السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب قطع اليد والرجل في السرقة -- باب: السارق يسرق أولا فتقطع يده اليمنى من مفصل الكف، ثم يحسم بالنار باب: چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17256
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، ح قَالَ: وَثَنَا عَلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا قَالَ عَلِيٌّ: لَمْ يُسْنِدْهُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ابْنِ ثَوْبَانَ إِلَى أَحَدٍ، قَالَ: وَبَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ رَوَاهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا أُرَاهُ حَفِظَهُ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: رَوَى فِيهِ عَنْهُ أَيْضًا مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
یہ پہلے گزر چکی ہے۔
علی (بن مدینی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے کسی نے بھی اسے ابن ثوبان سے اوپر کسی تک مسند بیان نہیں کیا۔ اور فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ محمد بن اسحاق نے اسے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے یاد رکھا ہو۔ ان سے یہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