چوری کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن
جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔
بخاری، کتاب الحدود 6782۔ نسائی، قطع السارق 57/8۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن الله السارق يسرق البيضة فتقطع يده، ويسرق الحبل فتقطع يده
اللہ چور پر لعنت کرے، انڈہ چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
بخاری، کتاب الحدود 6783۔ مسلم ، کتاب الحدود 1687/7۔
قصاص لینے سے درگزر کرنا
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اگر قصاص کا کوئی مقدمہ آپ کے پاس آتا تو آپ اس بارے میں درگزر کرنے کا حکم فرماتے۔
ابوداؤد، کتاب الدیات 4497۔ یہ روایت صحیح ہے۔
② سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما من رجل يصاب بشيء من جسده فيتصدق به إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة
اگر کسی آدمی کو اپنے جسم میں کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ بدلہ نہیں لیتا تو اللہ اس وجہ سے اس شخص کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
ترمذی، کتاب الدیات 1393۔ ابن ماجه، کتاب الدیات 2693۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ ابوالسفر اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوالسفر کا سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
جانوروں سے جماع کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أتى بهيمة فاقتلوه واقتلوها معه
جو شخص کسی جانور سے جماع کرے تو اس کو جانور سمیت قتل کر دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، جانور کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا کہ جس جانور کے ساتھ اس طرح کا فعل کیا گیا ہو اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔
ابوداؤد، کتاب الحدود 4464۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث قوی نہیں۔
دھوکہ دہی اور ڈاکہ ڈالنے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، کچھ لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیاں لوٹ کر لے گئے، پس آپ نے انہیں پکڑ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائیاں پھیر دیں۔
النسائی، التحریم 91/7۔