سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں، اصحابِ ثلاثہ کے بعد سب سے زیادہ عظمتوں کا استعارہ ہیں۔ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا۔ خلیفہ چہارم ہیں۔ دامادِ رسول ہیں۔ حسنین کریمین کے بابا ہیں۔ آپ اپنی شہادت کے سبب شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو و تقصیر سے کام لیا گیا۔ بہت ساری جھوٹی روایات آپ کی فضیلت میں پیش کی جاتی ہیں، جن میں سے ایک حدیث :
النظر إلى على عبادة.
”علی کو دیکھنا عبادت ہے۔“
بھی ہے۔ یہ کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، اس کا تحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
النظر إلى على عبادة.
”علی کو دیکھنا عبادت ہے۔“
(المستدرك على الصحيحين للحاكم : 141/3)
سند جھوٹی ہے۔
عبد اللہ بن عبدربہ بجلی ”مجہول“ ہے۔
ابراہیم بن اسحاق جعفی کا تعین نہیں ہو سکا۔
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فيه مجاهيل.
”اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔“
(الموضوعات : 363/1)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا، تو ان کے تعاقب میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا :
ذا موضوع.
”یہ جھوٹی ہے۔“
اس روایت کی ایک اور سند ہے۔
(المعجم الكبير للطبراني : 109/18 ، ح : 207)
یہ سند بھی سخت ضعیف ہے۔
عمران بن خالد ضعیف ہے۔
اسے امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے ”ضعیف الحدیث“ کہا ہے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 297/6)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يجوز الاحتجاج بما انفرد من الروايات.
”اس کی منفرد روایت سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔“
(كتاب المجروحين : 124/2)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔
(مجمع الزوائد : 119/9)
خالد بن طلیق کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے الضعفاء والمتروكون (202) میں ذکر کیا ہے۔
طلیق بن محمد کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يحتج به، ليس حديثه نيرا.
”اس سے حجت نہیں لی جائے گی، اس کی حدیث پُرنور نہیں ہے۔“
(سؤالات البرقاني : 240)
اس روایت کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا باطل فى نقدي.
”میری تحقیق میں یہ روایت باطل ہے۔“
(ميزان الاعتدال : 236/3)
الطيوريات لابن الطيوري (540) اور فوائد أبي بكر الأبهري (58) میں ان علتوں کے علاوہ عباس بن بکار ”کذاب“ ہے۔ لہٰذا یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ :
(جزء ابن أبي الفراتي ، كما في اللآلئ المصنوعة للسيوطي : 316/1)
سند جھوٹی ہے۔
عباس بن بکار ضبی کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”کذاب“ کہا ہے۔
(الضعفاء: 424)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی ایک روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
هذا من وضع العباس.
”یہ عباس کی گھڑنت ہے۔“
(لسان الميزان : 685/3)
محمد بن زکریا غلابی ”متروک و کذاب“ ہے۔
(إتحاف المهرة لابن حجر : 510/11)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يضع.
”یہ احادیث گھڑتا تھا۔“
(الضعفاء والمتروكون : 484)
ابوبکر ہذلی ”متروک الحدیث“ ہے۔
(تقريب التهذيب : 8002)
ابوالز بیر مکی کا عنعنہ ہے۔
تاریخ ابن عساکر (355/42) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
ثوبان بن ابراہیم کی توثیق ثابت نہیں۔
مقدام بن رشید کون ہے؟ معلوم نہیں۔
سلم بن میمون خواص ضعیف ہے۔
امام محمد بن عوف حمصی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
دفنت كتبه وكان يحدث من حفظه فيغلط.
”اس کی کتب دفن ہو گئی تھیں، حافظہ سے بیان کرتا، تو غلطیاں کھاتا تھا۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 267/4)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
بطل الاحتجاج بما يروي إذا لم يوافق الثقات.
”جب روایت میں ثقہ راویوں کی موافقت نہ کرے، تو اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔“
(كتاب المجروحين : 345/1)
اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(موافقة الخبر الخبر : 188/2)
اس پر اور بھی جروح ہیں۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ
(كتاب المجروحين لابن حبان : 241/1)
سند جھوٹی ہے۔
حسن بن علی ابوسعید عدوی متروک، کذاب و وضاع ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يضع الحديث، ويسرق الحديث ويلزقه على قوم آخرين ويحدث عن قوم لا يعرفون، وهو متهم فيهم أن الله لم يخلقهم.
