
رقم الترجمة: 290
وضاحت:
اس عبارت میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جس کے متعلق عبادت و تقویٰ کا اظہار کرنے کے باوجود احادیث گھڑنے اور معروف نسخوں میں اضافے کرنے کی جرح منقول ہے۔
اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ ظاہری عبادت اور علمی مقام کو روایتِ حدیث میں صدق و ضبط کا قطعی معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
⑫ احمد بن محمد بن مصعب مروزی الفقیہ کے متعلق امام ابن حبان کی جرح
امام ابن حبان بستی رحمہ اللہ (متوفی 354ھ) نے احمد بن محمد بن مصعب مروزی کے متعلق لکھا:
90 – أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن مُصْعَب بْن بشر بْن فضَالة بْن عَبْد اللَّهِ بْن رَاشد بْن موان أَبُو بشر الْفَقِيه من أهل مرو
كَانَ مِمَّن يضع الْمُتُون للآثار ويقلب الْأَسَانِيد للْأَخْبَار حَتَّى غلب قلبه أَخْبَار الثقات
اردو ترجمہ:
احمد بن محمد بن مصعب بن بشر، ابو بشر الفقیہ، مرو کے رہنے والے تھے۔
وہ ان لوگوں میں سے تھے جو آثار کے لیے متون گھڑا کرتے تھے اور روایات کی اسناد کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے، یہاں تک کہ ان کی اسناد میں تبدیلیاں ثقہ راویوں سے منقول روایات پر بھی غالب آ گئیں۔
الكتاب: المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين
المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، البُستي (المتوفى: 354هـ)
رقم الترجمة: 90
وضاحت:
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے احمد بن محمد بن مصعب کے نام کے ساتھ واضح طور پر «الفقیہ» لکھا، لیکن اس کے باوجود اس پر متون گھڑنے اور اسناد میں تبدیلی کرنے کی سخت جرح کی۔
یہ مثال واضح کرتی ہے کہ محض «الفقیہ» کا لقب کسی راوی کی عدالت یا ضبط کی ضمانت نہیں۔
⑬ احمد بن محمد مروزی کے متعلق امام دارقطنی اور دیگر محدثین کی جرح
علامہ سبط ابن العجمی رحمہ اللہ (متوفی 841ھ) نے بھی احمد بن محمد مروزی کے حالات میں متعدد ائمہ کی جرح نقل کی ہے:
90 – أَحْمد بن مُحَمَّد بن عَمْرو بن مُصعب بن بشر بن فضَالة أَبُو بشر الْمروزِي الْفَقِيه …
قَالَ بن حبَان كَانَ مِمَّن يضع الْمُتُون ويقلب الْأَسَانِيد فَاسْتحقَّ التّرْك … وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيّ كَانَ يضع الحَدِيث وَفِي طَبَقَات الْحفاظ للذهبي اخْتِصَار الْحَافِظ شمس الدّين بن عبد الْهَادِي الْحَنْبَلِيّ عَن الدَّارَقُطْنِيّ كَانَ يضع الحَدِيث عَن أَبِيه عَن جده وَعَن غَيرهم وَقَالَ أَبُو سعد الإدريسي مُنكر الحَدِيث يضع الحَدِيث على الثِّقَات قَالَ وَسمعت أَبَا عبد الله مُحَمَّد بن أبي سعيد الْحَافِظ يَقُول كَانَ أَبُو بشر الْمروزِي يضع الحَدِيث
اردو ترجمہ:
احمد بن محمد بن عمرو بن مصعب، ابو بشر مروزی الفقیہ، کے متعلق امام ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ متون گھڑتا اور اسناد کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا، اس لیے اس کی روایات ترک کیے جانے کی مستحق تھیں۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ احادیث گھڑتا تھا۔
اسی طرح اس کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ وہ اپنے والد، دادا اور دوسرے لوگوں کے نام سے احادیث وضع کرتا تھا۔
امام ابو سعد ادریسی رحمہ اللہ نے اسے منکر الحدیث قرار دیا اور فرمایا کہ وہ ثقہ راویوں کے نام سے احادیث گھڑتا تھا۔
