السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الاستخلاف باب: استخلاف (اپنے بعد جانشین مقرر کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا الْأَمِيرُ أَبُو أَحْمَدَ خَلَفُ بْنُ أَحْمَدَ، أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اكْتُبْ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ عِنْدَ ⦗٢٥٨⦘ آخِرِ عَهْدِهِ بِالدُّنْيَا خَارِجًا مِنْهَا، وَأَوَّلِ عَهْدِهِ بِالْآخِرَةِ دَاخِلًا فِيهَا، حِينَ يَصْدُقُ الْكَاذِبُ، وَيُؤَدِّي الْخَائِنُ، وَيُؤْمِنُ الْكَافِرُ، إِنِّي أَسْتَخْلِفُ بَعْدِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَإِنْ عَدَلَ فَذَلِكَ ظَنِّي بِهِ وَرَجَائِي فِيهِ، وَإِنْ بَدَّلَ وَجَارَ فَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا اكْتَسَبَ، {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} [الشعراء: ٢٢٧]..یوسف بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وصیت لکھوائی تھی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے،“ یہ وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی طرف سے ان کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت کی ہے کہ جب جھوٹا بھی سچ بولتا ہے، خائن بھی امانت ادا کرتا ہے اور کافر بھی ایمان لانے کی سوچتا ہے۔ میں اپنے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔ اگر وہ انصاف کریں تو یہ میرا ان کے بارے میں گمان ہے اور میری امید ہے اور اگر وہ ظلم و زیادتی کریں تو میں غیب نہیں جانتا اور ہر بندے کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الشعراء: 227]۔