”یہ حدیثیں گھڑتا تھا، حدیث میں سرقہ (چوری) کر کے دوسروں پر تھونپ دیتا تھا۔ غیر معروف رواۃ سے منسوب احادیث بیان کرتا تھا۔ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ یہ ان لوگوں سے منسوب حدیثیں بھی بیان کر دیتا تھا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کیا۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 195/3)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يروي عن شيوخ لم يرهم ويضع على من رآهم الحديث.
”یہ ان شیوخ سے روایت بیان کرتا تھا، جنہیں اس نے دیکھا ہی نہیں اور جن کو دیکھا ہے، حدیثیں گھڑ کر ان سے منسوب کرتا تھا۔“
(كتاب المجروحين: 241/1)
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”متروک“ کہا ہے۔
(سؤالات السهمي : 253)
زہری کا عنعنہ ہے۔
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سماع و لقا نہیں۔
اس روایت کے بارے میں امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا شيء لا يشك عوام أصحاب الحديث أنه موضوع.
”ایسی روایت کے من گھڑت ہونے میں کوئی محدث شک نہیں کر سکتا۔“
(كتاب المجروحين : 241/1)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے الموضوعات (358/1) میں ذکر کیا ہے۔
الموضوعات لابن الجوزي (358/1) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
محمد بن احمد بن محزوم ابوحسین مقری کی توثیق ثابت نہیں۔
ابو محمد بن غلام زہری نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(سؤالات السهمي : 68)
ابوالحسن تمار کہتے ہیں :
كان يكذب.
”یہ حدیثِ رسول میں جھوٹ بولتا ہے۔“
(سؤالات السهمي : 68)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے لیس بقوی کہا ہے۔
(تاريخ الإسلام : 748/7)
محمد بن عبد اللہ جعفی کون ہے؟
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
سرقه فرواه والله أعلم هل هو الجعفي أو شيخه.
”اس روایت کو سرقہ (چوری) کر کے بیان کرنے والا یا تو جعفی ہے یا اس کا شیخ ہے، واللہ اعلم!“
(الموضوعات : 361/1)
زہری کا عنعنہ ہے۔
تاریخ ابن عساکر (9/40) اور تاریخ ابن نجار (كما في اللآلئ المصنوعة للسيوطي : 313/1) والی سند بھی باطل ہے۔
احمد بن عیسیٰ ابوالعباس الوشاء کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”متروک“ کہا ہے۔ نیز امام دارقطنی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی ایک روایت کو ”باطل“ بھی کہا ہے۔
(لسان الميزان : 242/1)
سیر أعلام النبلاء (542/15) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
ابو الفوارس صابونی سندی کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
روى حديثا موضوعا عن الطهراني بسند الصحيحين، كأنه أدخل عليه، وإلا فهو فى نفسه ليس بمتهم.
”اس نے طہرانی سے بخاری و مسلم کی سند کے ساتھ ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ اسے تلقین کی گئی ہے (اور اس نے تلقین قبول کر لی)، ورنہ یہ بذاتِ خود متہم نہیں ہے۔“
(ذيل ديوان الضعفاء : 25)
نیز اس روایت کو ”باطل“ کہا ہے۔
(ميزان الاعتدال : 152/1)
عبدالرزاق بن ہمام صنعانی رحمہ اللہ مختلط اور مدلس ہیں۔
زہری کا عنعنہ ہے۔
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
(تاريخ بغداد للخطيب : 51/2)
سند جھوٹی ہے۔
محمد بن اسماعیل بن موسیٰ رازی کے بارے میں خطیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان غير ثقة.
”یہ غیر معتبر راوی ہے۔“
(تاريخ بغداد : 51/2)
نیز فرماتے ہیں :
أنكر أن يكون محمد بن إسماعيل أدركه، وكذبه فى روايته عنه.
”امام لالکائی رحمہ اللہ نے اس بات کا انکار کیا کہ محمد بن اسماعیل رازی نے موسیٰ بن نصر کا زمانہ پایا ہو، نیز انہوں نے اس میں بھی محمد بن اسماعیل کو جھوٹا قرار دیا کہ اس نے موسیٰ بن نصر سے کوئی روایت لی ہو۔“
(تاريخ بغداد : 51/2)
نیز فرماتے ہیں :
إنا لا نعلم أن محمد بن أيوب روى عن هوذة بن خليفة شيئا قط، ولا سمع منه.
