ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 20

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾
کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20-1یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی انواع و اقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کئے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انھیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے؟