امام ابو عبداللہ محمد بن ابی سعید حافظ رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ ابو بشر مروزی احادیث گھڑا کرتا تھا۔
الكتاب: الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث
المؤلف: برهان الدين الحلبي أبو الوفا إبراهيم بن محمد بن خليل الطرابلسي الشافعي سبط ابن العجمي (المتوفى: 841هـ)
رقم الترجمة: 90
وضاحت:
یہاں ایک ہی راوی کے متعلق متعدد محدثین کی جرح نقل ہوئی ہے۔
اس شخص کے لیے «الفقیہ» کا لقب استعمال ہونے کے باوجود محدثین نے اس پر احادیث گھڑنے اور اسناد میں تبدیلی کرنے کے الزامات عائد کیے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رجال کی کتابوں میں راوی کے نام کے ساتھ درج علمی القاب اور اس کی روایت کے متعلق ائمہ کے فیصلے الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں۔
⑭ محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ الفقیہ کے متعلق امام ابن حبان کی جرح
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ انصاری الفقیہ کے متعلق لکھا:
921 – مُحَمَّد بن عبد الرَّحْمَن بن أبي ليلى الْأنْصَارِيّ الْفَقِيه كنيته أَبُو عبد الرَّحْمَن … كَانَ رَدِيء الْحِفْظ كثير الْوَهم فَاحش الْخَطَأ يروي الشَّيْء على التَّوَهُّم وَيحدث على الحسبان فَكثر الْمَنَاكِير فِي رِوَايَته فَاسْتحقَّ التّرْك
اردو ترجمہ:
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ انصاری الفقیہ، جن کی کنیت ابو عبدالرحمن تھی۔
ان کا حافظہ کمزور تھا، وہ کثرت سے وہم کا شکار ہوتے اور بہت بڑی غلطیاں کرتے تھے۔ وہ بعض اوقات وہم کی بنیاد پر روایت بیان کرتے اور محض اندازے سے حدیث نقل کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی روایات میں منکر احادیث کی کثرت ہوگئی اور وہ ترکِ روایت کے مستحق قرار پائے۔
الكتاب: المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين
المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، البُستي (المتوفى: 354هـ)
رقم الترجمة: 921
وضاحت:
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ معروف فقیہ تھے، لیکن امام ابن حبان رحمہ اللہ نے حدیث کی روایت میں ان کے حفظ اور ضبط پر سخت تنقید کی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص فقہ میں ممتاز ہونے کے باوجود حدیث کی روایات محفوظ رکھنے میں کمزور ہو سکتا ہے۔
یہاں جرح کا تعلق خصوصاً حفظ، وہم اور کثرتِ غلطی سے ہے، نہ کہ محض فقہی رجحان سے۔
⑮ جعفر بن محمد الفقیہ کے متعلق خطیب بغدادی کا بیان
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (متوفی 463ھ) نے جعفر بن محمد الفقیہ کے متعلق لکھا:
3566- جعفر بن مُحَمَّد أَبُو مُحَمَّد الفقيه … أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، وَكَانَ فِي لِسَانِهِ شَيْءٌ،
رَوَاهُ أَبُو الصَّلْتِ فَكَذَّبُوهُ
اردو ترجمہ:
جعفر بن محمد ابو محمد الفقیہ کے متعلق ذکر کیا گیا کہ ان کی زبان میں کچھ مسئلہ تھا۔
اور ایک روایت ابو الصلت نے بیان کی تو لوگوں نے اسے جھوٹا قرار دیا۔
الكتاب: تاريخ بغداد
المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)
رقم الترجمة: 3566
وضاحت:
اس عبارت میں دو باتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
پہلی عبارت «وَكَانَ فِي لِسَانِهِ شَيْءٌ» کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زبان یا بولنے میں کوئی مسئلہ تھا۔ محض اس جملے سے جھوٹ بولنے کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔
