کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس امام کے عمل کا بیان جس نے (خلافت کا) معاملہ ان لوگوں کے درمیان شوریٰ (باہمی مشاورت) پر چھوڑ دیا جو اس کے اہل تھے۔
حدیث نمبر: 16578
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، أَنّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِحُضُورِ أَجْلِي، وَإِنَّ أُنَاسًا يَأْمُرُونَ بِأَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضِيعَ دِينَهُ وَخِلَافَتَهُ وَمَا بَعَثَ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالشُّورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنْ بَايَعْتُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، وَإِنَّ نَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي ذَلِكَ، فَإِنْ فَعَلُوا فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللهِ الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ، أَنَا جَاهَدْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَإِنِّي لَا أَدَعُ شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ، وَمَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ، فَطَعَنَ بِأُصْبُعِهِ فِي صَدْرِي، أَوْ فِي جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا عُمَرُ يَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضَاءٍ لَا يَخْتَلِفُ فِيهِ أَحَدٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ، أَوْ لَمْ يَقْرَأِ الْقُرْآنَ "، وَإِنِّي أُشْهِدُ اللهَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ، فَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، وَيَرْفَعُوا إِلَيْنَا مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، قَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُمَا مِنْهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا: الثُّومُ وَالْبَصَلُ. قَالَ: خَطَبَ لَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمَاتَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ⦗٢٥٩⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! کاش میں ایک مرغا ہوتا، ایک دو چونچ بھر دانہ کھاتا، لگتا ہے میرا وقت قریب آگیا ہے۔ لوگوں نے مجھے خلیفہ بنایا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین، اپنی خلافت اور اس چیز کو جسے اپنے پیغمبر کو دے کر بھیجا ہے، ہرگز ضائع نہیں فرمائیں گے۔ میرے بارے میں جلدی نہ کرو بلکہ آپس میں ان چھ اشخاص کے بارے میں مشورہ کر لینا جن سے نبی کریم ﷺ رضا مندی کی حالت میں فوت ہوئے تھے۔ تم جس کی بھی بیعت کرو گے، اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا، اور بہت سے لوگ اس میں طعنہ زنی بھی کریں گے، اگر وہ ایسا کریں تو وہ اللہ کے دشمن ہیں جو گمراہ ہیں۔ میں ان سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرتا ہوں، اور میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز جو میرے نزدیک «الْكَلَالَةُ» ”کلالہ“ سے بڑھ کر اہم ہو، نہیں چھوڑ رہا اور نبی کریم ﷺ نے مجھے اس کے بارے میں بڑی سختی سے وصیت فرمائی تھی، آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تھا: ”اے عمر! تجھے «آیَةُ الصَّيْفِ» ”گرمی کے موسم والی آیت“ جو ﴿سورة النساء: 176﴾ کی آخری آیت ہے، کافی ہے“ اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے میں کوئی اختلاف نہیں رہے گا، اور میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ ہم نے مختلف علاقوں کے امیر اس لیے مقرر فرمائے تھے کہ وہ لوگوں کو دین اور سنتِ رسول ﷺ سکھائیں اور جو مشکل ہو ہمیں بتائیں، اور اے لوگو! تم دو درختوں (پودوں) سے کھاتے ہو اور میں انہیں خبیث سمجھتا ہوں۔ میں نے عہدِ رسالت میں دیکھا کہ اگر کوئی شخص انہیں کھا لیتا تو اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع میں چھوڑ دیا جاتا، جو ان کو کھانا چاہے انہیں پکا کر کھائے اور وہ لہسن اور پیاز ہیں۔“ معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ خطبہ آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن دیا تھا اور بدھ کے دن آپ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تھے اور ذوالحجہ کی 26 تاریخ تھی۔
حدیث نمبر: 16579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فِي قِصَّةِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَقَالُوا: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَقَالَ: لِيَشْهَدْكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، كَالتَّعْزِيَةِ لَهُ، وَقَالَ: فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ ذَاكَ، وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمُ مَا أُمِّرَ، فَإِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ مِنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانَةٍ، وَقَالَ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، أَنْ يَعْلَمَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَأَنْ يَعْفِي عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِأَهْلِ الْأَمْصَارِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ رِدْءُ الْإِسْلَامِ، وَجُبَاةُ الْأَمْوَالِ، وَغَيْظُ الْعَدُوِّ، وَأَنْ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُمْ إِلَّا فَضْلَهُمْ عَنْ رِضَاهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَعْرَابِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ، وَمَادَّةُ الْإِسْلَامِ، أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ فَيُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ، أَنْ يُوفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ. فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دَفْنِهِ، قَالَ: فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ وَرَجَعُوا، اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ، قَالَ الزُّبَيْرُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ طَلْحَةُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عُثْمَانَ، وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَيُّكُمَا يَبْرَأُ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعَلَهُ إِلَيْهِ؟ وَاللهِ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ، وَلَيَحْرِصَنَّ عَلَى صَلَاحِ الْأُمَّةِ، قَالَ: فَأُسْكِتَ الشَّيْخَانِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفَتَجْعَلُونَهُ إِلَيَّ، وَاللهُ عَلَيَّ أَنْ لَا آلُو عَنْ أَفْضَلِكُمْ؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: لَكَ مِنْ قَرَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقِدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، وَاللهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ، وَلَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ، ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ، فَبَايَعَهُ وَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَوَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ خلیفہ نامزد کر دیں تو فرمایا: ان صحابہ سے بڑھ کر اس فیصلے کا حق دار کوئی نہیں اور علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اگر حاضر ہیں تو ان کے لیے معاملے سے کچھ نہیں، اگر سعد رضی اللہ عنہ امیر بن جائیں تو بہتر ہے اگر نہیں تو اپنے مشورے سے مقرر کر لو۔ میں کسی عجز یا خیانت سے اسے معزول نہیں کروں گا اور کہا: جو بھی میرے بعد خلیفہ بنے میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کے حق کو پہچانے، ان کی عزت اور مقام و مرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ (وہ) گھر اور ایمان والے ہیں، ان کے محسن سے قبول کرے اور مسیء سے درگزر کرے اور تمام علاقے والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اسلام کے مددگار، مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضامندی سے لیا جائے اور دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اصل عرب ہیں، اسلام کا مادہ ہیں۔ ان کے زائد مالوں کو لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دیا جائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد کو پورا کرے۔ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دیں۔ جب فوت ہو گئے تو ہم نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہو گیا تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اپنے معاملات کسی بھی تین کو سونپ دو، زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو چنا تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اب آپ میں سے کوئی اور اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تاکہ وہ زیادہ حریص ہو اصلحِ امت پر؟ تو دونوں شیخان خاموش رہے تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پیچھے ہٹتا ہوں لیکن کیا میں فیصلہ کروں؟ کہا: ہاں۔ تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور کہا: آپ کی نبی ﷺ سے قرابت اور تقدیمِ اسلام ہے، اگر میں آپ کو امیر بنا دوں آپ ضرور انصاف کریں گے، لیکن میں عثمان رضی اللہ عنہ کو امیر بناتا ہوں، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، خود بیعت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کر لی اور اہل الدار بھی آئے، انہوں نے بھی بیعت کر لی۔
حدیث نمبر: 16580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنْبَأَ ⦗٢٦٠⦘ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَائِبًا بِأَرْضِهِ بِالسَّرَاةِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ لَكُمْ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَ النَّاسِ شَقاقًّا فِيكُمْ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيكُمْ شَيْءٌ، فَإِنْ كَانَ شِقَاقٌ فَهُوَ مِنْكُمْ، وَإِنَّ الْأَمْرَ إِلَى سِتَّةٍ: إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَطَلْحَةَ، وَسَعْدٍ، ثُمَّ إِنَّ قَوْمَكُمْ إِنَّمَا يُؤَمِّرُونَ أَحَدَكُمْ أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ، فَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عُثْمَانَ، فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَلَا تَحْمِلَنَّ أَقَارِبَكَ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ يَا عَلِيُّ، فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، قُومُوا فَتَشَاوَرُوا وَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ، فَقَامُوا يَتَشَاوَرُونَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَدَعَانِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ لِيُدْخِلَنِي فِي الْأَمْرِ، وَلَمْ يُسَمِّنِي عُمَرُ، وَلَا وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُمْ، عِلْمًا مِنْهُ بِأَنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا قَالَ أَبِي، وَاللهِ لَقَلَّمَا سَمِعْتُهُ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ حَقًّا، فَلَمَّا أَكْثَرَ عُثْمَانُ دُعَائِي قُلْتُ: أَلَا تَعْقِلُونَ، تُؤَمِّرُونَ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَيُّ؟ فَوَاللهِ لَكَأَنَّمَا أَيْقَظْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ مَرْقَدٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمْهِلُوا، فَإِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ صُهَيْبٌ مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، ثُمَّ أَجْمِعُوا فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَشْرَافَ النَّاسِ وَأُمَرَاءَ الْأَجْنَادِ، فَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ، فَمَنْ تَأْمَّرَ عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ والد محترم کی موت کے وقت حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ وہاں حاضر نہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چند گھڑیاں انھیں دیکھا پھر فرمایا: میں تم سے ایک معاملے میں مشورہ کرتا ہوں، لوگوں میں اس میں کوئی مخالفت نہیں۔ اگر مخالفت ہوئی تو تمہاری طرف سے ہوگی اور امارت کا معاملہ ان چھ صحابہ کے سامنے پیش کر دیا۔ تمہاری قومیں تم تین میں سے کسی کو خلیفہ بنائیں گی۔ اگر عثمان! تمہیں امارت ملے تو ابو معیط کو لوگوں پر امیر نہ بنانا، اگر عبدالرحمن! آپ امیر بنیں تو اپنے اقرباء کو امیر مت بنانا، اگر علی! آپ امیر بنیں تو بنو ہاشم میں کسی کو عادل نہ بنانا، لوگوں سے مشورہ کرنا، پھر ان پر امام مقرر کرنا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ۲ یا ۳ مرتبہ مجھے بلایا کہ مجھے بھی مشورہ میں شریک کر لیں، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرا نام نہیں لیا اور واللہ! میں ان کے ساتھ ملنا بھی نہیں چاہتا تھا اور نہ میرے والد نے کہا تھا۔ واللہ! میں نے بہت ہی کم ان سے سنا کہ انھوں نے لبوں کو حرکت دی ہو اور حق کے علاوہ کوئی اور بات ان کے منہ سے نکلی ہو، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بار بار مجھے بلایا تو میں نے کہا: کیا تمہیں سمجھ نہیں کہ تم امارت طلب کر رہے ہو اور امیر المؤمنین زندہ ہیں؟ واللہ! گویا میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی موت سے اٹھا دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ٹھہرو، جب میں فوت ہو جاؤں تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، جو بنو جدعان کے مولیٰ ہیں، تین راتوں تک لوگوں کو نماز پڑھائیں، تین دن کے بعد لوگوں کے سربراہان اور قبیلوں کے امراء کو جمع کرنا اور امارت کے لیے مشورہ کرنا اور جو بغیر مشورہ کے امیر بنے اس کی گردن اڑا دینا۔