السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الاستخلاف باب: استخلاف (اپنے بعد جانشین مقرر کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَعِلْمُكَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا، قَالَتْ: إِنَّهُ فَاعِلٌ، فَحَلَفْتُ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي ذَلِكَ، فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، أَوْ قَالَ: فِي غَزَاةٍ، فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَكُنْتُ فِي سَفَرِي كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلًا حَتَّى قَدِمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَسْأَلُنِي، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ، زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِي غَنْمٍ فَجَاءَكَ وَقَدْ تَرَكَ رِعَايَتَهُ رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ، فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ، قَالَ: فَوَافَقَهُ قَوْلِي، فَأَطْرَقَ مَلِيًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَحْفَظُ دِينَهُ، وَإِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ، قَالَ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يَعْدِلُ بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے کہا: ”کیا تمہیں پتا ہے کہ تمہارے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کرنا چاہتے؟“ میں نے کہا: ”ہرگز نہیں،“ انہوں نے کہا: ”ایسا ہی ہونے والا ہے۔“ میں نے قسم اٹھائی کہ میں اس بارے میں ان سے ضرور بات کروں گا۔ پھر میں کسی سفر یا غزوہ میں چلا گیا اور بات نہ کر سکا۔ جب واپس لوٹا تو اپنے والد محترم سے ملا اور وہ مجھ سے سوالات کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا: ”میں نے لوگوں سے کچھ سنا ہے، میں وہ آپ سے نہیں کہہ سکتا تھا، ان کا خیال ہے کہ آپ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کی بکریوں کا کوئی چرواہا ہوتا اور وہ آپ کے پاس آ جاتا اور اپنی رعیت کو چھوڑ دیتا تو آپ سمجھتے کہ اس نے انہیں ضائع کر دیا ہے، جبکہ لوگوں کی نگرانی تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے میری بات کی موافقت کی، تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر سر اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی خود حفاظت کرنی ہے، اگر میں نے (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے بھی تو نہیں کیا تھا، اور اگر میں (کسی کو) خلیفہ نامزد کرتا ہوں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہی ذکر کرتے رہے، تو میں سمجھ گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے برابر کسی کو نہیں رکھیں گے (یعنی ان کے طریقے پر کسی کو ترجیح نہیں دیں گے)۔