ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 20

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾
کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) { قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں پر غور کرو، آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو، درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو،پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی، یہ سب کچھ نہیں تھا، پھر اللہ نے سب کچھ پیدا کر دیا۔ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں، اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کر لو۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، پہلی دفعہ پیدا کرنے پر بھی اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی۔ پچھلی آیت میں اپنے نفس اور اپنی ذات پر غور کرنے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں آفاق پر غور کا حکم دیا۔