رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے سات مجاہد شہید ہو گئے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أفرد يوم أحد فى سبعة من الأنصار ورجلين من قريش فلما رهقوه قال من يردهم عنا وله الجنة أو هو رفيقي فى الجنة فتقدم رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل ثم رهقوه أيضا فقال من يردهم عنا وله الجنة أو هو رفيقي فى الجنة فتقدم رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل فلم يزل كذلك حتى قتل السبعة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لصاحبيه ما أنصفنا أصحابنا.
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن (جب کچھ دیر کے لیے کافروں کا غلبہ ہوا اور مسلمان مغلوب ہو گئے) انصار کے سات اور قریش کے دو آدمیوں کے ساتھ الگ رہ گئے، جب کافروں نے آپ پر ہجوم کیا تو آپ نے کہا: ”ان کو کون ہم سے دور ہٹاتا ہے؟ (جو ان کو پیچھے ہٹائے گا تو) اس کو جنت ملے گی یا (آپ نے فرمایا:) وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔ “ ایک انصاری آگے بڑھا اور لڑا حتیٰ کہ وہ شہید ہو گیا، کافروں نے پھر آپ پر ہجوم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کون ہے جو ان کو ہم سے پیچھے ہٹائے، اس کے لیے جنت ہے یا (آپ نے فرمایا کہ) وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔ “ چنانچہ ایک اور انصاری آگے بڑھا وہ بھی لڑا یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا، پھر یہی حال رہا یہاں تک کہ ساتوں انصار کے آدمی شہید ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو ساتھیوں کو کہا: ”ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ “
( صحیح مسلم) (رواہ مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب غزوة أحد، الرقم: 1789)

فوائد مستنبطہ

”ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا“، اس کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں:
➊ اگر أنصفنا (صیغہ جمع متکلم فعل ماضی) پڑھا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم قریشیوں نے اپنے انصار بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ وہ آگے بڑھتے رہے اور شہید ہوتے رہے حتیٰ کہ ان کے سات آدمی شہید ہو گئے۔
➋ اس لفظ کو أنصفنا پڑھا جائے انصف صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی، اور ’نا‘ ضمیر مفعول بہ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ قریشیوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ وہ میدان سے ادھر ادھر ہو گئے تھے اور انصار (یعنی وہ سات جو آپ کے ساتھ تھے) میدان میں ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
➌ شوقِ شہادت: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سات جانثاروں کو ثابت قدمی کی شرط پر جنت کی خوش خبری سنائی تو انہوں نے قول کی تصدیق کرتے ہوئے شوقِ شہادت میں لڑتے ہوئے اپنی پیاری جانوں کی قربانی پیش کی۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قطعی جنتی ہونے کا ثبوت: حدیث مذکور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قطعی جنتی ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول ”هو رفيقي فى الجنة “ سے واضح ہے۔