کیا سیدنا معاویہؓ سیدنا علیؓ کو منبروں پر گالیاں دلواتے تھے؟ صحیح مسلم کی روایت اور لفظ ”سَب“

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر منبروں پر لعنت اور گالم گلوچ؟

امیر المومنین جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کھڑا کیا جاتا ہے کہ آپ امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض و عداوت رکھتے تھے، اس ضمن میں جو جھوٹ بولے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے تھے، نعوذ باللہ!
اس حوالے سے مرزا صاحب کی ویڈیوز اور بیانات کا خلاصہ یہ ہے کہ: (1) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے اور لعن طعن کرتے۔ (2) آپ اس کام کا حکم بھی دیتے، اور اس کام کے لیے خطباء مقرر کرتے جو کہ منبروں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرتے اور گالیاں نکالتے۔ (3) یہ قبائلی اور ذاتی تعصب کی بنیاد پر تھا، اور آپ کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بغض تھا۔ (4) یہ کام ساٹھ سال تک جاری رہا۔
Mas alah 55 b- 1:49:00
Mas alah 101- 1:09:10
Mas alah 157 a – 1:22:33
Mas alah 157 b – 1:08:52
Ilmi o tahqiqi majlis no.63 – 4:14:00
Research paper 5b ,page- 16
یہ انجینئر صاحب کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر سب سے بڑے اعتراضات میں سے ایک ہے۔ اس حوالے سے مودودی صاحب نے تاریخ کی بے سند اور من گھڑت روایات کا کباڑ اپنی کتاب ”خلافت و ملوکیت“ میں جمع کیا، اس پر جب علماء نے ان کی مخالفت کی اور ان جھوٹی روایات کی اصلیت واضح کی تو اس پر مرزا صاحب نے دعویٰ کیا کہ چلیں مودودی صاحب نے تو تاریخی روایات نقل کی ہیں تو ہم نے اس کی کمی بھی پوری کر دی ہے، یعنی یہ سب ہم نے احادیث کی کتابوں سے ثابت کیا ہے۔
مرزا صاحب کے دلائل زیر بحث لانے سے پہلے قرآن مجید کی ایک آیت کی طرف توجہ فرمائیں، اللہ تعالیٰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ…….
”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے صحابہ کفار کے معاملے میں تو سخت ہیں، مگر آپس میں بہت رحم دل ہیں۔“ (الفتح:29)
اب یاد رکھیں ایک خبر ہمیں اللہ قرآن مجید میں صحابہ کے متعلق دے رہا ہے، کہ وہ آپس میں بڑے رحم دل ہیں۔ لیکن جو تاثر مرزا صاحب دے رہے ہیں کیا وہ اس آیت کے موافق ہے؟ اور جو مدعا ہے وہ بھی بلا دلیل ہے، اور جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں ان میں بھی دور دور تک ان باتوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ جو یہ دعوے کرتے ہیں۔ انجینئر صاحب اپنی ویڈیوز میں جہاں جگہ جگہ اپنے ریسرچ پیپر کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی طرف مراجعت کا کہتے ہیں، تو اس حوالے سے بھی کہا کرتے ہیں کہ ہم نے اس سلسلے میں تمام دلائل اپنے ریسرچ پیپر میں ذکر کر رکھے ہیں۔ لہٰذا ہم یہاں اسی کو سامنے رکھیں گے۔

