حدیث نمبر: 19349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفَرَعُ أَوَّلُ شَيْءٍ تُنْتِجُهُ النَّاقَةُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ حِينَ يُولَدُ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ: " دَعُوهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَيَصِيرَ لَهُ طَعْمٌ. وَالزُّخْرُبُّ: هُوَ الَّذِي قَدْ غَلُظَ جِسْمُهُ وَاشْتَدَّ لَحْمُهُ، وَقَوْلُهُ: " خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ "، يَقُولُ: إِذَا ذَبَحْتَهُ حِينَ تَضَعُهُ أُمُّهُ بَقِيَتِ الْأُمُّ بِلَا وَلَدٍ تُرْضِعُهُ فَانْقَطَعَ لِذَلِكَ لَبَنُهَا، يَقُولُ: فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَأْتَ إِنَاءَكَ وَهَرَقْتَهُ، وَقَوْلُهُ: " تُوَلِّهَ نَاقَتَكَ " فَهُوَ ذَبْحُهُ وَلَدَهَا، وَكُلُّ أُنْثَى فَقَدَتْ وَلَدَهَا فَهِيَ وَالِهٌ.
حافظ ثناء اللہ

علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبید رحمہ اللہ نے کہا: فرع اونٹنی کا وہ پہلا بچہ جسے وہ ذبح کر دیا کرتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”اس کو دو یا تین سال کا مکمل اونٹ بننے تک چھوڑے رکھو کہ یہ کھانے کے قابل ہو جائے، یعنی ایسا جانور جس کا جسم موٹا اور گوشت سخت ہو جائے۔“ «خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ» ”(یہ اس سے) بہتر ہے کہ تم اپنا برتن الٹ دو،“ جب آپ اونٹنی کے بچے کو ذبح کر دیں گے تو اونٹنی بغیر بچے کے رہ جائے گی اس کا دودھ ختم ہو جائے گا۔ «وَلَهَ مَا قُتِلَ» ”اس کے بچے کو ذبح کرنا،“ پس وہ مونث جو اپنے بچے کو گم پائے وہ والہ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19349
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»