مضمون کے اہم نکات
رمضان اور روزوں کے متفرق مسائل
سوال:
ماہ رمضان شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں تو انسان گناہ کیسے کرتا ہے؟
جواب:
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
إن المعاصي تقع بميل الطبع إلى الشهوات المحرمة وليس للشيطان إلا التزيين والتحريض
”گناہ اس لیے سرزد ہوتے ہیں کیونکہ طبیعت حرام شہوتوں کی طرف مائل ہو چکی ہوتی ہے، شیطان تو صرف گناہ کو مزین کرتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے۔“
(كشف المشكل: 3/409)
سوال:
کیا گرمی کے روزوں کی فضیلت زیادہ ہے؟
جواب:
یقیناً جس روزے میں مشقت زیادہ ہو، اس میں اجر بھی بڑھ جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ثلاث من الإيمان أن يحتلم الرجل في الليلة الباردة فيقوم فيغتسل لا يراه إلا الله والصوم في اليوم الحار وصلاة الرجل في الأرض الفلاة لا يراه إلا الله
”تین کام (کمال) ایمان میں سے ہیں؛ ➊ آدمی ٹھنڈی رات میں محتلم ہو جائے، وہ اٹھتا ہے اور غسل کرتا ہے، اسے صرف اللہ ہی دیکھ رہا ہے۔ ➋ سخت گرم دن میں روزہ رکھنا، ➌ بیابان میں نماز ادا کرنا جہاں اسے صرف اللہ ہی دیکھ رہا ہو۔“
(شعب الإيمان للبيهقي: 51، وسنده صحيح)
سوال:
کیا ماہ رمضان میں زکوۃ دینا مستحب ہے؟
جواب:
اسلام نے زکوۃ کے لیے کوئی مہینہ خاص نہیں کیا۔ زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب مال پر سال گزر جائے، خواہ کسی بھی مہینہ میں ہو۔ البتہ اگر کوئی ماہ رمضان میں زکوۃ نکالنے کی ترتیب بنا لے تو ایسا کرنا مستحب ہے، یقیناً رمضان میں اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے تو زکوۃ کی ادائیگی پر بھی دیگر مہینوں کی بہ نسبت رمضان میں زیادہ ثواب ملتا ہے، اس لیے اگر کوئی رمضان کی رمضان زکوۃ نکالے تو ایسا کرنا درست بلکہ بہتر ہے۔
❀ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیا اور فرمایا:
هذا شهر زكاتكم
”یہ (رمضان) آپ کی زکوۃ کا مہینہ ہے۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/253، مسند الشافعي، ص 97، السنن الكبرى للبيهقي: 7607، وسنده صحيح)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده صحيح وهو موقوف
”اس کی سند صحیح ہے اور یہ موقوف روایت ہے۔“
(المطالب العالية: 5/504)
❀ علامہ ابن الاثیر رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں:
يستحب أن يختار لها شهر من الأشهر الحرم أو شهر رمضان
”مستحب ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے حرمت والے مہینوں میں سے کسی مہینے کو یا ماہ رمضان کو خاص کر لیا جائے۔“
(الشافي: 3/112)
سوال:
ایک شخص کہتا ہے کہ ”رمضان میں روزے رکھنے سے کچھ حاصل نہیں، بھلا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیونکر بھوکا رکھے گا؟ میں روزے رکھنے کو بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔“ یہ کلمات کہنے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
یقیناً کلمہ کفر ہے، اسلام کے بنیادی رکن کا انکار ہے، جو کہ بالاتفاق کفر و ارتداد ہے۔ مگر ایسے شخص کو اتمام حجت کے لیے سمجھایا جائے گا اور توبہ کا کہا جائے گا، اگر مان جائے تو درست، ورنہ وہ مرتد ہو جائے گا اور اس کی سزا قتل ہے، جس کا نفاذ اسلامی حکومت کا مذہبی و قانونی فریضہ ہے۔