کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فرع (اونٹنی کا پہلا بچہ) اور عتیرہ (رجب کی قربانی) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَنَصَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْمَعْنِيِّ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ ⦗٥٢٤⦘ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: قَالَ نُبَيْشَةُ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ كَانَ، وَبِرُّوا لِلَّهِ وَأَطْعِمُوا". قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَجْمَلَ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ". قَالَ خَالِدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: " عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ". قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَمِ السَّائِمَةُ؟ قَالَ: مِائَةٌ. كَذَا قَالَهُ أَبُو قِلَابَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی کہ ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینہ میں جانور ذبح کرتے تھے، آپ ﷺ ہمیں اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے ذبح کرو اور لوگوں کو کھلاؤ اور نیکی حاصل کرو۔“ اس شخص نے کہا: ہم جاہلیت میں «الْفَرَعَ» ”فرع“ ذبح کرتے تھے، اس کے بارے میں آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چرنے والی بکریوں میں ایک «الْفَرَعُ» ”فرع“ ہے۔ تم اپنے چوپایوں کو چارا دو جب وہ مکمل اونٹ بن جائے تو ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر دو۔“ خالد کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ مسافروں پر صدقہ کیا جائے، یہ بہتر ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَرَعَةِ مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ وَاحِدَةٌ. كَذَا فِي كِتَابِي، وَفِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: " فِي كُلِّ خَمْسٍ وَاحِدَةٌ ". وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ وَقَالَ: " مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ شَاةً شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پچاس بکریوں میں سے ایک بکری اللہ کے راستے میں دینے“ کا حکم دیا۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ پچاس میں سے ایک بکری اللہ کے راستے میں دی جائے۔
عبداللہ بن عثمان بن خثیم فرماتے ہیں کہ ہر پچاس میں سے ایک بکری اللہ کے راستے میں دی جائے۔
عبداللہ بن عثمان بن خثیم فرماتے ہیں کہ ہر پچاس میں سے ایک بکری اللہ کے راستے میں دی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ح. قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أُرَاهُ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ: " وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكُوهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا شَعُوبًا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ، فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ، أَوْ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْزَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ، تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ اور «الْفَرَعُ» کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْفَرَعُ» حق ہے، تم اسے مکمل اونٹ بننے تک چھوڑے رکھو، پھر اسے بیواؤں کو دے دو یا اللہ کے راستہ میں سواری کے لیے دے دیا جائے۔ یہ ذبح کرنے سے بہتر ہے، یہاں تک کہ اس کا گوشت اس کے بالوں سے چمٹ جائے اور آپ اپنے برتن کو انڈیل دیں اور اپنی اونٹنی کو چھوڑ دیں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَمَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ وَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ ". وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ: " حَقٌّ ". وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ فَقَالَ: " حَقٌّ، وَلَيْسَ هُوَ أَنْ تَذْبَحَهُ عُرَاةً مِنْ عُرَاةٍ، وَلَكِنْ تُمَكِّنُهُ مِنْ مَالِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ زُخْرُبًّا - يَعْنِي ذَبَحْتَهُ - وَذَلِكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ، وَتَذْبَحَهُ يَخْتَلِطُ لَحْمُهُ بِشَعَرِهِ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَأَنْ تَتْرُكَهُ تَحْتَ أُمِّهِ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس میدانِ عرفات میں موجود تھا۔ آپ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں عقوق کو پسند نہیں کرتا، جس کے ہاں بچہ پیدا ہو، اگر وہ جانور ذبح کرنا چاہے تو کرے“ اور آپ ﷺ سے عتیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حق ہے“ اور آپ ﷺ سے فرع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”درست ہے، لیکن اس کو ابتدا ہی میں ذبح نہ کیا جائے بلکہ اپنے مال میں رکھ کر مکمل اونٹ بنا کر ذبح کرو، یہ بہتر ہے کہ تم اس کا گوشت برتنوں سے انڈیل دو اور اونٹنی کو ویسے چھوڑ دو اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چمٹ جائے۔“
(ب) عبدالجبار بن علاء رحمہ اللہ، سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس بچے کو ماں کا دودھ پینے دیں یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے۔
(ب) عبدالجبار بن علاء رحمہ اللہ، سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس بچے کو ماں کا دودھ پینے دیں یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ⦗٥٢٥⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ السَّهْمِيِّ، ثنا زُرَارَةُ بْنُ كَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، أَوْ قَالَ: بِمِنًى وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ: " مَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ ". وَقَالَ: " فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّتُهَا ". وَوَصَفَ لَنَا أَبُو مَعْمَرٍ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَاحِدَةً.
