حدیث نمبر: 16575
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبِي دَخَلَ عَلَيْهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكِ غَدًا إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ، فَقَالَ: أَبِاللهِ تُرْهِبُونِي؟ أَقُولُ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بوجھل ہو گئے تو فلاں فلاں آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے خلیفۃ الرسول ﷺ! کیا پتا کل کیا ہو گا، آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کر دیا؟ فرماتی ہیں: ہم نے آپ کو بٹھایا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں کہتا ہوں کہ میں نے تم میں جو سب سے بہتر ہے اسے خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16575
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»