❮
❯
حدیث نمبر: 21439
أَخْبَرَنَاهُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا جَدِّي، ثنا الزِّيَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، فَذَكَرَهُ. وَهَذَا اخْتِلَافٌ ثَالِثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ وَكَانَ سَيِّئَ الْحِفْظِ، كَثِيرَ الْخَطَأِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ بِإِسْنَادَيْنِ، وَهِمَ فِيهِمَا، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ لِلزُّهْرِيِّ فِيهِ أَصْلٌ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا اللَّفْظُ مُرْسَلًا كَمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَيُرْوَى عَمَّنْ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حافظ ثناء اللہ

ایضاً۔
یہ یحییٰ بن سلیم سے تیسرا اختلاف ہے، اور وہ برے حافظے والے اور بہت غلطیاں کرنے والے تھے، واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس بارے میں عبداللہ بن نافع سے دو سندوں سے روایت کی گئی ہے جن میں انہیں وہم ہوا، اور ان دونوں میں ان پر اختلاف کیا گیا ہے: یحییٰ بن ابی انیسہ عن زہری عن سعید بن مسیب عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً، حالانکہ زہری کے ہاں اس کی کوئی اصل نہیں، اور یحییٰ بن ابی انیسہ سخت ضعیف ہے۔ یہ الفاظ تو صرف مرسل روایت کیے جاتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور نبی ﷺ سے نیچے کے لوگوں سے بھی مروی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21439