السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الاستخلاف باب: استخلاف (اپنے بعد جانشین مقرر کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ ⦗٢٥٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ: إِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ لَا أَتَحَمَّلُهَا حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا لِي وَلَا عَلَيَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيّ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کیا آپ (کسی کو) خلیفہ نامزد نہیں کریں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں (یہ معاملہ) چھوڑ دوں تو مجھ سے پہلے مجھ سے بہتر نے بھی چھوڑا تھا، یعنی رسول اللہ ﷺ نے، اور اگر میں نامزد کروں تو مجھ سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: انہوں نے ان پر ثنا بیان کی اور فرمایا: ”رغبت اور خوف کے ساتھ، میں اس بات کا نہ زندگی میں اور نہ موت کے بعد متحمل ہوں۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اس سے (برابری کی بنیاد پر) نجات مل جائے، نہ میرے لیے (ثواب) ہو اور نہ مجھ پر (بوجھ) ہو۔“