قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثَبَتَ وَلَاؤُهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرُدَّ وَلَاءَهُ، فَيَرُدَّهُ رَقِيقًا وَيَهَبَهُ وَلَا يَبِيعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر اس (آزاد کرنے والے) کا حق ولاء ثابت ہو گیا، لہٰذا اسے یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ولاء کو رد کر دے اور اسے (دوبارہ) غلام بنا لے، اور نہ ہی وہ اس (ولاء) کو ہبہ کر سکتا ہے اور نہ بیچ سکتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْأَخْرَمُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”ولاء کو فروخت کیا جائے اور اسے ہبہ کیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ. . لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، ⦗٤٩٤⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ..
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ " كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، عَنْ يَعْقُوبَ أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی طرح ہے، نہ تو اسے فروخت کیا جائے اور نہ ہی ہبہ کیا جائے۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ عُقَيْبَ هَذَا الْحَدِيثِ: هَذَا خَطَأٌ، لِأَنَّ الثِّقَاتِ لَمْ يَرْوُوهُ هَكَذَا، وَإِنَّمَا رَوَاهُ الْحَسَنُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن زیاد نیشاپوری رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بعد فرمایا: یہ غلطی ہے، کیونکہ ثقہ راویوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، بلکہ اسے حسن (بصری) رحمہ اللہ نے مرسل روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی مانند ہے۔ اس کو فروخت اور ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔“
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کئی دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کئی دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ ". قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا ضَمْرَةُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " قَدْ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ، كَمَا رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ. فَكَأَنَّ الْخَطَأَ وَقَعَ مِنْ غَيْرِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی مانند ہے، اسے ہبہ یا فروخت نہ کیا جائے گا۔“
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو سفیان سے ضمرہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے ابراہیم بن محمد بن یوسف فریابی نے ضمرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ایک جماعت روایت کرتی ہے کہ ”(نبی کریم ﷺ نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“، تو گویا غلطی کسی اور سے واقع ہوئی ہے، واللہ اعلم۔
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو سفیان سے ضمرہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے ابراہیم بن محمد بن یوسف فریابی نے ضمرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ایک جماعت روایت کرتی ہے کہ ”(نبی کریم ﷺ نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“، تو گویا غلطی کسی اور سے واقع ہوئی ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ " هَذَا وَهْمٌ مِنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ، أَوْ مَنْ دُونَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا، فَإِنَّ الْحُفَّاظَ إِنَّمَا رَوَوْهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ ⦗٤٩٥⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی مانند ہے، ہبہ یا فروخت نہ کیا جائے گا۔“
یہ یحییٰ بن سلیم یا سند میں اس سے نیچے کسی راوی کا سند اور متن دونوں میں وہم ہے، کیونکہ حفاظ نے اسے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
یہ یحییٰ بن سلیم یا سند میں اس سے نیچے کسی راوی کا سند اور متن دونوں میں وہم ہے، کیونکہ حفاظ نے اسے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فِي الْبَيْعِ. وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ عَلَى الْوَهْمِ فِي إِسْنَادِهِ دُونَ مَتْنِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ، فَقَالَ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ أَخْطَأَ فِي حَدِيثِهِ، إِنَّمَا هُوَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَعْنِي: بِاللَّفْظِ الْمَشْهُورِ..