”بالکل ہمارے علم میں نہیں کہ محمد بن ایوب نے ہوذہ بن خلیفہ سے کوئی روایت لی ہو یا سماع کیا ہو۔“
(تاريخ بغداد : 51/2)
ابن جریج کا عنعنہ ہے۔
خطیب رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”باطل“ قرار دیا ہے۔
(تاريخ بغداد : 51/2)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے الموضوعات (359/1) میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
المتهم بوضعه الرازي.
”اس روایت کے گھڑنے کا الزام رازی پر ہے۔“
(ميزان الاعتدال : 385/3)
تاریخ ابن عساکر (352/22) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
سوار بن مصعب متروک اور منکر الحدیث ہے۔
عبدالحمید بن بحر کے متعلق امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان يسرق الحديث لا يحل الاحتجاج به بحال.
”یہ حدیث میں سرقہ (چوری) کرتا تھا۔ اس سے کسی صورت حجت پکڑنا جائز نہیں۔“
(كتاب المجروحين : 142/2)
محمد بن یونس قدیمی ضعیف و متروک ہے۔
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
(تاريخ ابن عساكر : 350/42 ، مشيخة الآبنوسي : 168)
سند جھوٹی ہے۔
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رواته مجاهيل.
”اس کے راوی مجہول ہیں۔“
(الموضوعات : 362/1)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
(الكامل لابن عدي : 195/3)
سند جھوٹی ہے۔
حسن بن علی ابوسعید عدوی ”کذاب و وضاع“ ہے۔ کما مر۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس سند کو ”باطل“ کہا ہے۔
خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے بھی ”باطل“ کہا ہے۔
(تاريخ بغداد : 51/2)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ
(الكامل لابن عدي : 196/3)
سند جھوٹی ہے۔
حسن بن علی ابوسعید عدوی ”کذاب و وضاع“ ہے۔ کما مر۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس سند کو باطل کہا ہے۔
ہشیم بن بشیر کا عنعنہ ہے۔
(ب) الموضوعات لابن الجوزي (360/1) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
مطر بن ابی مطر، یہ مطر بن میمون محاربی ہے، یہ متروک اور منکر الحدیث ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات يروي عن أنس ما ليس من حديثه فى فضل على بن أبى طالب وغيره لا تحل الرواية عنه.
”یہ ثقہ راویوں سے منسوب من گھڑت احادیث بیان کرنے والا راوی ہے۔ اس نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیث بیان کی ہے، جو اس کی اپنی حدیث نہیں ہے۔ اس سے روایت لینا جائز نہیں۔“
(كتاب المجروحين : 5/3)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”موضوع“ (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
(ميزان الاعتدال : 127/4)
(ج) ابن مردویہ (كما في الموضوعات لابن الجوزي: 360/1) والی سند بھی جھوٹی ہے۔ اس میں محمد بن قاسم اسدی ”کذاب و وضاع“ ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يكذب، أحاديثه أحاديث موضوعة.
”یہ حدیثِ رسول میں جھوٹ بولتا تھا۔ اس کی احادیث من گھڑت ہیں۔“
(العلل ومعرفة الرجال : 1899)
امام نسائی رحمہ اللہ (الضعفاء والمتروكون : 572) اور امام دارقطنی رحمہ اللہ (العلل : 41/4) نے ”متروک“ کہا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
(الموضوعات لابن الجوزي : 359/1)
سند جھوٹی ہے۔
یحییٰ بن عبدالحمید حمانی کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حافظ إلا أنهم اتهموه بسرقة الحديث.
”حافظ ہے، مگر محدثین نے اس پر حدیث میں سرقہ (چوری) کا الزام لگایا ہے۔“
(تقريب التهذيب : 7591)
حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ضعفه الجمهور.
”جمہور نے ضعیف کہا ہے۔“
(البدر المنير : 224/3)
یزید بن ابی زیاد ضعیف، مختلط اور مدلس ہے۔
اس میں اور بھی علت ہے۔
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ
(الكامل لابن عدي: 22/9)
سند جھوٹی ہے۔
یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
متروك، وكان شيعيا.
