حدیث نمبر: 19345
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ الْغَامِدِيِّ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ، هَلْ تَدْرِي مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمَّى الرَّجَبِيَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مخنف بن سلیم غامدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! ہر سال ہر گھر والے پر ایک قربانی اور ایک عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ یہ وہ جانور ہے جس کو تم ماہِ رجب میں ذبح کرتے ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19345
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»