کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْ ﴾”آپ (ان سے) کہہ دیجیے!“ کہ اگر انھیں ابتدائے تخلیق میں کوئی شک و شبہ ہے تو ﴿ سِیْرُوْافِیالْاَرْضِ ﴾”تم زمین میں چلو پھرو“ اپنے قلب و بدن کے ساتھ ﴿ فَانْ٘ظُ٘رُوْاكَیْفَبَدَاَالْخَلْقَ﴾”پھر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ابتدا کی“ تم دیکھو گے کہ انسانوں کے گروہ تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آ رہے ہیں، تم دیکھو گے کہ درخت اور نباتات وقتاًفوقتاً جنم لے رہے ہیں، تم بادلوں اور ہواؤں کو پاؤ گے کہ وہ لگاتار اپنی تجدید کے مراحل میں رہتے ہیں بلکہ تمام مخلوق دائمی طور پر ابتدائے تخلیق اور اعادۂ تخلیق کے دائرے میں گردش کر رہی ہے۔ ان کی موت صغریٰ … یعنی نیند … کے وقت، ان پر غور کرو کہ رات اپنی تاریکیوں کے ساتھ ان کو ڈھانپ لیتی ہے تب تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جاتی ہیں۔ اپنے بستروں اور ٹھکانوں میں تمام مخلوق کی حالت یوں ہوتی ہے جیسے وہ مردہ ہوں۔ رات بھر وہ اس حالت میں رہتے ہیں حتیٰ کہ جب صبح نمودار ہوتی ہے تو وہ اپنی نیند سے بیدار اور اپنی اس عارضی موت کے بعد دوبارہ زندہ كيے جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہوئے اٹھتے ہیں: (اَلْحَمْدُلِلٰہِالَّذِياَحْیَانَابَعْدَمَااَمَاتَنَاوَإِلَیْہِالنُّشُورِ) ”تعریف ہے اللہ کی جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف قبر سے اٹھ کر جانا ہے۔“
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّاللّٰهُ ﴾”پھر اللہ ہی“ یعنی اس اعادۂ تخلیق کے بعد ﴿ یُنْشِئُالنَّشْاَةَالْاٰخِرَةَ ﴾”دوسری نئی پیدائش کرے گا۔“ یہ ایسی زندگی ہے جس میں موت ہے نہ نیند اس زندگی کو، جنت یا جہنم میں … خلود اور دوام حاصل ہو گا۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرٌ﴾”بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی چیزمیں عاجز نہیں جس طرح وہ تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے اسی طرح تخلیق کے اعادہ پر اس کا قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم إن حَصَلَ معهم ريبٌ وشكٌّ في الابتداء: {سيروا في الأرضِ}: بأبدانِكم وقلوبِكم، {فانظُروا كيف بَدَأ الخَلْقَ}: فإنَّكم سَتَجِدون أمماً من الآدميين والحيواناتِ لا تزال توجد شيئاً فشيئاً، وتجدون النباتَ والأشجار كيف تحدُثُ وقتاً بعد وقت، وتجدون السحاب والرياح ونحوها مستمرَّةً في تجدُّدها، بل الخلق دائماً في بدءٍ وإعادةٍ؛ فانْظُرْ إليهم وقت موتتهم الصغرى ـ النوم ـ؛ وقد هَجَمَ عليهم الليلُ بظلامِهِ، فسكنت منهم الحركاتُ، وانقطعتْ منهم الأصواتُ، وصاروا في فرشهم ومأواهم كالميتين، ثم إنَّهم لم يزالوا على ذلك طول ليلهم حتى انفلق الأصباح، فانتبهوا من رقدتهم، وبُعِثوا من موتتهم؛ قائلين: الحمد لله الذي أحيانا بعدما أماتنا وإليه النُّشور. ولهذا قال: {ثم اللهُ}: بعد الإعادة {يُنْشِئُ النشأة الآخرة}: وهي النشأةُ التي لا تَقْبَلُ موتاً ولا نوماً، وإنَّما هو الخلودُ والدوامُ في إحدى الدارين. {إنَّ الله على كلِّ شيءٍ قديرٌ}: فقدرته تعالى لا يُعْجِزُها شيء، وكما قَدِرَ بها على ابتداءِ الخلق؛ فقدرتُه على الإعادة من باب أولى وأحرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