حدیث نمبر: 17254
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا إِخَالُهُ سَرَقَ "، قَالَ السَّارِقُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: " تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، قَالَ: " تَابَ اللهُ عَلَيْكَ " وَصَلَهُ يَعْقُوبُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَتَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَأَرْسَلَهُ عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس چور لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ چوری کا ارتکاب کرتا ہے؟“ چور نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ اس کا ہاتھ کاٹا پھر آپ ﷺ کے پاس لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے توبہ کر۔“ تو اس نے توبہ کی، اللہ نے اس کی توبہ قبول کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17254
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»