السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب قطع اليد والرجل في السرقة -- باب: السارق يسرق أولا فتقطع يده اليمنى من مفصل الكف، ثم يحسم بالنار باب: چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17254
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا إِخَالُهُ سَرَقَ "، قَالَ السَّارِقُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: " تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، قَالَ: " تَابَ اللهُ عَلَيْكَ " وَصَلَهُ يَعْقُوبُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَتَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَأَرْسَلَهُ عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس چور لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ چوری کا ارتکاب کرتا ہے؟“ چور نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ اس کا ہاتھ کاٹا پھر آپ ﷺ کے پاس لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے توبہ کر۔“ تو اس نے توبہ کی، اللہ نے اس کی توبہ قبول کی۔