دوسری عبارت «رَوَاهُ أَبُو الصَّلْتِ فَكَذَّبُوهُ» میں ابو الصلت کی بیان کردہ روایت کو جھٹلانے کا ذکر ہے، نہ کہ لازماً جعفر بن محمد کو جھوٹا قرار دینے کا۔
لہٰذا صرف ان منقول الفاظ سے جعفر بن محمد الفقیہ کو کذاب یا ضعیف ثابت کرنا درست نہیں۔ اس کے لیے مزید متعلقہ جرح درکار ہوگی۔
⑯ عبداللہ بن محمد حارثی الفقیہ کے متعلق علامہ لکھنوی کا قول
علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (متوفی 1304ھ) نے عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی بخاری الفقیہ کے متعلق لکھا:
أبو محمد عبد الله بن محمد بن يعقوب بن الحارث بن الخليل الكلاباذي الفقيه الحارثي السبذمونى المعروف بالأستاذ كان شيخاً مكثراً من الحديث غير أنه كان ضعيف الرواية غير موثوق به فيما ينقله من الرواية
اردو ترجمہ:
ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث بن خلیل کلاباذی الفقیہ حارثی سبذمونی، جو استاد کے لقب سے معروف تھے۔
وہ ایک ایسے شیخ تھے جو کثرت سے احادیث روایت کرتے تھے، لیکن روایت میں ضعیف تھے اور ان کی نقل کردہ روایات میں ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا تھا۔
الكتاب: الفوائد البهية في تراجم الحنفية، ومعه التعليقات السنية
المؤلف: أبو الحسنات محمد عبد الحي اللكنوي الحنفي (المتوفى: 1304هـ)
وضاحت:
علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے عبداللہ بن محمد کے متعلق «الفقیہ» کا لقب استعمال کیا، لیکن ساتھ ہی انہیں ضعیف الروایہ اور نقلِ حدیث میں ناقابلِ اعتماد بھی قرار دیا۔
اس مثال کی اہمیت یہ ہے کہ خود ایک حنفی محقق نے فقیہ ہونے اور روایتِ حدیث میں قابلِ اعتماد ہونے کے درمیان فرق واضح کیا ہے۔
⑰ ابو مطیع بلخی الفقیہ کے متعلق ملا علی قاری کی تصریح
ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (متوفی 1014ھ) نے ابو مطیع بلخی کے متعلق لکھا:
ولا شك أن ابن عبد السلام من أجلّ العلماء وأوثقهم فيجب الاعتماد على نقله لا على ما نقله الشارح مع أن أبا مطيع رجل وضّاع عند أهل الحديث، كما صرّح به غير واحد.
اردو ترجمہ:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن عبدالسلام بڑے جلیل القدر اور نہایت قابلِ اعتماد علماء میں سے ہیں، اس لیے ان کی نقل پر اعتماد کرنا چاہیے، نہ کہ اس روایت پر جسے شارح نے نقل کیا ہے۔
اس کے علاوہ ابو مطیع اہلِ حدیث کے نزدیک حدیث گھڑنے والا شخص ہے، جیسا کہ ایک سے زیادہ محدثین نے اس کی صراحت کی ہے۔
الكتاب: شرح الفقه الأكبر
المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (المتوفى: 1014هـ)
وضاحت:
ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس مقام پر ابو مطیع بلخی کے متعلق محدثین کی سخت جرح نقل کی اور اس کی روایت کے مقابلے میں ابن عبدالسلام کی نقل کو ترجیح دی۔
یہاں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ابو مطیع بلخی ایک فقہی شخصیت تھے، لیکن اس کے باوجود ملا علی قاری نے حدیث میں ان کی روایت پر اعتماد نہیں کیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی راوی کی فقہی شناخت اس کی حدیثی توثیق کے لیے کافی نہیں۔
⑱ ابراہیم بن عثمان قاضی واسط کے متعلق امام قدوری کا قول
امام ابو الحسین قدوری حنفی رحمہ اللہ (متوفی 428ھ) نے ابراہیم بن عثمان، قاضی واسط، کے متعلق لکھا:
632 – ولأن أبا شيبة إبراهيم بن عثمان قاضي واسط كذاب.
