السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الفرع والعتيرة باب: فرع (اونٹنی کا پہلا بچہ) اور عتیرہ (رجب کی قربانی) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَنَصَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْمَعْنِيِّ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ ⦗٥٢٤⦘ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: قَالَ نُبَيْشَةُ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ كَانَ، وَبِرُّوا لِلَّهِ وَأَطْعِمُوا". قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَجْمَلَ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ". قَالَ خَالِدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: " عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ". قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَمِ السَّائِمَةُ؟ قَالَ: مِائَةٌ. كَذَا قَالَهُ أَبُو قِلَابَةَ.سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی کہ ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینہ میں جانور ذبح کرتے تھے، آپ ﷺ ہمیں اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے ذبح کرو اور لوگوں کو کھلاؤ اور نیکی حاصل کرو۔“ اس شخص نے کہا: ہم جاہلیت میں «الْفَرَعَ» ”فرع“ ذبح کرتے تھے، اس کے بارے میں آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چرنے والی بکریوں میں ایک «الْفَرَعُ» ”فرع“ ہے۔ تم اپنے چوپایوں کو چارا دو جب وہ مکمل اونٹ بن جائے تو ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر دو۔“ خالد کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ مسافروں پر صدقہ کیا جائے، یہ بہتر ہے۔