کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بدوؤں کی فخریہ قربانیوں اور جنوں کے لیے کیے گئے ذبیحوں کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُعَاقَرَةِ الْأَعْرَابِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: غُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَطَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”غیر اللہ کے نام پر ذبح کر کے لوگوں کو کھلانے سے“ منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّوزَنِيُّ، أنبا أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ ". قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا: الْعَقْرُ يَعْنِي الْأَعْرَابَ عِنْدَ الْمَاءِ يَعْقِرُ هَذَا وَيَعْقِرُ هَذَا، فَيَأْكُلُونَ لِغَيْرِ اللهِ وَرَسُولِهِ. وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: مُعَاقَرَةُ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَبَارَى الرَّجُلَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُجَادِلُ صَاحِبَهُ، فَيَعْقِرُ هَذَا عَدَدًا مِنْ إِبِلِهِ، وَيَعْقِرُ صَاحِبُهُ، فَأَيُّهُمَا كَانَ أَكْثَرَ عَقْرًا غَلَبَ صَاحِبَهُ، وَكَرِهَ لُحُومَهَا لِئَلَّا يَكُونَ مِمَّا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا نہیں ہے۔“ ابو سلمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کئی اشخاص مقابلہ بازی کے لیے اونٹ ذبح کر کے لوگوں کو کھلاتے اور جو شخص اونٹ ذبح کرنے میں دوسرے پر غلبہ پا لیتا وہ مقابلہ جیت جاتا۔ آپ ﷺ نے ایسے جانور کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر کیا جاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَبَائِحِ الْجِنِّ، قَالَ: وَأَمَّا ذَبَائِحُ الْجِنِّ أَنْ تَشْتَرِيَ الدَّارَ وَتَسْتَخْرِجَ الْعَيْنَ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، فَتَذْبَحَ لَهَا ذَبِيحَةً لِلطِّيَرَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَهَذَا التَّفْسِيرُ فِي الْحَدِيثِ مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ يَتَطَيَّرُونَ إِلَى هَذَا الْفِعْلِ مَخَافَةَ أَنَّهُمْ إِنْ لَمْ يَذْبَحُوا فَيُطْعِمُوا أَنْ يُصِيبَهُمْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْجِنِّ يُؤْذِيهِمْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا وَنَهَى عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”جنوں کے نام پر جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا“؛ فرماتے ہیں کہ گھر خریدا جاتا یا چشمہ نکالا جاتا یا اس کے مشابہ (کوئی کام ہوتا) تو یہ بدشگونی کی وجہ سے اس کے لیے جانور ذبح کرتے تھے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ صرف اس لیے ذبح کرتے تھے کہ اگر انہوں نے ایسا کام نہ کیا تو جن انہیں نقصان پہنچائیں گے، تو نبی کریم ﷺ نے اسے باطل قرار دیا اور اس سے منع فرما دیا۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ صرف اس لیے ذبح کرتے تھے کہ اگر انہوں نے ایسا کام نہ کیا تو جن انہیں نقصان پہنچائیں گے، تو نبی کریم ﷺ نے اسے باطل قرار دیا اور اس سے منع فرما دیا۔