تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَوَلَمْیَرَوْاكَیْفَیُبْدِئُاللّٰهُالْخَلْ٘قَثُمَّیُعِیْدُهٗ ﴾”کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔“ یعنی قیامت کے روز اس کا اعادہ کرے گا۔ ﴿ اِنَّذٰلِكَعَلَىاللّٰهِیَسِیْرٌ ﴾”بے شک مخلوق کا اعادہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے“ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿وَهُوَالَّذِیْیَبْدَؤُاالْخَلْقَثُمَّیُعِیْدُهٗوَهُوَاَهْوَنُعَلَیْهِ﴾ (الروم:30؍27) ”وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور ایسا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أوَلَمْ يَرَوْا كيف يُبدئ الله الخلقَ ثم يعيدُه}: يوم القيامةِ. {إنَّ ذلك على الله يسيرٌ}؛ كما قال تعالى: {وهو الذي يبدأ الخلقَ ثم يعيدُه وهو أهونُ عليه}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