کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ ابْنُ السَّقَّاءِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ: " وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَكَذَلِكَ قَالَهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِي قِرَاءَتِنَا " وَالسَّارِقُونَ وَالسَّارِقَاتُ تُقْطَعُ أَيْمَانُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت نقل فرماتے ہیں: ﴿چوری کرنے والا مرد ہو یا چوری کرنے والی عورت ان کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا﴾ [سورة المائدة: 38] اور اسی طرح سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ابن ابی نجیح سے بیان کیا ہے، اور یہ روایت منقطع ہے، اور اسی طرح ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے، مگر انہوں نے فرمایا: ہماری قراءت میں ہے: ﴿چوری کرنے والے مرد ہوں یا وہ عورتیں ہوں ان کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا﴾ [سورة المائدة: 38]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ يَدَ سَارِقٍ مِنَ الْمَفْصِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چور کا ہاتھ کاٹ کر جوڑ سے جدا کر دیا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْوَشَّاءُ الصُّوفِيُّ، بِتِنِّيسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَرْوَزِيُّ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارِقًا مِنَ الْمَفْصِلِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ لَا أَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ رِوَايَةِ خَالِدٍ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چور کا ہاتھ جوڑ سے کاٹا۔
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مالک بن مغول سے یہ حدیث میں صرف خالد کی روایت سے جانتا ہوں۔
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مالک بن مغول سے یہ حدیث میں صرف خالد کی روایت سے جانتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْطَعُ السَّارِقَ مِنَ الْمَفْصِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چور کا ہاتھ جوڑ سے کاٹتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٤٧١⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ مِنَ الْمَفْصِلِ وَحَسَمَهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ جوڑ سے کاٹتے اور اس کو داغ دیتے تھے، گویا کہ میں ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا ہوں، گویا وہ گدھوں کے عضو ہیں۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ثنا قَيْسٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يَقْطَعُ الرِّجْلَ وَيَدَعُ الْعَقِبَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا "، فَكَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، فَيَقْطَعُ الْيَدَ مِنَ الْمَفْصِلِ، وَيَقْطَعُ الرِّجْلَ مِنْ شَطْرِ الْقَدَمِ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِقَوْلِ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَهُمَا، وَهُوَ قَوْلُ الْكَافَّةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ پاؤں کاٹتے اور ایڑی چھوڑ دیتے جس پر وہ سہارا لے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ اور پاؤں کاٹنے میں فرق کرتے، ہاتھ کو جوڑ سے کاٹتے اور پاؤں کو آدھے سے کاٹتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا إِخَالُهُ سَرَقَ "، قَالَ السَّارِقُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: " تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، قَالَ: " تَابَ اللهُ عَلَيْكَ " وَصَلَهُ يَعْقُوبُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَتَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَأَرْسَلَهُ عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس چور لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے چوری کی ہو۔“ چور نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ اس کا ہاتھ کاٹا پھر آپ ﷺ کے پاس لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں نے اللہ سے توبہ کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ ثُمَّ أَتَوْهُ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اس کو مرسلاً اسی معنی میں ذکر کیا ہے، اس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے، مگر یہ کہ انہوں نے کہا: انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹا، پھر اس کو داغا، پھر اس کو لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، ح قَالَ: وَثَنَا عَلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا قَالَ عَلِيٌّ: لَمْ يُسْنِدْهُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ابْنِ ثَوْبَانَ إِلَى أَحَدٍ، قَالَ: وَبَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ رَوَاهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا أُرَاهُ حَفِظَهُ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: رَوَى فِيهِ عَنْهُ أَيْضًا مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
یہ پہلے گزر چکی ہے۔
علی (بن مدینی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے کسی نے بھی اسے ابن ثوبان سے اوپر کسی تک مسند بیان نہیں کیا۔ اور فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ محمد بن اسحاق نے اسے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے یاد رکھا ہو۔ ان سے یہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔
علی (بن مدینی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے کسی نے بھی اسے ابن ثوبان سے اوپر کسی تک مسند بیان نہیں کیا۔ اور فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ محمد بن اسحاق نے اسے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے یاد رکھا ہو۔ ان سے یہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَقْطَعُ وَيَحْسِمُ وَيَحْبِسُ، فَإِذَا بَرِئُوا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَخْرَجَهُمْ ثُمَّ قَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ إِلَى اللهِ، قَالَ: فَيَرْفَعُونَهَا، فَيَقُولُ: مَنْ قَطَعَكَ؟ فَيَقُولُونَ: عَلِيٌّ، فَيَقُولُ: وَلِمَ؟ فَيَقُولُونَ: سَرَقْنَا، قَالَ: فَيَقُولُ: اللهُمَّ اشْهَدْ اللهُمَّ اشْهَدْ لَفْظُ حَدِيثِ الْحَذَّاءِ، زَادَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ الضَّبِّيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، فَخَالَفَ ابْنَ أَبْجَرَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چور کا ہاتھ جڑ سے کاٹا اور اس کو قید میں ڈال دیا۔ جب وہ تندرست ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو نکالا، پھر کہا: اپنے ہاتھ اللہ کی طرف اٹھاؤ۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے ہاتھ اٹھایا۔ وہ کہتے ہیں: آپ کو کس نے کاٹا؟ وہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے۔ کس لیے؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے چوری کی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! گواہ ہو جا، اے اللہ! گواہ ہو جا۔
: قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَخَذَ اللِّصَّ قَطَعَهُ، ثُمَّ حَسَمَهُ، ثُمَّ أَلْقَاهُ فِي السِّجْنِ، فَإِذَا بَرِئُوا وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُمْ، فَقَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ إِلَى اللهِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ، فَيَقُولُ: مَنْ قَطَعَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: عَلِيٌّ، فَيَقُولُ: اللهُمَّ صَدَقُوا، فِيكَ قَطَعْتُهُمْ، وَفِيكَ أَرْسَلْتُهُمْ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: فِي الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، وَالْحَدِيثُ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ أَبْجَرَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِتَعَهُّدِهِمْ حَتَّى يَبْرَءُوا، لَا أَنَّهُ كَانَ يَحْبِسُهُمْ تَعْزِيرَا، فَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَبْسُ الْإِمَامِ بَعْدَ إِقَامَةِ الْحَدِّ ظُلْمٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ چور کو پکڑتے، اس کے ہاتھ کاٹتے، پھر اس کو داغ دیتے، پھر اس کو جیل میں ڈال دیتے۔ جب وہ تندرست ہوا اور ارادہ کیا کہ ان کو نکالیں تو فرمایا: اللہ کی طرف ہاتھ اٹھاؤ۔ (راوی کہتے ہیں:) گویا کہ میں ان ہاتھوں کو دیکھ رہا ہوں، گویا وہ گدھوں کے عضو ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے: تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے؟ وہ کہتے: علی رضی اللہ عنہ نے۔ وہ کہتے: اے اللہ! انہوں نے سچ کہا ہے، تیری خاطر میں نے ان کے ہاتھ کاٹے اور تیری خاطر میں نے ان کو چھوڑا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا وہ ان کی دیکھ بھال کا حکم دیتے تھے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو جائیں، یہ نہیں کہ وہ انہیں تعزیری سزا کے طور پر قید کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حد قائم کرنے کے بعد امام کا (مجرم کو) قید کرنا ظلم ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا وہ ان کی دیکھ بھال کا حکم دیتے تھے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو جائیں، یہ نہیں کہ وہ انہیں تعزیری سزا کے طور پر قید کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حد قائم کرنے کے بعد امام کا (مجرم کو) قید کرنا ظلم ہے۔