❮
❯
حدیث نمبر: 16571
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ فَقَالُوا: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَقَالَ: رَاهِبٌ وَرَاغِبٌ، قَالُوا: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: أَتَحَمَّلُ أَمَرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ، لَا عَلَيَّ وَلَا لِي، إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مُسْتَخْلِفٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب میرے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) زخمی کیے گئے تو میں ان کے پاس موجود تھا۔ لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا: ”اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔“ انہوں نے فرمایا: ”(لوگ) امید رکھنے والے بھی ہیں اور ڈرنے والے بھی۔“ لوگوں نے کہا: ”(کسی کو) خلیفہ نامزد کر دیجیے۔“ انہوں نے فرمایا: ”کیا میں زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی تمہارا بوجھ اٹھاؤں؟ میری خواہش ہے کہ اس میں میرا حصہ بس برابر سرابر ہو، نہ مجھ پر (بوجھ) ہو اور نہ میرے لیے (ثواب)۔ اگر میں خلیفہ نامزد کروں تو مجھ سے بہتر (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے بھی نامزد کیا تھا، اور اگر میں تمہیں (یوں ہی) چھوڑ دوں تو مجھ سے بہتر یعنی رسول اللہ ﷺ نے بھی تمہیں چھوڑا تھا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا تو میں سمجھ گیا کہ وہ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16571