دلیل نمبر:1

عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنْ أَسُبَّهُ، لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ، خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي۔
”عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پھر کہا: آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابوتراب (سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) پر سَب کریں/ انہیں غلط کہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کہی تھیں، میں ہرگز ان پر سَب نہیں کروں گا۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہو تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا، کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا آپ کو یہ پسند نہیں کہ آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔ اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ: ہم اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ! انہیں لایا گیا اس حال میں کہ آپ کی آنکھوں میں درد تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا۔ اور (تیسری فضیلت یہ کہ) جب یہ آیت اتری: (اے نبی! آپ کہہ دیں: آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں (یعنی آیت مباہلہ)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“ (صحیح مسلم:2404)
یہ ہے بنیادی دلیل کہ جی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کرتے اور منبروں پر گالیاں دلواتے تھے۔ استدلال کیا ہے؟ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ حضرت علی پر سَب کیوں نہیں کرتے؟ اب مرزا صاحب اس لفظ ”سَب“ کا ترجمہ گالی کیا کرتے ہیں، حالانکہ یہ بہت بڑی زیادتی ہے! ایک حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَللّٰهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً۔
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! بے شک میں تو صرف ایک بشر ہی ہوں، لہٰذا اگر میں مسلمانوں میں سے کسی شخص پر سَب کر دوں، یا لعنت، یا اسے کوڑے لگا دوں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت کا سبب بنا دینا۔“ (صحیح مسلم:2601)
ایک روایت میں ہے:
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَأَغْضَبَاهُ، فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ۔ قَالَ: وَمَا ذَاكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا۔ قَالَ: أَوَمَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي؟ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا۔
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، تو انہوں نے کوئی بات کی جو مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں پر سَب کیا، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے کہا کہ ان دونوں کو تو کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیوں؟ میں نے کہا: آپ نے ان پر لعنت اور سَب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے: اے اللہ! میں تو صرف ایک بشر ہوں، لہٰذا میں جس مسلمان کو لعنت یا سَب کروں تو اسے اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصول اجر کا ذریعہ بنا دے۔“ (صحیح مسلم:2600)
کیا مرزا صاحب ان احادیث میں موجود لفظ ”سب“ کا ترجمہ ”گالی“ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی مبارک ہستی کے متعلق یہ خیال بھی کیا جا سکتا ہے؟
صحیح مسلم میں ہے: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللهُ، عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ، فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟ قَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ۔
”سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے، آپ (سفر میں) نمازیں جمع کر رہے تھے، آپ ظہر اور عصر کو ملا کر اور مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھتے، حتیٰ کہ ایک دن آیا کہ آپ نے نماز مؤخر کر دی، پھر آپ (خیمے کے) اندر تشریف لے گئے، اس کے بعد آپ پھر باہر نکلے اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور تم دن چڑھنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی اس چشمے کے پاس جائے وہ اس کے پانی کو ذرا بھی نا چھوئے یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔ ہم اس (چشمے) پر آئے تو دو آدمی ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ وہ چشمہ جوتے کے ایک تسمے جتنا (دکھائی دے رہا) تھا، بہت ہی معمولی سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: تم نے اس کے پانی کو چھوا تھا؟ دونوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر سَب کیا اور جو اللہ نے چاہا آپ نے ان سے کہا۔“ (صحیح مسلم:706)
ہاں جی تو مرزا صاحب! یہاں بھی حدیث میں لفظ ”سَب“ آیا ہے، تو کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گالیاں دی تھیں؟
عَنْ جَابِرِ بن عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّى لَا بَارَكَ اللّٰهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ۔
”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سائب یا حضرت ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: ام سائب یا (فرمایا:) ام مسیب! کیا معاملہ ہے؟ تم شدت سے کانپ رہی ہو۔ انہوں نے کہا: بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ کرے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار پر سَب نا کرو، کیونکہ یہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔“ (صحیح مسلم :2575)
غور کریں صحابیہ نے صرف اتنا کہا ہے کہ اللہ اس میں برکت نہ کرے، کوئی لعن طعن نہیں اور کوئی گالی نہیں، لیکن اس کے لیے بھی لفظ ”سَب“ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ تمام احادیث بھی صحیح مسلم ہی میں موجود ہیں، اب اسی صحیح مسلم کا نام لے کر آپ کہا کرتے ہیں کہ جی تمام کریٹیکل احادیث صحیح مسلم میں ہیں، اور صحیح مسلم ہی میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں نکلواتے، تو اب جرأت کریں اور صحیح مسلم کی ان تمام احادیث میں موجود لفظ ”سَب“ کا ترجمہ گالی کر کے دکھائیں!
اگر نہیں تو یہاں کس دلیل کی بنیاد پر آپ سَب کا ترجمہ گالی کر رہے ہیں؟ حالانکہ اس کا معنی برا کہنے یا مخالفت کرنے کے بھی ہو سکتے ہیں، خود انجینئر صاحب ایک جگہ اس لفظ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”باقی سَب و شتم! شتم کا تو ترجمہ گالی ہی بنتا ہے، سَب کا مطلب تنقید بھی بن سکتا ہے، برائی بھی بن سکتا ہے، برائی کے ساتھ ذکر کرنا…………“

