السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب قطع اليد والرجل في السرقة -- باب: السارق يسرق أولا فتقطع يده اليمنى من مفصل الكف، ثم يحسم بالنار باب: چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17251
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْطَعُ السَّارِقَ مِنَ الْمَفْصِلِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چور کا ہاتھ جوڑ سے کاٹتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ ان دونوں کے درمیان سے کاٹتے تھے۔