اردو ترجمہ:
اس لیے کہ ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان، قاضی واسط، کذاب ہے۔
الكتاب: التجريد
المؤلف: أبو الحسين أحمد بن محمد بن جعفر البغدادي القَدُّوري (362 – 428 هـ)
رقم الموضع: 632
وضاحت:
امام قدوری رحمہ اللہ نے ابراہیم بن عثمان کے متعلق قاضی ہونے کا ذکر کرنے کے باوجود اسے کذاب قرار دیا۔
اس مثال سے بھی واضح ہوتا ہے کہ کسی شخص کا قاضی ہونا حدیث میں اس کی ثقاہت کا لازمی ثبوت نہیں۔
البتہ یہاں «قاضی» کا وصف آیا ہے، «الفقیہ» کا لفظ نہیں۔ اس لیے اس اثر کا تعلق علمی و عدالتی منصب اور روایت کی ثقاہت کے درمیان فرق سے ہے۔
فقیہ کی حدیث کب قابلِ قبول ہوگی؟ حافظ ابن رجب کا اصول
مندرجہ بالا مثالوں کے بعد اصل اصول سمجھنا ضروری ہے کہ فقیہ کی روایت قبول کرنے کے لیے محدثین کن امور کو اہمیت دیتے ہیں۔
حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ (متوفی 795ھ) نے اس سلسلے میں نہایت اہم وضاحت فرمائی ہے:
قلت: هذا إن كان الفقيه حافظاً للمتن، فأما من لا يحفظ متون الأحاديث بألفاظها من الفقهاء، وإنما يروي الحديث بالمعنى فلا ينبغي الاحتجاج بما يرويه من المتون، إلا بما يوافق الثقات في المتون، أو يحدث به من كتاب موثوق به.
اردو ترجمہ:
میں (ابن رجب) کہتا ہوں: یہ حکم اس صورت میں ہے جب فقیہ حدیث کے متن کو محفوظ رکھنے والا ہو۔
لیکن جو فقہاء احادیث کے متون کو ان کے اصل الفاظ کے ساتھ محفوظ نہیں رکھتے، بلکہ حدیث کو معنی کے اعتبار سے روایت کرتے ہیں، تو ان کے بیان کردہ متون سے اس وقت تک استدلال نہیں کرنا چاہیے جب تک ان کی روایت ثقہ راویوں کے متون کے مطابق نہ ہو یا وہ کسی قابلِ اعتماد کتاب سے روایت بیان نہ کریں۔
الكتاب: شرح علل الترمذي
المؤلف: زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، السَلامي، البغدادي، ثم الدمشقي، الحنبلي (المتوفى: 795هـ)
وضاحت:
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کی یہ عبارت مسئلۂ زیرِ بحث میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے فقہاء کی روایت کے بارے میں واضح کیا ہے کہ صرف فقیہ ہونے کی بنا پر ہر روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس بات کا جائزہ بھی ضروری ہے کہ راوی حدیث کے اصل الفاظ کو کس حد تک محفوظ رکھتا ہے۔
خصوصاً جو فقیہ روایت بالمعنی بیان کرتا ہو اور حدیث کے اصل الفاظ محفوظ نہ رکھتا ہو، اس کی روایت کا ثقہ راویوں کی روایات سے تقابل کرنا ضروری ہے۔
اس سے تین اصول سامنے آتے ہیں:
① فقیہ کا حفظِ متن اور ضبطِ روایت دیکھا جائے گا۔
② اس کی روایت ثقہ راویوں کی موافقت میں ہو تو اس سے اس روایت کی قبولیت کو تقویت ملتی ہے۔
③ معتبر کتاب سے روایت بیان کرنے کی صورت میں بھی کتاب کے قابلِ اعتماد ہونے اور روایت کے طریقے کا جائزہ لیا جائے گا۔
البتہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کا یہ کلام مخصوص صورت میں کمزور ضبط رکھنے والے فقہاء سے متعلق ہے۔ اس سے ہر قسم کی روایت بالمعنی یا تمام فقہاء کی روایات کا مطلق رد مراد نہیں۔
فقہائے حدیث اور فقہائے اہلِ رائے میں فرق