حافظ ثناء اللہ
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں میدانِ عرفات یا منیٰ میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عتیرے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو جانور ذبح کرنا چاہے کرے، جو نہ چاہے نہ کرے اور جو بکری کا بچہ ذبح کرنا چاہے کرے، جو نہ چاہے نہ کرے“ اور بکری کے بارے میں فرمایا کہ: ”میں اس کی قربانی کرنا چاہتا ہوں“ تو ابو معمر نے سبابہ (شہادت کی) انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے سمجھایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مِهْرَانَ الدَّيْنُورِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي أَبُو رَزِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ". قَالَ وَكِيعٌ: لَا أَدَعُهَا أَبَدًا. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ فَقَالَ: ذَبَحْنَا فِي رَجَبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو رزین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں جانور ذبح کر کے کھاتے اور آنے والوں کو بھی کھلاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ابو عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم رجب میں جانور ذبح کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ الْغَامِدِيِّ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ، هَلْ تَدْرِي مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمَّى الرَّجَبِيَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مخنف بن سلیم غامدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! ہر سال ہر گھر والے پر ایک قربانی اور ایک عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ یہ وہ جانور ہے جس کو تم ماہِ رجب میں ذبح کرتے ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ «لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ» ”فرع اور عتیرہ نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ ". قَالَ: وَالْفَرَعُ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”فرع اور عتیرہ نہیں ہے۔“ فرع ایسا بچہ جسے جنم دینے کے بعد وہ بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ ایسا جانور جو رجب کے مہینے میں ذبح کیا جاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَوَانَةَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ سَمِعْتُهُ ⦗٥٢٦⦘ يَقُولُ: هُوَ شَيْءٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَطْلُبُونَ بِهِ الْبَرَكَةَ فِي أَمْوَالِهِمْ، فَكَانَ أَحَدُهُمْ يَذْبَحُ بِكْرَ نَاقَتِهِ أَوْ شَاتِهِ فَلَا يَغْذُوهُ رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فِيمَا يَأْتِي بَعْدَهُ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ: " فَرِّعُوْا إِنْ شِتْئَمْ "، أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ، وَكَانُوا يَسْأَلُونَهُ عَمَّا كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خَوْفًا أَنْ يُكْرَهَ فِي الْإِسْلَامِ فَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ لَا مَكْرُوهَ عَلَيْهِمْ فِيهِ، وَأَمَرَهُمُ اخْتِيَارًا أَنْ يَغْذُوهُ ثُمَّ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ فَقَالَ: " الْفَرَعَةُ حَقٌّ، وَأَنْ تَغْذُوهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ، وَتَأْكُلَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ: الْفَرَعَةُ حَقٌّ، مَعْنَاهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ، وَلَكِنَّهُ كَلَامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَابِ السَّائِلِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: " لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ "، وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلَافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ، إِنَّمَا هَذَا لَا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلَا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً، أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجَبِيَّةُ، وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَتِيرَةَ "، عَلَى مَعْنَى لَا عَتِيرَةَ لَازِمَةٌ، وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَيْثُ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ عَلَى مَعْنَى اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبْحَ لِلَّهِ لَا لِغَيْرِهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لَا أَنَّهَا فِي رَجَبٍ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ.
حافظ ثناء اللہ
مزنی فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے اپنے مالوں کو بابرکت بنانے کے لیے اپنی اونٹنی یا بکری کے بچے کو بغیر دودھ پلائے ذبح کر دیتے تھے۔ جب انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ذبح کرنا چاہو تو کر لو۔“ اور انہوں نے پوچھا کہ وہ یہ کام جاہلیت میں کیا کرتے تھے، کہیں اسلام اس کو مکروہ تو نہیں سمجھتا؟ تو آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ حرام نہیں ہے اور آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ بچے کو غذا دی جائے، پھر اللہ کے راستہ میں اس پر سواری کی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی ﷺ سے «الْفَرَعُ» (فرع) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْفَرَعُ» حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں، اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْفَرَعُ» حق ہے، اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں، اور جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”«الْفَرَعُ» اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) نہیں ہے۔“ اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی، اور آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ”«الْعَتِيرَةُ» جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کر سکتے ہو۔“ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی ﷺ سے «الْفَرَعُ» (فرع) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْفَرَعُ» حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں، اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْفَرَعُ» حق ہے، اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں، اور جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”«الْفَرَعُ» اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) نہیں ہے۔“ اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی، اور آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ”«الْعَتِيرَةُ» جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کر سکتے ہو۔“ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفَرَعُ أَوَّلُ شَيْءٍ تُنْتِجُهُ النَّاقَةُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ حِينَ يُولَدُ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ: " دَعُوهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَيَصِيرَ لَهُ طَعْمٌ. وَالزُّخْرُبُّ: هُوَ الَّذِي قَدْ غَلُظَ جِسْمُهُ وَاشْتَدَّ لَحْمُهُ، وَقَوْلُهُ: " خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ "، يَقُولُ: إِذَا ذَبَحْتَهُ حِينَ تَضَعُهُ أُمُّهُ بَقِيَتِ الْأُمُّ بِلَا وَلَدٍ تُرْضِعُهُ فَانْقَطَعَ لِذَلِكَ لَبَنُهَا، يَقُولُ: فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَأْتَ إِنَاءَكَ وَهَرَقْتَهُ، وَقَوْلُهُ: " تُوَلِّهَ نَاقَتَكَ " فَهُوَ ذَبْحُهُ وَلَدَهَا، وَكُلُّ أُنْثَى فَقَدَتْ وَلَدَهَا فَهِيَ وَالِهٌ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبید رحمہ اللہ نے کہا: فرع اونٹنی کا وہ پہلا بچہ جسے وہ ذبح کر دیا کرتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”اس کو دو یا تین سال کا مکمل اونٹ بننے تک چھوڑے رکھو کہ یہ کھانے کے قابل ہو جائے، یعنی ایسا جانور جس کا جسم موٹا اور گوشت سخت ہو جائے۔“ «خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ» ”(یہ اس سے) بہتر ہے کہ تم اپنا برتن الٹ دو،“ جب آپ اونٹنی کے بچے کو ذبح کر دیں گے تو اونٹنی بغیر بچے کے رہ جائے گی اس کا دودھ ختم ہو جائے گا۔ «وَلَهَ مَا قُتِلَ» ”اس کے بچے کو ذبح کرنا،“ پس وہ مونث جو اپنے بچے کو گم پائے وہ والہ ہے۔