تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یُعَذِّبُمَنْیَّشَآءُوَیَرْحَمُمَنْیَّشَآءُ﴾”وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔“ یعنی حکم جزائی میں وہ متفرد ہے، یعنی وہ اکیلا ہے جو اطاعت کرنے والوں کو ثواب عطا کرتا ہے انھیں اپنی وسیع رحمت کے سائے میں لیتا ہے اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَیْهِتُقْلَبُوْنَ﴾”اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔“ یعنی تم اس گھر کی طرف لوٹو گے جہاں تم پر اس کے عذاب یا رحمت کے احکام جاری ہوں گے، اس لیے اس دنیا میں نیکیوں کا اکتساب کر لو جو اس کی رحمت کا سبب ہیں اور اس کی نافرمانیوں سے دور رہو جو اس کے عذاب کا باعث ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يعذِّبُ من يشاء ويرحمُ من يشاء}؛ أي: هو المنفرد بالحكم الجزائي، وهو إثابةُ الطائعين ورحمتهم، وتعذيبُ العاصين والتنكيل بهم، {وإليه تُقْلَبونَ}؛ أي: ترجِعونَ إلى الدار التي بها تجري عليكم أحكام عذابِهِ ورحمتِهِ، فاكتسبوا في هذه الدار ما هو من أسباب رحمتِهِ من الطاعات، وابتعدوا من أسباب عذابِهِ وهو المعاصي.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