”متروک، شیعہ تھا۔“
(تقريب التهذيب : 7561)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے متروک کہا ہے۔
(تلخيص المستدرك : 126/3 ، 246/2)
سالم بن ابی الجعد کا سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لم يسمع سالم من ثوبان، ولم يلقه، وبينهما معدان ابن أبى طلحة، وليست هذه الأحاديث بصحاح.
”سالم نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے سماع اور لقا نہیں کیا۔ ان میں معدان بن ابی طلحہ کا واسطہ ہے۔ (ثوبان سے بیان کردہ) یہ احادیث ثابت نہیں ہیں۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 181/4 وسنده صحيح)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو الموضوعات (361/1) میں ذکر کیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
(حلية الأولياء لأبي نعيم : 182/2)
سند جھوٹی ہے۔
عباد بن صہیب کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کذاب ہالک کہا ہے۔
(ديوان الضعفاء : 2074)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يروي المناكير عن المشاهير التى إذا سمعها المبتدئ فى هذه الصناعة شهد لها بالوضع.
”یہ مشہور رواۃ سے منسوب ایسی ایسی منکر روایات بیان کرتا تھا کہ اگر فنِ حدیث کا مبتدی طالب علم بھی ان روایات کو سن لے، تو ان پر من گھڑت ہونے کا حکم لگا دے۔“
(كتاب المجروحين : 164/2)
اس سند میں اور بھی علت ہے۔
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو الموضوعات (361/1) میں ذکر کیا ہے۔
(ب) تاریخ ابن عساکر (350/42) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
(حسن بن غفیر) حسین بن عبدالغفار بن عمرو ابوعلی ازدی متروک ہے۔
امام ابن یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كذاب، يضع الحديث.
”یہ حدیثِ رسول میں جھوٹا تھا، حدیثیں گھڑتا تھا۔“
(ميزان الاعتدال : 517/1)
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے متروک کہا ہے۔
(سؤالات السهمي : 71/2)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے متہم قرار دیا ہے۔
(ديوان الضعفاء : 995)
اس روایت میں اور بھی علت ہے۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
(تاريخ ابن عساكر : 356/42)
سند جھوٹی ہے۔
صالح بن میثم کوفی کی توثیق ثابت نہیں۔
یدیم بن علاء کون ہے؟ معلوم نہیں۔
محمد بن عبیس بن ہشام ناشری کوفی کی توثیق نہیں۔
اسحاق بن برید کوفی کی بھی توثیق ثابت نہیں۔
یدیم بن علاء کا سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
(المعجم الكبير للطبراني : 76/10 ، حلية الأولياء لأبي نعيم : 58/5 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم : 141/3)
سند سخت ضعیف ہے۔
یحییٰ بن عیسیٰ رملی ”غیر ثقہ“ ہے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هو ضعيف، لا يكتب حديثه.
”ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔“
(الكامل لابن عدي : 60/9 وسنده حسن)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
عامة رواياته مما لا يتابع عليه.
”اس کی اکثر روایات کی متابعت نہیں ہوئی۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 62/9)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان ممن ساء حفظه وكثر وهمه حتى جعل يخالف الأثبات فيما يروي عن الثقات فلما كثر ذلك فى روايته بطل الاحتجاج به.
