کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي خَلِيلُ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا جَدِّي، ثنا مُصْعَبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ⦗٤٧٣⦘ الْهِلَالِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ؟ فَقَالَ: " اقْطَعُوهُ "، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ "، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ " ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ "، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ " قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مَعْشَرٍ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى قَالَ: إِنَّهُ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْطَعُوا يَدَهُ "، وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ: " اقْطَعُوا رِجْلَهُ "، وَفِي الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ: " اقْطَعُوا يَدَهُ " وَفِي الْمَرَّةِ الرَّابِعَةِ: " اقْطَعُوا رِجْلَهُ "، وَفِي الْمَرَّةِ الْخَامِسَةِ قَالَ: " أَلَمْ أَقُلْ لَكُمُ: اقْتُلُوهُ اقْتُلُوهُ "، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَدِ النَّعَمِ فَحَمَلْنَا عَلَيْهِ النَّعَمَ، فَشَالَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهُ الْإِبِلُ، قَالَ: فَعَلَوْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک چور کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوسری بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر تیسری بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“۔ پھر چوتھی بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“۔ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا، پھر ہم اسے گھسیٹ کر لے گئے اور اسے ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے۔
ابو معشر کی روایت میں ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“، دوسری مرتبہ اسی بات کے بعد فرمایا: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، تیسری مرتبہ: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ اور چوتھی مرتبہ: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، اور پانچویں مرتبہ فرمایا: ”کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اسے قتل کر دو، اسے قتل کر دو؟“ فرماتے ہیں: پھر ہم اسے جانوروں کے باڑے کی طرف لے گئے اور اس پر اونٹ چھوڑ دیے، تو اس نے اپنے ہاتھ پاؤں اٹھائے یہاں تک کہ اونٹ اس سے بدک گئے۔ پھر ہم نے اسے پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17259
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِهِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ بَعْدُ وَقَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِ رِجْلِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ " ⦗٤٧٤⦘ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس کے بعد اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ ﷺ نے اس کا بایاں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ ﷺ نے اس کا دایاں پاؤں کاٹنے کا حکم دیا، پھر اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17260
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَفِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، فِيمَا لَمْ يُمْلِ مِنْ كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، فَقَالُوا: إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " فَاقْطَعُوهُ "، ثُمَّ سَرَقَ أَيْضًا فَقُطِعَ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَ، ثُمَّ سَرَقَ فَقُطِعَ، حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ، ثُمَّ سَرَقَ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ، فَدُفِعَ إِلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ، فَأَمَّرُوهُ، فَكَانَ إِذَا ضَرَبَهُ ضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں چوری کی۔ اس آدمی کو آپ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اس نے تو صرف چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کے ہاتھ کاٹ دو۔“ پھر اس نے دوبارہ چوری کی تو کاٹا گیا۔ پھر اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چوری کی تو کاٹا گیا، پھر چوری کی تو کاٹا گیا، یہاں تک کہ اس کے سب ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے۔ پھر اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں زیادہ جانتے تھے جب آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، اسے لے جاؤ اور قتل کر دو۔“ چنانچہ اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کیا گیا جن میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے اپنا امیر بنا لو، تو انہوں نے انہیں امیر بنا لیا، چنانچہ جب وہ اسے مارتے تو وہ سب بھی اسے مارتے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17261
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: " أُتِيَ بِالسَّارِقِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا غُلَامٌ لِأَيْتَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَاللهِ مَا نَعْلَمُ لَهُمْ مَالًا غَيْرَهُ، فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّانِيَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ السَّادِسَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ السَّابِعَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّامِنَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهُوَ أَصَحُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ مَسْعَدَةَ ⦗٤٧٥⦘ وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَابْنَ سَابِطٍ الْأَحْوَلَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَبْدٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ بُلُوغَهُ فِي الْمَرَّاتِ الْأَرْبَعِ، أَوْ لَمْ يَرَ سَرِقَتَهُ بَلَغَتْ مَا يُوجِبُ الْقَطْعَ، ثُمَّ رَآهَا تُوجِبُهُ فِي الْمَرَّاتِ الْأُخَرِ، فَأَمَرَ بِالْقَطْعِ، وَهَذَا الْمُرْسَلُ يُقَوِّي الْمَوْصُولَ قَبْلَهُ، وَيُقَوِّي قَوْلَ مَنْ وَافَقَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک چور لایا گیا، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ انصار کے کچھ یتیموں کا غلام ہے، اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ اس کے علاوہ ان کا کوئی اور مال (ہے)“، تو اسے چھوڑ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ لایا گیا، اسے چھوڑ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ لایا گیا، پھر چھوڑ دیا۔ پھر چوتھی مرتبہ لایا گیا، پھر چھوڑ دیا۔ پھر پانچویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا، پھر چھٹی مرتبہ لایا گیا تو اس کا پاؤں کاٹا، پھر ساتویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا، پھر آٹھویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا پاؤں کاٹا۔
حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ والی روایت زیادہ صحیح ہے، اور یہ صحیح سند کے ساتھ حسن مرسل ہے۔
نبی ﷺ کے پاس ایک غلام لایا گیا (اور اسی معنی کی روایت ذکر کی)، گویا کہ آپ ﷺ نے پہلی چار مرتبہ اس کی چوری کو اس حد تک پہنچا ہوا نہیں سمجھا جس پر ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، پھر بعد کی مرتبہ اسے واجب کرنے والا سمجھا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ مرسل روایت اپنے سے پہلی موصول روایت کو تقویت دیتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17262
