السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الفرع والعتيرة باب: فرع (اونٹنی کا پہلا بچہ) اور عتیرہ (رجب کی قربانی) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَمَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ وَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ ". وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ: " حَقٌّ ". وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ فَقَالَ: " حَقٌّ، وَلَيْسَ هُوَ أَنْ تَذْبَحَهُ عُرَاةً مِنْ عُرَاةٍ، وَلَكِنْ تُمَكِّنُهُ مِنْ مَالِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ زُخْرُبًّا - يَعْنِي ذَبَحْتَهُ - وَذَلِكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ، وَتَذْبَحَهُ يَخْتَلِطُ لَحْمُهُ بِشَعَرِهِ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَأَنْ تَتْرُكَهُ تَحْتَ أُمِّهِ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ ".زید بن اسلم رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس میدانِ عرفات میں موجود تھا۔ آپ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں عقوق کو پسند نہیں کرتا، جس کے ہاں بچہ پیدا ہو، اگر وہ جانور ذبح کرنا چاہے تو کرے“ اور آپ ﷺ سے عتیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حق ہے“ اور آپ ﷺ سے فرع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”درست ہے، لیکن اس کو ابتدا ہی میں ذبح نہ کیا جائے بلکہ اپنے مال میں رکھ کر مکمل اونٹ بنا کر ذبح کرو، یہ بہتر ہے کہ تم اس کا گوشت برتنوں سے انڈیل دو اور اونٹنی کو ویسے چھوڑ دو اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چمٹ جائے۔“
(ب) عبدالجبار بن علاء رحمہ اللہ، سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس بچے کو ماں کا دودھ پینے دیں یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے۔