”اس کا حافظہ سٹھیا گیا تھا، اسے کثرت سے اوہام ہوئے، یہاں تک کہ جب ثقہ راویوں سے روایت کرتا تھا، تو روایت میں ان کی مخالفت کرنے لگا، جب اس کی روایات میں یہ مخالفت بکثرت پائی گئی، تو اس سے حجت پکڑنا جائز نہ رہا۔“
(كتاب المجروحين : 126/3)
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”لیس بالقوی“ کہا ہے۔
(الضعفاء والمتروكون : 661)
اعمش اور ابراہیم نخعی دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
المستدرک للحاکم (4682) میں یحییٰ بن عیسیٰ اور اعمش کی متابعت ہوئی ہے۔ یہ سند سخت ضعیف ہے۔
عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی مختلط ہیں۔ عاصم بن علی واسطی اختلاط کے بعد بیان کرتے ہیں۔ نیز عاصم بن علی کی بعض روایات میں نکارت ہے۔
مسیب بن زہیر ضبی کون ہے؟
ابوبکر محمد بن احمد بن یحییٰ القاری مجہول ہے۔
فضائل الخلفاء الراشدین لأبي نعيم (38) میں رملی کی متابعت عاصم بن عمر بجلی نے کی ہے۔ یہ سند جھوٹی ہے۔
عاصم بن عمر بجلی کون ہے؟
احمد بن جعفر بن اصرم کوفی کا کوئی پتہ نہیں۔
الألقاب للشیرازی (كما في اللآلئ للسيوطي : 314/1) میں یحییٰ بن عیسیٰ رملی کی متابعت منصور بن ابی الاسود نے کی ہے۔ یہ جھوٹی سند ہے۔
محمد بن مبارک اشتو یہ نامعلوم ہے۔
احمد بن حجاج بن صلت کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف جداً کہا ہے۔
(التلخيص الحبير : 290/4)
حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ رملی کی متابعت عبید اللہ بن موسیٰ نے بھی کی ہے۔ لیکن اس کا ثبوت نہیں مل سکا۔
تاریخ ابن عساکر (350/42) میں ابو اسامہ حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن عیسیٰ رملی کی متابعت کی ہے۔ یہ سند بھی جھوٹی ہے۔
ہارون بن حاتم کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(لسان الميزان لابن حجر: 304/8)
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”لیس بشيء“ کہا ہے۔
(الضعفاء والمتروكون: 643)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قد سمع منه أبو زرعة، وأبو حاتم، وامتنعا من الرواية عنه، سئل عنه أبو حاتم، فقال: أسأل الله السلامة.
”امام ابوزرعہ اور امام ابوحاتم رحمہما اللہ نے اس سے سماع کیا، پھر روایت لینے سے رک گئے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال ہوا، تو فرمایا : اللہ اس سے بچائے۔“
(ميزان الاعتدال : 282/4)
ہارون بن حاتم سے نیچے مجہول راوی بھی ہیں۔
یوں یہ سند جھوٹی ثابت ہوئی۔
تاریخ ابن عساکر (352/42) میں رملی کی متابعت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کی ہے۔ یہ سند جھوٹی ہے۔
حماد بن مبارک مجہول ہے۔
سفیان ثوری اور اعمش مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
اس روایت کو ابن الجوزی رحمہ اللہ نے الموضوعات (359/1) میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موضوع (من گھڑت) کہا ہے۔
(تلخيص المستدرك : 18)
خلاصة التحقيق :
یہ روایت جمیع سندوں کے ساتھ ضعیف اور غیر ثابت ہے۔
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں :
هذا حديث لا يصح من جميع طرقه.
”یہ حدیث اپنی ساری کی ساری سندوں کے ساتھ غیر ثابت ہے۔“
(الموضوعات : 361/1)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) لکھتے ہیں :
ظهر بهذا أن الحديث من قسم الحسن لغيره لا صحيحا، كما قال الحاكم، ولا موضوعا، كما قال ابن الجوزي.
”ثابت ہوا کہ یہ حدیث حسن لغیرہ کی قبیل سے ہے۔ صحیح نہیں، جیسا کہ حاکم کہتے ہیں اور من گھڑت بھی نہیں، جیسا کہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں۔“
(الفوائد المجموعة ص : 369)
شوکانی رحمہ اللہ کے جواب میں علامہ عبدالرحمن معلمی رحمہ اللہ (1386ھ) فرماتے ہیں :
خفي على المؤلف حال بعض الروايات، فظنها قوية، والأمر على خلاف ذلك، كما رأيت.
”مؤلف (شوکانی) پر بعض روایات کی تحقیق مخفی رہی، وہ ان روایات کو قوی سمجھ بیٹھے۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔“
(حاشية الفوائد المجموعة ص : 369)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
لكن لا يصح شيء منها، فإنه لا يخلو كل سند منها عن كذاب أو مجهول لا يعرف حاله، وهو شيعي.
”ان میں سے کوئی بھی روایت ثابت نہیں، ہر سند میں کذاب یا مجہول اور غیر معروف راوی موجود ہے۔ یہ شیعہ کی کارستانی ہے۔“
(البداية والنهاية : 93/11)
حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں :
معناه والله أعلم أن النظر إلى وجهه يدعو إلى ذكر الله.
”اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنے سے اللہ یاد آتا ہے۔“والله اعلم!
(تاریخ ابن عساکر : 356/42، وسنده صحيح)
یہ معنی تب درست ہے، جب روایت ثابت ہو، جبکہ روایت ثابت نہیں۔