مقدمہ کتاب "اہل حدیث ایک صفاتی نام” از شیخ زبیر علی زئی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب اہل حدیث ایک صفاتی نام سے ماخوذ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تقديم

الحمد لله ربّ العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:

طائفہ منصورہ، فرقہ ناجیہ اور اہل حق کا صفاتی نام اہل حدیث ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو ہر دور میں موجود رہے اور قیامت تک رہیں گے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتّى تقوم الساعة]

میری امت میں قیامت تک ہمیشہ ایسا گروہ رہے گا جسے (اللہ تعالیٰ کی) مدد حاصل رہے گی، جو انھیں چھوڑ دے گا وہ انھیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (سنن ابن ماجہ: 6 واللفظ لہ، سنن ترمذی: 2192 وسندہ صحیح)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: [إن لم تكن هذه الطائفة المنصورة أصحاب الحديث فلا أدري من هم]

اگر یہ طائفہ منصورہ اصحاب الحدیث (اہل حدیث) نہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم : 2 وسندہ حسن)

امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا:

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حدیث کی تفسیر میں بڑی عمدہ بات کی ہے کہ طائفہ منصورہ جسے قیامت تک (بے یار و مددگار) نہیں چھوڑا جائے گا اصحاب الحدیث ہی کا گروہ ہے۔ اس تاویل (تفسیر) کا حقداران (اہل حدیث) سے بڑھ کر کون ہے جو نیک لوگوں کے راستے پر چلے، آثارِ سلف کی پیروی کی اور رسول اللہﷺ کی سنت کے ذریعے سے مخالفین و اہل بدعت (کے سامنے ڈٹ گئے اور ان) کا ناطقہ بند کر دیا۔ سبزہ زار اور مرغوبات کی پُر عیش زندگی پر صحراءِ بے آب و گیاہ کے سفروں کو ترجیح دی اور اہل علم و اخبار کی صحبت کی خاطر سفری صعوبتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ (معرفۃ علوم الحدیث:ص 112)

امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: [هم أصحاب الحديث] (یعنی) طائفہ منصورہ سے مراد اہل حدیث ہیں۔ (دیکھیے سنن الترمذی: 2192 وغیرہ)

امام بخاری رحمہ اللہ نے طائفہ منصورہ کے بارے میں فرمایا: [يعني أهل الحديث] (مسئلۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب:ص47 وسندہ صحیح)

امام ابن حبان نے درج بالا حدیث پر یوں باب باندھا ہے: [ذكر إثبات النصرة لأصحاب الحديث إلى قيام الساعة] (یعنی) اہل حدیث کے لیے قیامت تک نصرت (مدد) کے اثبات کا بیان۔ (صحیح ابن حبان: ح61)

ابو عبداللہ محمد بن مفلح المقدسی نے فرمایا: [أهل الحديث هم الطائفة الناجية القائمون على الحق] اہل حدیث ناجی گروہ ہے جو حق پر قائم ہے۔ (الآداب الشرعیہ:211/1)

امام حفص بن غیاث اور امام ابوبکر بن عیاش رحمہما اللہ کے قول کی تصدیق و تائید کرتے ہوئے امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں نے سچ کہا ہے کہ اصحاب الحدیث بہترین لوگ ہیں اور ایسے کیوں نہ ہوں، انھوں نے (کتاب و سنت کے مقابلے میں) دنیا کو مکمل طور پر اپنے پیچھے پھینک دیا ہے۔ (معرفۃ علوم الحدیث: ص113)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم عليّ صلوة] قیامت کے دن وہ لوگ سب سے زیادہ میرے قریب ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر دُرود پڑھتے ہیں۔ (سنن ترمذی: 484وسندہ حسن)

چونکہ اہل حدیث کے بچے بچے کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے گہرا شغف اور قلبی لگاؤ ہے۔ وہ قیاس آرائیوں اور فقہی موشگافیوں کی بجائے نبی کریم ﷺ کی حدیث ہی بیان کرنے میں سعادت جانتے ہیں، چنانچہ امام ابو حاتم ابن حبان البستی رحمہ اللہ نے درج بالا حدیث سے ایک اہم مسئلہ ثابت کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا:اس حدیث میں دلیل ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے زیادہ قریب اہل حدیث ہوں گے، کیونکہ اس امت میں کوئی گروہ ان (اہلِ حدیث) سے زیادہ آپ ﷺ پر دُرود نہیں پڑھتا۔ (صحیح ابن حبان:911)

اس قدر فضائل و مناقب کے باوجود بعض لوگ اہل حدیث کی مخالفت، ان پر طعن و تشنیع اور تمسخر و تحقیر اپنا موروثی حق سمجھتے ہیں۔ شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا: [ليس في الدنيا مبتدع إلا و هو يبغض أهل الحديث] دنیا میں کوئی ایسا بدعتی نہیں ہے جو اہل حدیث سے بغض نہیں رکھتا۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: 6وسندہ صحیح)

امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمیں سفر و حضر میں جتنے لوگ ایسے ملے جو الحاد و بدعت کی طرف منسوب تھے وہ طائفہ منصورہ (اہلِ حدیث) کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انھیں حشویہ کے نام سے پکارتے تھے۔ (معرفۃ علوم الحدیث: ص115)

جبکہ ہم ان لوگوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ: [أهل الحديث همو أهل النبي و إن لم يصحبوا نفسه أنفاسه صحبوا]

اہلِ حدیث ہی آلِ رسول ہیں اگرچہ وہ نبی ﷺ کی صحبت حاصل نہیں کر سکے، لیکن وہ آپ کے معطر سانسوں کے مرکب الفاظ سے مستفید ہوتے آ رہے ہیں۔

زیرِ نظر کتاب فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی تصنیفِ لطیف ہے جو اہل حدیث کے صفاتی نام کے بارے میں پیدا ہونے والے اشکالات و اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ یہ اس لحاظ سے بڑی جامع اور منفرد کتاب ہے کہ ہر بات مستند، مدلّل اور باحوالہ ہے۔

اللہ رب العزت محترم حافظ صاحب حفظہ اللہ کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر سے نوازے اور ان سے اسی طرح علمی و تحقیقی کام کراتا رہے۔ (آمین)

حافظ ندیم ظہیر