السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب قطع اليد والرجل في السرقة -- باب: السارق يسرق أولا فتقطع يده اليمنى من مفصل الكف، ثم يحسم بالنار باب: چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
: قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَخَذَ اللِّصَّ قَطَعَهُ، ثُمَّ حَسَمَهُ، ثُمَّ أَلْقَاهُ فِي السِّجْنِ، فَإِذَا بَرِئُوا وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُمْ، فَقَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ إِلَى اللهِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ، فَيَقُولُ: مَنْ قَطَعَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: عَلِيٌّ، فَيَقُولُ: اللهُمَّ صَدَقُوا، فِيكَ قَطَعْتُهُمْ، وَفِيكَ أَرْسَلْتُهُمْ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: فِي الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، وَالْحَدِيثُ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ أَبْجَرَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِتَعَهُّدِهِمْ حَتَّى يَبْرَءُوا، لَا أَنَّهُ كَانَ يَحْبِسُهُمْ تَعْزِيرَا، فَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَبْسُ الْإِمَامِ بَعْدَ إِقَامَةِ الْحَدِّ ظُلْمٌ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ چور کو پکڑتے، اس کے ہاتھ کاٹتے، پھر اس کو داغ دیتے، پھر اس کو جیل میں ڈال دیتے۔ جب وہ تندرست ہوا اور ارادہ کیا کہ ان کو نکالیں تو فرمایا: اللہ کی طرف ہاتھ اٹھاؤ۔ وہ کہہ رہے تھے: تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے؟ وہ کہتے: علی رضی اللہ عنہ نے۔ وہ کہتے: اے اللہ! انہوں نے سچ کہا ہے جس میں میں نے ان کے ہاتھ کاٹے ہیں اور جس میں میں نے ان کو بھیجا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ اپنے زمانے میں حکم کرتے تھے یہاں تک کہ وہ بری ہو جاتے مگر ان کے ہاتھ تعزیری سزا کے طور پر داغے ہوتے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امام کو قید کرنا اس کی قائم حد کے بعد یہ ظلم ہے۔