فقہی مناہج کے اعتبار سے اہلِ علم کے ہاں فقہائے حدیث اور فقہائے اہلِ رائے کی اصطلاحات معروف ہیں۔
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «امین اوکاڑوی کا تعاقب» میں اس تقسیم کو دو عنوانات کے تحت بیان کیا ہے:
① فقہائے حدیث
اس سے مراد وہ اہلِ علم ہیں جو حدیث و آثار کی روایت، ان کے فہم اور ان سے احکام کے استنباط میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
امام بخاری، امام مسلم اور دوسرے ائمہ محدثین کی فقہی بصیرت اس سلسلے میں معروف ہے۔
② فقہائے اہلِ رائے
اس سے مراد وہ فقہاء ہیں جن کے فقہی استدلال میں رائے، قیاس اور اجتہادی اصولوں کو نمایاں اہمیت حاصل تھی۔
تاہم یہ فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ فقہائے اہلِ رائے ہونا اور روایتِ حدیث میں ضعیف یا کذاب ہونا ایک ہی چیز نہیں۔
کسی شخص کے اہلِ رائے سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر اسے کذاب قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کی روایت کے متعلق مستقل جرح و تعدیل درکار ہے۔
اسی طرح ہر فقہائے حدیث میں شمار ہونے والا شخص صرف اس عنوان کی بنیاد پر ثقہ نہیں ہو جاتا۔
لفظ «الفقیہ» اور توثیقِ راوی میں بنیادی فرق
مذکورہ ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ «الفقیہ» اور کسی راوی کی حدیثی توثیق میں بنیادی فرق ہے۔
«الفقیہ» کسی شخص کی فقہی مہارت، احکامِ شرعیہ کی معرفت یا اس فن میں علمی مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے برعکس «الثقہ»، «ثبت» اور «صدوق» جیسی اصطلاحات روایتِ حدیث میں راوی کی حیثیت بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اگرچہ ان کے درجات اور دلالات میں بھی اہلِ علم کے نزدیک تفصیل پائی جاتی ہے۔
لہٰذا کسی شخص کے نام کے ساتھ «الفقیہ» لکھا ہونے سے درج ذیل باتیں لازماً ثابت نہیں ہوتیں:
① وہ حدیث کی روایت میں ثقہ ہے۔
② اس کا حافظہ قوی اور ضبط مکمل ہے۔
③ اس کی تمام روایات صحیح اور قابلِ قبول ہیں۔
④ اس سے روایت کرنے والے تمام اشخاص معتبر ہیں۔
⑤ اس کی بیان کردہ روایات علل، شذوذ اور دیگر نقائص سے محفوظ ہیں۔
البتہ «الفقیہ» کا لفظ بذاتِ خود جرح بھی نہیں۔ اگر کسی فقیہ کو ائمہ محدثین نے ثقہ، حافظ یا ثبت قرار دیا ہے تو اس کی وہ توثیق اپنی جگہ معتبر ہوگی۔
اس لیے کسی راوی کے بارے میں محض ایک لقب پر اعتماد کرنے کے بجائے ائمہ کے مجموعی اقوال کا جائزہ لینا چاہیے۔
ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال سے حاصل ہونے والے اہم نتائج
مذکورہ تمام شواہد سے درج ذیل علمی نتائج سامنے آتے ہیں:
اول: لفظ «الفقیہ» کسی شخص کی فقہی معرفت کا وصف ہے، لیکن محض اس لفظ سے روایتِ حدیث میں اس کی توثیق ثابت نہیں ہوتی۔
دوم: حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ابراہیم بن علی آمدی اور محمد بن شجاع ثلجی جیسے افراد کے لیے فقہی شناخت استعمال کرنے کے باوجود ان کے متعلق جرح نقل کی ہے۔
سوم: امام ابن سعد رحمہ اللہ نے یوسف بن خالد سمتی کی رائے و فتویٰ میں مہارت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا۔
