تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27]
پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53]
اور جگہ ارشاد ہے «أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ۱؎ [52-الطور:35-36] ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘
یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔
عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔
اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم إن حَصَلَ معهم ريبٌ وشكٌّ في الابتداء: {سيروا في الأرضِ}: بأبدانِكم وقلوبِكم، {فانظُروا كيف بَدَأ الخَلْقَ}: فإنَّكم سَتَجِدون أمماً من الآدميين والحيواناتِ لا تزال توجد شيئاً فشيئاً، وتجدون النباتَ والأشجار كيف تحدُثُ وقتاً بعد وقت، وتجدون السحاب والرياح ونحوها مستمرَّةً في تجدُّدها، بل الخلق دائماً في بدءٍ وإعادةٍ؛ فانْظُرْ إليهم وقت موتتهم الصغرى ـ النوم ـ؛ وقد هَجَمَ عليهم الليلُ بظلامِهِ، فسكنت منهم الحركاتُ، وانقطعتْ منهم الأصواتُ، وصاروا في فرشهم ومأواهم كالميتين، ثم إنَّهم لم يزالوا على ذلك طول ليلهم حتى انفلق الأصباح، فانتبهوا من رقدتهم، وبُعِثوا من موتتهم؛ قائلين: الحمد لله الذي أحيانا بعدما أماتنا وإليه النُّشور. ولهذا قال: {ثم اللهُ}: بعد الإعادة {يُنْشِئُ النشأة الآخرة}: وهي النشأةُ التي لا تَقْبَلُ موتاً ولا نوماً، وإنَّما هو الخلودُ والدوامُ في إحدى الدارين. {إنَّ الله على كلِّ شيءٍ قديرٌ}: فقدرته تعالى لا يُعْجِزُها شيء، وكما قَدِرَ بها على ابتداءِ الخلق؛ فقدرتُه على الإعادة من باب أولى وأحرى.