کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: استخلاف (اپنے بعد جانشین مقرر کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ ⦗٢٥٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ: إِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ لَا أَتَحَمَّلُهَا حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا لِي وَلَا عَلَيَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کیا آپ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں (یہ معاملہ) چھوڑ دوں تو مجھ سے پہلے مجھ سے بہتر نے بھی چھوڑا تھا، یعنی رسول اللہ ﷺ نے، اور اگر میں نامزد کروں تو مجھ سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: انہوں نے ان پر ثنا بیان کی اور فرمایا: ”رغبت اور خوف کے ساتھ، میں اس بات کا نہ زندگی میں اور نہ موت کے بعد متحمل ہوں۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اس سے (برابری کی بنیاد پر) نجات مل جائے، نہ میرے لیے (ثواب) ہو اور نہ مجھ پر (بوجھ) ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16570
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ فَقَالُوا: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَقَالَ: رَاهِبٌ وَرَاغِبٌ، قَالُوا: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: أَتَحَمَّلُ أَمَرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ، لَا عَلَيَّ وَلَا لِي، إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16571
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَعِلْمُكَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا، قَالَتْ: إِنَّهُ فَاعِلٌ، فَحَلَفْتُ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي ذَلِكَ، فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، أَوْ قَالَ: فِي غَزَاةٍ، فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَكُنْتُ فِي سَفَرِي كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلًا حَتَّى قَدِمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَسْأَلُنِي، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ، زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِي غَنْمٍ فَجَاءَكَ وَقَدْ تَرَكَ رِعَايَتَهُ رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ، فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ، قَالَ: فَوَافَقَهُ قَوْلِي، فَأَطْرَقَ مَلِيًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَحْفَظُ دِينَهُ، وَإِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ، قَالَ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يَعْدِلُ بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے کہا: ”کیا تمہیں پتا ہے کہ تمہارے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کرنا چاہتے؟“ میں نے کہا: ”ہرگز نہیں،“ انہوں نے کہا: ”ایسا ہی ہونے والا ہے۔“ میں نے قسم اٹھائی کہ میں اس بارے میں ان سے ضرور بات کروں گا۔ پھر میں کسی سفر یا غزوہ میں چلا گیا اور بات نہ کر سکا۔ جب واپس لوٹا تو اپنے والد محترم سے ملا اور وہ مجھ سے سوالات کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا: ”میں نے لوگوں سے کچھ سنا ہے، میں وہ آپ سے نہیں کہہ سکتا تھا، ان کا خیال ہے کہ آپ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کی بکریوں کا کوئی چرواہا ہوتا اور وہ آپ کے پاس آ جاتا اور اپنی رعیت کو چھوڑ دیتا تو آپ سمجھتے کہ اس نے انہیں ضائع کر دیا ہے، جبکہ لوگوں کی نگرانی تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے میری بات کی موافقت کی، تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر سر اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خود حفاظت کرنی ہے، اگر میں نے (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے بھی تو نہیں کیا تھا، اور اگر میں (کسی کو) خلیفہ نامزد کرتا ہوں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہی ذکر کرتے رہے، تو میں سمجھ گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے برابر کسی کو نہیں رکھیں گے (یعنی ان کے طریقے پر کسی کو ترجیح نہیں دیں گے)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16572
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو ⦗٢٥٧⦘ جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قِيل لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَخْلِفُ، وَلَكِنْ إِنْ يُرِدِ اللهُ بِالنَّاسِ خَيْرًا جَمَعَهُمْ عَلَى خَيْرِهِمْ، كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہا گیا کہ ہمارے لیے خلیفہ مقرر فرما دیں تو فرمایا: نبی ﷺ نے خلیفہ مقرر نہیں فرمایا، میں کیسے مقرر کر دوں؟ لیکن اگر اللہ اپنے بندوں سے بھلائی کا ارادہ کرے تو انہیں خیر پر جمع فرما دیتا ہے، جیسے اس نے اپنے نبی کے بعد جمع فرما دیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16573
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخِرِ الْجُزْءِ الْعَاشِرِ مِنَ الْفَوَائِدِِ الْكَبِيرِ لِأَبِي الْعَبَّاسِ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللهِ بَارِئًا، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ وَاللهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يَتَوَفَّاهُ اللهُ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِي مَنْ هَذَا الْأَمْرُ، فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّا وَاللهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا، لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شُعَيْبٍ، وَفِي هَذَا وَفِيمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا بِالنَّصِّ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس سے نکلے، جب آپ ﷺ مرض الموت میں تھے، لوگوں نے پوچھا: اے ابوالحسن! نبی ﷺ کیسے ہیں؟ فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”بہتر ہیں۔“ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: آپ اللہ کی قسم! تین کے بعد لاٹھی والے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اسی تکلیف میں نبی ﷺ فوت ہوجائیں گے اور موت کے وقت میں بنو عبدالمطلب کے چہروں کو جانتا ہوں؛ لہٰذا چلو نبی ﷺ سے امارت کے بارے میں پوچھ لیں، اگر ہم میں ہوگی تو پتہ چل جائے گا، اگر غیروں میں ہوگی تو ہم بات کریں گے کہ ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں آپ ﷺ سے کبھی سوال نہیں کروں گا؛ کیونکہ اگر آپ ﷺ نے منع فرما دیا تو لوگ پھر کبھی ہمیں یہ نہیں دیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16574
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبِي دَخَلَ عَلَيْهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكِ غَدًا إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ، فَقَالَ: أَبِاللهِ تُرْهِبُونِي؟ أَقُولُ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بوجھل ہو گئے تو فلاں فلاں آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے خلیفۃ الرسول ﷺ! کیا پتا کل کیا ہو گا، آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کر دیا؟ فرماتی ہیں: ہم نے آپ کو بٹھایا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں کہتا ہوں کہ میں نے تم میں جو سب سے بہتر ہے اسے خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16575
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا الْأَمِيرُ أَبُو أَحْمَدَ خَلَفُ بْنُ أَحْمَدَ، أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اكْتُبْ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ عِنْدَ ⦗٢٥٨⦘ آخِرِ عَهْدِهِ بِالدُّنْيَا خَارِجًا مِنْهَا، وَأَوَّلِ عَهْدِهِ بِالْآخِرَةِ دَاخِلًا فِيهَا، حِينَ يَصْدُقُ الْكَاذِبُ، وَيُؤَدِّي الْخَائِنُ، وَيُؤْمِنُ الْكَافِرُ، إِنِّي أَسْتَخْلِفُ بَعْدِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَإِنْ عَدَلَ فَذَلِكَ ظَنِّي بِهِ وَرَجَائِي فِيهِ، وَإِنْ بَدَّلَ وَجَارَ فَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا اكْتَسَبَ، {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} [الشعراء: ٢٢٧]..
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وصیت لکھوائی تھی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے،“ یہ وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی طرف سے ان کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت کی ہے کہ جب جھوٹا بھی سچ بولتا ہے، خائن بھی امانت ادا کرتا ہے اور کافر بھی ایمان لانے کی سوچتا ہے۔ میں اپنے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔ اگر وہ انصاف کریں تو یہ میرا ان کے بارے میں گمان ہے اور میری امید ہے اور اگر وہ ظلم و زیادتی کریں تو میں غیب نہیں جانتا اور ہر بندے کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الشعراء: 227]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16576
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَقَدْ أَنْبَأَنِيهِ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، إِجَازَةً، أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، فَذَكَرَهُ، فِي إِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16577
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»