ilmi o tahqeeqi majlis no. 28 -2:21:49
تو اگر اس لفظ کے گالی کے علاوہ بھی معنی ہیں تو پھر گالی گالی کی ہی رٹ کیوں لگا رکھی ہے؟ اور اس کے لیے جو مرزا صاحب فضول سی دلیل پیش کرتے ہیں اس کا ذکر بھی آگے آ رہا ہے۔
آپس میں اختلاف یا ناراضگی ہو جانا کوئی بہت بڑی بات نہیں، اور صحابہ کرام میں بھی بشری تقاضوں کی بنا پر تنازعات ہو جایا کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے لیے سخت الفاظ بھی ادا ہو جاتے، اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر کہنا بس یہ مقصود ہے کہ ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ان کے باہمی اختلافات اور تنازعات کی بنا پر ان میں سے کسی ایک فریق پر طعن کریں، اور منفی تاثر عام کریں، سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین اگر کوئی اختلاف تھا، تو وہ صرف اور صرف قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے کر تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے، اور انہیں ظلماً شہید کر دیا گیا، اس کے بعد سیدنا جناب علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد بنے، اور قاتلین عثمان بھی آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کیے ہوئے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا طلحہ و زبیر سمیت کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ رکھا، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف بھی صرف اسی بات پر تھا، کہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں جلدی کرنی چاہیے۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے اجتہاد کو غلط سمجھتے تھے، اسی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ پر سَب کیوں نہیں کرتے، ورنہ تو بتائیے کہ قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے سے پہلے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایسا کچھ منقول ہو؟ اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی یا ان پر کسی قسم کا طعن کیا ہو؟
ابو مسلم الخولانی رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ وہ اور آپ کے کچھ ساتھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور پوچھا:
أنت تنازع عليا! أم أنت مثله؟ فقال: لا والله إنى لأعلم أن عليا أفضل منى وأحق بالأمر منى، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، وإنما أطلب بدمه، فأتوا عليا فقولوا له، فليدفع إلى قتلة عثمان وأسلم له. فأتوا عليا فكلموه بذلك، فلم يدفعهم إليه۔
”آپ کا جو جناب علی رضی اللہ عنہ سے تنازع ہے، کیا آپ خود کو ان جیسا سمجھتے ہیں؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم ایسا نہیں! بے شک میں جانتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کا بھی مجھ سے زیادہ حق رکھتے ہیں، لیکن معاملہ یہ ہے کہ کیا تم جانتے نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ناحق شہید کر دیے گئے ہیں اور میں ان کا چچا زاد ہوں اور ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہا ہوں، تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ قاتلین عثمان میرے حوالے کر دیں، تو میں علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لوں گا۔ پس لوگ جناب علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اس سلسلے میں بات کی، لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے قاتلین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے نہیں کیے۔“ (تاریخ ابن عساکر:132/59، سیر اعلام النبلاء:523/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید (صحیح) قرار دیا ہے۔ (فتح الباری:86/13)
اور اس میں واضح ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی بغض اور دشمنی نہ تھی بلکہ آپ رضی اللہ عنہ تو انہیں خود سے افضل اور بہتر سمجھتے تھے، ان کی عزت کرتے تھے۔
اور پھر اس (مرزا صاحب کے پیش کردہ) ایک واقعہ کے بعد بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کبھی ایسا کچھ نقل نہیں ہوا، بلکہ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کلام نہیں کیا، جیسا کہ اسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں موجود ہے، جس کا ذکر ان شاء اللہ آگے ہو گا۔