کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے کسی شخص سے ولاء کا رشتہ قائم کیا یا اس کے ہاتھ پر اسلام لایا۔
حدیث نمبر: 21448
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمْ يَكُنْ مَوْلًى لَهُ بِالْإِسْلَامِ، وَلَا الْمُوَالِاةِ "، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: 5] وَقَالَ: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 37] فَنَسَبَ الْمَوَالِيَ إِلَى نَسَبَيْنِ: أَحَدُهُمَا إِلَى الْآبَاءِ، وَالْآخَرُ إِلَى الْوَلَاءِ، وَجَعَلَ الْوَلَاءَ بِالنِّعْمَةِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (کسی کے ہاتھ پر) اسلام لانے یا (باہمی) موالات کی بنا پر اس کا مولیٰ نہیں بنے گا۔“
اور انہوں نے اس بارے میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی ﷺ سے فرمان سے استدلال کیا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ ”انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست (موالی) ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 5]
اور فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ ”اور (یاد کریں) جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
تو اللہ تعالیٰ نے موالی کو دو نسبتوں کی طرف منسوب کیا: ان میں سے ایک باپوں کی طرف، اور دوسری ولاء کی طرف، اور ولاء کو انعام (یعنی آزاد کرنے کے احسان) کی بنیاد پر قرار دیا...
اور انہوں نے اس بارے میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی ﷺ سے فرمان سے استدلال کیا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ ”انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست (موالی) ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 5]
اور فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ ”اور (یاد کریں) جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
تو اللہ تعالیٰ نے موالی کو دو نسبتوں کی طرف منسوب کیا: ان میں سے ایک باپوں کی طرف، اور دوسری ولاء کی طرف، اور ولاء کو انعام (یعنی آزاد کرنے کے احسان) کی بنیاد پر قرار دیا...
حدیث نمبر: 21448
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خریدنا چاہی تاکہ آزاد کر دیں تو مالک کہنے لگے: فروخت کر دیتے ہیں، لیکن ولاء میری ہوگی۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز تجھے خریدنے سے نہ روکے۔ ولاء اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 21449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. ⦗٤٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 21450
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِيَ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا يَعْنِي: فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں کہ میں نے اپنے آقا سے نو اوقیوں پر مکاتبت کر لی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینا ہے، آپ میری مدد کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: ”اگر تیرے آقا پسند کریں تو میں یہ رقم ادا کر دوں اور ولاء میرے لیے ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر یہ بات اپنے آقاؤں کے سامنے بیان کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو نبی ﷺ بھی تشریف فرما تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں: ولاء ان کی ہوگی، نبی ﷺ نے بھی یہ بات سن لی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریدو اور ولاء کی شرط رکھو، ولاء ہوتی ہی آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ: ”لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرائط بھی ہوں، اللہ کا فیصلہ زیادہ درست ہے اور اس کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21451
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کے لوگوں سے بریرہ کو خریدا، انہوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اس کے لیے ہے جو نعمت کا والی بنا۔“
حدیث نمبر: 21452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ هُوَ ابْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ وَكِيعٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِأَنَّ النَّسَبَ شَبِيهٌ بِالْوَلَاءِ، وَالْوَلَاءَ شَبِيهٌ بِالنَّسَبِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا لَا أَبًا لَهُ يُعْرَفُ، سَأَلَ رَجُلًا أَنْ يَنْسِبَهُ إِلَى نَفْسِهِ وَرَضِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ لَهُ ابْنًا أَبَدًا، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ "، وَكَذَلِكَ إِذَا لَمْ يُعْتِقِ ⦗٤٩٩⦘ الرَّجُلُ رَجُلًا لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ مَنْسُوبًا إِلَيْهِ بِالْوَلَاءِ، فَيُدْخِلَ عَلَى عَاقِلَتِهِ الْمَظْلَمَةَ، فِي عْقْلِهِمْ عَنْهُ، وَيْنِسبَ إِلَى نَفْسِهِ وَلَاءَ مَنْ لَمْ يُعْتِقْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ، وَبَيَّنَ فِي قَوْلِهِ: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، أَنَّهُ لَا يَكُونُ الْوَلَاءُ إِلَّا لِمَنْ أَعْتَقَ..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ولاء کی شرط رکھی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو خرید! ولاء اس کا حق ہے جس نے قیمت ادا کی اور نعمت کا والی بنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نسب ولاء کے مشابہ ہے اور ولاء نسب کے مشابہ ہے۔ اگر ایک آدمی کا باپ معروف نہیں ہے، ایک آدمی نے سوال کیا کہ وہ اپنا نسب بیان کرے، وہ آدمی راضی ہو جاتا ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ اس کا بیٹا ہی رہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کے لیے ہے،“ اسی طرح جو مرد کسی کو آزاد نہیں کرتا اس کی جانب ولاء کی نسبت ہونا جائز نہیں ہے، وگرنہ وہ اپنے عاقلہ پر ظلم کرے گا۔ ولاء کی نسبت اپنی طرف کرنا حالانکہ اس نے آزاد نہیں کیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا،“ اس قول سے بھی واضح ہے کہ ولاء اس کی ہے جس نے آزاد کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نسب ولاء کے مشابہ ہے اور ولاء نسب کے مشابہ ہے۔ اگر ایک آدمی کا باپ معروف نہیں ہے، ایک آدمی نے سوال کیا کہ وہ اپنا نسب بیان کرے، وہ آدمی راضی ہو جاتا ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ اس کا بیٹا ہی رہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کے لیے ہے،“ اسی طرح جو مرد کسی کو آزاد نہیں کرتا اس کی جانب ولاء کی نسبت ہونا جائز نہیں ہے، وگرنہ وہ اپنے عاقلہ پر ظلم کرے گا۔ ولاء کی نسبت اپنی طرف کرنا حالانکہ اس نے آزاد نہیں کیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا،“ اس قول سے بھی واضح ہے کہ ولاء اس کی ہے جس نے آزاد کیا۔