السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب قطع اليد والرجل في السرقة -- باب: السارق يسرق أولا فتقطع يده اليمنى من مفصل الكف، ثم يحسم بالنار باب: چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17252
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٤٧١⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ مِنَ الْمَفْصِلِ وَحَسَمَهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ جوڑ سے کاٹتے اور اس کو داغ دیتے تھے، گویا کہ میں ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا ہوں اور وہ سرخ ہوتا تھا۔