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامَلَ الْيَمَنِ ظَلَمَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ، ثُمَّ إِنَّهُمُ افْتَقَدُوا حُلِيًّا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ وَيَقُولُ: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ، فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغً، وَإِنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَ بِهِ، فَاعْتَرَفَ الْأَقْطَعُ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي مِنْ سَرِقَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی یمن سے تھا، اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور پاؤں بھی کٹا ہوا تھا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ یمن کے عامل نے اس پر ظلم کیا ہے۔ وہ رات کو نماز پڑھتا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے: ”تیرے باپ کی قسم! تیری رات چور کی رات نہیں ہے۔“ پھر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، اور وہ آدمی ان کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”اے اللہ! تو پکڑ اس کو جس نے اس نیک گھر والوں کے ہاں رات کو چوری کی۔“ ہار سنار کے پاس پایا گیا اور معلوم ہوا کہ وہی ہاتھ کٹا آدمی اسے لایا تھا، تو اس نے اعتراف کیا یا اس پر گواہی دی گئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کی بددعائیں اپنے نفس کے خلاف میرے نزدیک چوری سے زیادہ سخت ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17263
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ رِجْلًا بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " السُّنَّةُ الْيَدُ " قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: السُّنَّةُ الْيَدُ، يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَرَفَ فِيهِ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ کسی آدمی کا ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے بعد (دوسرا) پاؤں کاٹیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاتھ کاٹنا سنت ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول کہ ہاتھ کاٹنا سنت ہے، اس سے لگتا ہے کہ انہیں اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی سنت معلوم تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17264
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَقْطُوعَةٌ يَدُهُ وَرِجْلُهُ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْطَعُ رِجْلَهُ وَيَدَعُ يَدَهُ يَسْتَطْيبُ بِهَا وَيَتَطَهَّرُ بِهَا وَيَنْتَفِعُ بِهَا، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَقْطَعَنَّ يَدَهُ الْأُخْرَى "، فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ.
حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت ابی عبید رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چوری کی۔ اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا اور پہلے پاؤں بھی کاٹا گیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس کا پاؤں کاٹ دیا جائے اور ہاتھ چھوڑ دیا جائے جس سے وہ پاکیزگی و فائدہ حاصل کرنے کی طاقت رکھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ ضرور اس کا دوسرا ہاتھ کاٹیں گے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17265
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، أنبأ عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَطَعَ يَدًا بَعْدَ يَدٍ وَرِجْلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، آپ نے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جانے کے بعد (دوسرا) ہاتھ کاٹا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17266
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَطَعَ يَدًا بَعْدَ يَدٍ وَرِجْلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یہ پہلے گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17267
درجۂ حدیث محدثین: اسناده صحيح
تخریج حدیث «اسناده صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، قَالَ: " أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدْ سَرَقَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُقْطَعَ رِجْلُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَدْ قُطِعَتْ يَدُ هَذَا وَرِجْلُهُ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَقْطَعَ رِجْلَهُ فَتَدَعَهُ لَيْسَ لَهُ قَائِمَةٌ يَمْشِي عَلَيْهَا، إِمَّا أَنْ تُعَزِّرَهُ وَإِمَّا أَنْ تَسْتَوْدِعَهُ السِّجْنَ، قَالَ: فَاسْتَوْدَعَهُ السِّجْنَ " ⦗٤٧٧⦘ الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَكَيْفَ تَصِحُّ هَذِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَنْكَرَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى قَطْعَ الرِّجْلِ بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشَارَ بِالْيَدِ؟ وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولَةٌ تَشْهَدُ لِلرِّوَايَةِ الْأُولَى بِالصِّحَّةِ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فِيهَا مَا فِي رِوَايَةِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَمَّا مَا رُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹا ہوا تھا۔ اس نے چوری کی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿ان لوگوں کا بدلہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں﴾ [سورة المائدة: 33] اس کا ہاتھ اور پاؤں تو کاٹا جا چکا ہے، اب مناسب نہیں ہے کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے پھر وہ نہ کھڑا ہو سکے اور نہ چل سکے۔ اسے تعزیراً کوئی سزا دی جائے یا اس کو جیل میں قید کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے اسے قید کر دیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت کا صحیح ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ پہلی روایت میں انہوں نے ہاتھ اور پاؤں کے بعد پاؤں کاٹنے کا انکار کیا اور ہاتھ کی طرف اشارہ کیا؟ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی موصول روایت پہلی روایت کے صحیح ہونے کی گواہی دیتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17268
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَقَالَ: أَقْطَعُ يَدَهُ، بِأِيِّ شَيْءٍ يَتَمَسَّحُ، وَبِأِيِّ شَيْءٍ يَأْكُلُ؟ ثُمَّ قَالَ: أَقْطَعُ رِجْلَهُ، عَلَى أِيِّ شَيْءٍ يَمْشِي؟ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللهَ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَهُ وَخَلَّدَهُ السِّجْنَ " وَأَمَّا الْقَتْلُ فِي الْخَامِسَةِ الْمَنْقُولُ فِي الْخَبَرِ الْمَرْفُوعِ، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْقَتْلُ فِيمَنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ فِي شَيْءٍ أَرْبَعًا فَأَتَى بِهِ الْخَامِسَةَ مَنْسُوخٌ، وَاسْتَدَلَّ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ مَنْقُولٌ فِي أَبْوَابِ حَدِّ الشَّارِبِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر لایا گیا تو پاؤں کاٹا گیا، پھر لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں اس کا ہاتھ کاٹوں کہ وہ کوئی چیز نہ چھو سکے؟ پھر فرمایا: یا اس کا پاؤں کاٹوں جس پر وہ چلتا ہے؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ سے شرماتا ہوں، پھر اس کو مارا پھر جیل میں ڈال دیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس شخص کو قتل کرنا جس پر حد قائم ہو منسوخ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17269
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»