حافظ ثناء اللہ
یہی روایت (حفاظ کی سند سے) عبیداللہ بن عمر سے بھی مروی ہے، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔
محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے اسے یحییٰ بن سلیم سے روایت کیا ہے، جس میں وہم صرف سند میں ہے، متن میں نہیں۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) رحمہ اللہ نے کہا، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا ہے: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم نے اپنی حدیث میں غلطی کی ہے، یہ تو صرف عبداللہ بن دینار عن ابن عمر کی سند سے ہے، اور اس حدیث کو، یعنی مشہور الفاظ کے ساتھ، عبداللہ بن دینار اکیلے روایت کرتے ہیں۔
محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے اسے یحییٰ بن سلیم سے روایت کیا ہے، جس میں وہم صرف سند میں ہے، متن میں نہیں۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) رحمہ اللہ نے کہا، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا ہے: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم نے اپنی حدیث میں غلطی کی ہے، یہ تو صرف عبداللہ بن دینار عن ابن عمر کی سند سے ہے، اور اس حدیث کو، یعنی مشہور الفاظ کے ساتھ، عبداللہ بن دینار اکیلے روایت کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا جَدِّي، ثنا الزِّيَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، فَذَكَرَهُ. وَهَذَا اخْتِلَافٌ ثَالِثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ وَكَانَ سَيِّئَ الْحِفْظِ، كَثِيرَ الْخَطَأِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ بِإِسْنَادَيْنِ، وَهِمَ فِيهِمَا، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ لِلزُّهْرِيِّ فِيهِ أَصْلٌ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا اللَّفْظُ مُرْسَلًا كَمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَيُرْوَى عَمَّنْ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
یہ یحییٰ بن سلیم سے تیسرا اختلاف ہے، اور وہ برے حافظے والے اور بہت غلطیاں کرنے والے تھے، واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس بارے میں عبداللہ بن نافع سے دو سندوں سے روایت کی گئی ہے جن میں انہیں وہم ہوا، اور ان دونوں میں ان پر اختلاف کیا گیا ہے: یحییٰ بن ابی انیسہ عن زہری عن سعید بن مسیب عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً، حالانکہ زہری کے ہاں اس کی کوئی اصل نہیں، اور یحییٰ بن ابی انیسہ سخت ضعیف ہے۔ یہ الفاظ تو صرف مرسل روایت کیے جاتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور نبی ﷺ سے نیچے کے لوگوں سے بھی مروی ہیں۔
یہ یحییٰ بن سلیم سے تیسرا اختلاف ہے، اور وہ برے حافظے والے اور بہت غلطیاں کرنے والے تھے، واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس بارے میں عبداللہ بن نافع سے دو سندوں سے روایت کی گئی ہے جن میں انہیں وہم ہوا، اور ان دونوں میں ان پر اختلاف کیا گیا ہے: یحییٰ بن ابی انیسہ عن زہری عن سعید بن مسیب عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً، حالانکہ زہری کے ہاں اس کی کوئی اصل نہیں، اور یحییٰ بن ابی انیسہ سخت ضعیف ہے۔ یہ الفاظ تو صرف مرسل روایت کیے جاتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور نبی ﷺ سے نیچے کے لوگوں سے بھی مروی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو الْعَلَاءِ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ الْوَلَاءَ كَالنَّسَبِ، لَا يُبَاعُ، وَلَا يُوهَبُ ". وَرَوَاهُ حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ وَقَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ولاء کا رشتہ نسب کے رشتے کی مانند ہے، اس کو فروخت یا ہبہ نہ کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْوَلَاءُ بِمَنْزِلَةِ الْحِلْفِ، أَقِرَّهُ حَيْثُ جَعَلَهُ اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولاء ایک معاہدہ کی مانند ہے، تو میں بھی اس کو برقرار رکھوں گا جہاں اللہ نے اس کو برقرار رکھا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَاءُ بِمَنْزِلَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ، أَقِرَّهُ حَيْثُ جَعَلَهُ اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی جگہ ہے، فروخت یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس کو برقرار رکھوں گا، جہاں اللہ نے اس کو برقرار رکھا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّسَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ: ”ولاء نسب کی ایک قسم ہے۔“
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ فَقَالَ: " أَيَبِيعُ الرَّجُلُ نَسَبَهُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ولاء کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: کیا نسب کو فروخت کیا جاتا ہے؟
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَا يُبَاعُ الْوَلَاءُ وَلَا يُوهَبُ، الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ولاء کو فروخت یا ہبہ نہ کیا جائے گا، ولاء اس کی ہے جس نے آزاد کیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يُبَاعُ الْوَلَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ولاء کو فروخت نہ کیا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ ". فِي كِتَابِي: نَهَا بِالْأَلِفِ، وَعَلَيْهِ: صَحَّ، فَظَاهِرُهُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ..
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