چہارم: امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ابو بکر بن ابی سبرہ کو مفتی مدینہ کے طور پر ذکر کیا، لیکن ان کی بیشتر روایات کو غیر محفوظ قرار دیا اور ان پر وضعِ حدیث کی جرح نقل کی۔
پنجم: امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بعض ایسے فقہاء کا ذکر کیا ہے جن کے متعلق متون گھڑنے، اسناد میں تبدیلی کرنے، ضعفِ حفظ اور کثرتِ اوہام کی جرح موجود ہے۔
ششم: امام دارقطنی رحمہ اللہ نے مطہر بن سلیمان الفقیہ کو صراحتاً کذاب قرار دیا۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ فقہی لقب اور روایتِ حدیث میں ثقاہت دو الگ امور ہیں۔
ہفتم: علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ اور ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ نے بھی بعض فقہی شخصیات کی روایات کے متعلق ضعف یا سخت جرح نقل کی ہے۔
ہشتم: حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے واضح کیا کہ فقیہ کی روایت میں اس کے ضبطِ متن، ثقہ راویوں کی موافقت اور معتبر کتاب سے روایت کرنے جیسے امور کی اہمیت ہے۔
نہم: ہر فقیہ جس پر کسی مخصوص اعتقادی مسئلے، بدعت یا عملی طرزِ عمل کے متعلق نقد موجود ہو، لازماً حدیث میں ضعیف نہیں ہوتا۔ امام حسن بن صالح رحمہ اللہ اس فرق کو سمجھنے کی اہم مثال ہیں، کیونکہ ان کی ثقاہت بھی متعدد ائمہ سے منقول ہے۔
دہم: اسی طرح ہر ضعیف فقیہ کو کذاب یا وضاع قرار دینا بھی درست نہیں۔ ضعفِ حفظ، کثرتِ اوہام، ترکِ حدیث، اتہام بالکذب اور وضعِ حدیث الگ الگ نوعیت کی جروحات ہیں، جن کا حکم ان کے حقیقی درجے کے مطابق ہوگا۔
خلاصہ و نتیجہ
ائمہ جرح و تعدیل کے مذکورہ اقوال سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ کسی راوی کے نام کے ساتھ «الفقیہ» کا لفظ موجود ہونا بذاتِ خود اس کی حدیثی توثیق کے لیے کافی نہیں۔
کتبِ رجال میں ایسے متعدد افراد کا ذکر موجود ہے جو فقہی مہارت، علمی منصب یا افتاء و قضاء میں معروف تھے، لیکن ان کی روایتِ حدیث میں کمزوریاں بھی بیان کی گئی ہیں۔
کسی کے متعلق کثرتِ غلطی اور سوء حفظ کی جرح ملتی ہے، کسی کے متعلق منکر روایات کا ذکر موجود ہے، جبکہ بعض پر جھوٹ یا وضعِ حدیث جیسے سنگین الزامات بھی منقول ہیں۔
اس کے برعکس متعدد فقہاء ایسے بھی ہیں جنہیں ائمہ محدثین نے ثقہ، حافظ اور معتبر قرار دیا ہے۔ لہٰذا فقہی مقام اور حدیثی ثقاہت کو نہ تو ایک ہی چیز سمجھنا درست ہے اور نہ ان کے درمیان لازمی تضاد قائم کرنا صحیح ہے۔
صحیح علمی منہج یہ ہے کہ راوی کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل کے تمام متعلقہ اقوال جمع کیے جائیں، اس کے حفظ و ضبط، صدق و عدالت اور روایت کی کیفیت کا جائزہ لیا جائے، پھر اصولِ حدیث کی روشنی میں اس کی روایت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ «الفقیہ» فقہی مہارت کا وصف ہے، روایتِ حدیث میں صریح توثیق کا مستقل لفظ نہیں۔ لہٰذا کسی راوی کی ثقاہت ثابت کرنے کے لیے محض اس کا فقیہ ہونا کافی نہیں، بلکہ معتبر ائمہ کی توثیق اور اصولِ جرح و تعدیل کے مطابق اس کی روایت کا جائزہ ضروری ہے۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔


















