ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 20

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾
کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ آپ ان سے کہئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق [32] کو پہلی بار پیدا کیا ہے۔ پھر اللہ ہی دوسری بار پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے
[32] ہر ایک ذرے کے اندر کائناتی نظام:۔
اب اگر انسان کائنات کی دوسری اشیاء اور جمادات میں غور کرے تو اور بھی زیادہ ورطہ حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ ہر مادی چیز ان گنت چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنی ہے۔ سب سے چھوٹا ذرہ جو انسان کے علم میں آیا ہے وہ ایٹم (Atom) ہے۔ جو انیسویں صدی تک جزو لا یتجزّٰی سمجھا جاتا رہا۔ یعنی اتنا حقیر ذرہ جس کی مزید تقسیم ناممکن تھی۔ اور اسے صرف کسی طاقتور خوردبین کی مدد سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر موجودہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس حقیر سے ذرے میں بھی ایک بڑا ہی مضبوط نظام قائم ہے۔ اس میں الیکٹران (electron) بھی ہے اور پروٹون (Proton) بھی۔ اور دونوں بڑے منضبط طریقے سے اس حقیر سے ذرہ کے اندر اس طرح محو گردش ہیں جس طرح ہمارا نظام شمسی اور سورج کے گرد سیارے محو گردش ہیں۔ ان کو اپنا مفوضہ کام کرنے سے کوئی چیز بھی روک نہیں سکتی۔ نہ ہی یہ ایک دوسرے کے کام میں خلل اندازی کرتے ہیں۔ ہر مادہ جسم ایسے ہی لاتعداد ذرات سے مل کر بنتا ہے۔ اور اگر اس ذرہ میں موجود نظام کو توڑا جائے تو اس حقیر سے ذرے سے بے پناہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔ جن سے موجودہ دور میں ایٹم بم تیار کیا جاتا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ اس توانائی کو اپنی تعمیری ضرورتوں کے لئے استعمال کرے یا اس سے نوع انسانی کو تباہ و برباد کر دینے اور تخریبی کاموں کے لئے استعمال کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس ہستی نے ہر مادہ چیز کو اس محیر العقول طریق سے پہلی بار پیدا کر لیا کیا وہ دوبارہ ایسی ہی مخلوق پیدا نہ کر سکے گا؟ موجودہ کیفیات نے ثابت کر دیا ہے کہ مادہ صرف اپنی شکل بدلتا رہتا ہے۔ اس میں سے کچھ بھی اس کا حصہ بالکل فنا نہیں ہو جاتا۔ اس تحقیق نے بعث بعد الموت کے عقیدے کو بہت حد تک قریب الفہم بنا دیا ہے کیونکہ مادہ کے ایک ایک ذرہ پر اللہ تعالیٰ کا براہ راست کنٹرول ہے۔