تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 19

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۹﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دہرائے گا، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ خدا کو آسان ہے
En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعاده کرے گا، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت ہی آسان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَوَلَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْ٘قَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ یعنی قیامت کے روز اس کا اعادہ کرے گا۔ ﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ بے شک مخلوق کا اعادہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿وَهُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ (الروم:30؍27) وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور ایسا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أوَلَمْ يَرَوْا كيف يُبدئ الله الخلقَ ثم يعيدُه}: يوم القيامةِ. {إنَّ ذلك على الله يسيرٌ}؛ كما قال تعالى: {وهو الذي يبدأ الخلقَ ثم يعيدُه وهو أهونُ عليه}.