کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس امام کے عمل کا بیان جس نے (خلافت کا) معاملہ ان لوگوں کے درمیان شوریٰ (باہمی مشاورت) پر چھوڑ دیا جو اس کے اہل تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، أَنّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِحُضُورِ أَجْلِي، وَإِنَّ أُنَاسًا يَأْمُرُونَ بِأَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضِيعَ دِينَهُ وَخِلَافَتَهُ وَمَا بَعَثَ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالشُّورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنْ بَايَعْتُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، وَإِنَّ نَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي ذَلِكَ، فَإِنْ فَعَلُوا فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللهِ الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ، أَنَا جَاهَدْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَإِنِّي لَا أَدَعُ شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ، وَمَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ، فَطَعَنَ بِأُصْبُعِهِ فِي صَدْرِي، أَوْ فِي جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا عُمَرُ يَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضَاءٍ لَا يَخْتَلِفُ فِيهِ أَحَدٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ، أَوْ لَمْ يَقْرَأِ الْقُرْآنَ "، وَإِنِّي أُشْهِدُ اللهَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ، فَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، وَيَرْفَعُوا إِلَيْنَا مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، قَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُمَا مِنْهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا: الثُّومُ وَالْبَصَلُ. قَالَ: خَطَبَ لَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمَاتَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ⦗٢٥٩⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ایک مرغ نے مجھے ایک یا دو ٹھونگیں ماری ہیں، اور میں اسے اپنی موت کے قریب آنے کی علامت ہی سمجھتا ہوں۔ کچھ لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں (کسی کو) خلیفہ نامزد کر دوں، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین، اپنی خلافت اور اس چیز کو جسے اپنے پیغمبر کو دے کر بھیجا ہے، ہرگز ضائع نہیں فرمائیں گے۔ اگر میرا وقت جلد آ جائے تو (خلافت کا معاملہ) ان چھ اشخاص کے باہمی مشورے سے طے ہو گا جن سے نبی کریم ﷺ رضا مندی کی حالت میں فوت ہوئے تھے۔ تم جس کی بھی بیعت کرو گے، اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا، اور بہت سے لوگ اس میں طعنہ زنی بھی کریں گے، اگر وہ ایسا کریں تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہیں۔ میں نے اپنے اسی ہاتھ سے اسلام کی خاطر ان سے جہاد کیا ہے، اور میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز جو میرے نزدیک «الْكَلَالَةُ» ”کلالہ“ سے بڑھ کر اہم ہو، نہیں چھوڑ رہا اور نبی کریم ﷺ نے مجھ پر کسی معاملے میں اتنی سختی نہیں کی جتنی اس کے بارے میں کی، آپ ﷺ نے میرے سینے پر انگلی مار کر فرمایا تھا: ”اے عمر! تجھے «آیَةُ الصَّيْفِ» ”گرمی کے موسم والی آیت“ جو ﴿سورة النساء: 176﴾ کی آخری آیت ہے، کافی ہے“ اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے میں کوئی اختلاف نہیں رہے گا، اور میں مختلف علاقوں کے امیروں پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں صرف اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو دین اور سنتِ رسول ﷺ سکھائیں اور جو مشکل ہو ہمیں بتائیں، اور اے لوگو! تم دو درختوں (پودوں) سے کھاتے ہو اور میں انہیں خبیث سمجھتا ہوں۔ میں نے عہدِ رسالت میں دیکھا کہ اگر کسی شخص سے ان کی بو آتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان کو کھائے وہ انہیں پکا کر (ان کی بو) ختم کر دے، اور وہ لہسن اور پیاز ہیں۔“ معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ خطبہ آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن دیا تھا اور بدھ کے دن آپ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تھے جب ذوالحجہ کے چار دن باقی تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فِي قِصَّةِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَقَالُوا: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَقَالَ: لِيَشْهَدْكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، كَالتَّعْزِيَةِ لَهُ، وَقَالَ: فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ ذَاكَ، وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمُ مَا أُمِّرَ، فَإِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ مِنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانَةٍ، وَقَالَ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، أَنْ يَعْلَمَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَأَنْ يَعْفِي عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِأَهْلِ الْأَمْصَارِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ رِدْءُ الْإِسْلَامِ، وَجُبَاةُ الْأَمْوَالِ، وَغَيْظُ الْعَدُوِّ، وَأَنْ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُمْ إِلَّا فَضْلَهُمْ عَنْ رِضَاهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَعْرَابِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ، وَمَادَّةُ الْإِسْلَامِ، أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ فَيُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ، أَنْ يُوفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ. فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دَفْنِهِ، قَالَ: فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ وَرَجَعُوا، اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ، قَالَ الزُّبَيْرُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ طَلْحَةُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عُثْمَانَ، وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَيُّكُمَا يَبْرَأُ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعَلَهُ إِلَيْهِ؟ وَاللهِ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ، وَلَيَحْرِصَنَّ عَلَى صَلَاحِ الْأُمَّةِ، قَالَ: فَأُسْكِتَ الشَّيْخَانِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفَتَجْعَلُونَهُ إِلَيَّ، وَاللهُ عَلَيَّ أَنْ لَا آلُو عَنْ أَفْضَلِكُمْ؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: لَكَ مِنْ قَرَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقِدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، وَاللهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ، وَلَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ، ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ، فَبَايَعَهُ وَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَوَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المؤمنین! وصیت کر دیجیے، خلیفہ نامزد کر دیں۔“ تو فرمایا: ”ان لوگوں یا اس جماعت سے بڑھ کر اس معاملے کا حق دار کوئی نہیں جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات کے وقت راضی تھے“ اور علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اور فرمایا: ”عبداللہ بن عمر تمہارے پاس حاضر رہیں گے، لیکن اس معاملے میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا“، گویا یہ ان کی تسلی کے لیے تھا۔ اور فرمایا: ”اگر امارت سعد رضی اللہ عنہ کو مل جائے تو وہی (اس کے اہل) ہیں، ورنہ تم میں سے جو بھی امیر بنایا جائے وہ ان سے مدد لیتا رہے؛ کیونکہ میں نے انہیں کسی عجز یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔“ اور کہا: ”جو بھی میرے بعد خلیفہ بنے میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ پہلے مہاجرین کے حق کو پہچانے، ان کی عزت اور مقام و مرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو ان سے پہلے (مدینہ کے) گھر اور ایمان میں ٹھکانا بنائے ہوئے تھے، کہ ان کے محسن سے قبول کرے اور خطاکار سے درگزر کرے اور تمام شہروں والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اسلام کے مددگار، مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضامندی سے لیا جائے اور دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اصل عرب ہیں، اسلام کا مادہ ہیں۔ ان کے معمولی مالوں سے لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دیا جائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ (والوں) کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد کو پورا کرے، ان کی حفاظت کے لیے لڑے اور کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دے۔“ جب فوت ہو گئے تو ہم انہیں لے کر نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد جب لوگ واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہو گیا تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اپنا معاملہ اپنے میں سے تین کے سپرد کر دو۔“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا معاملہ علی کے سپرد کیا“، طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا معاملہ عثمان کے سپرد کیا“ اور سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمن کے سپرد کیا۔“ تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ (علی اور عثمان رضی اللہ عنہما سے) کہنے لگے: ”تم دونوں میں سے کون اس معاملے سے دستبردار ہوتا ہے تاکہ ہم یہ اس کے سپرد کر دیں؟ اللہ اور اسلام اس پر گواہ ہیں کہ وہ اپنے نزدیک ان میں سے سب سے افضل کو دیکھے گا اور امت کی بھلائی کا حریص ہو گا۔“ تو دونوں شیخ خاموش رہے، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم یہ معاملہ میرے سپرد کرتے ہو، اور اللہ مجھ پر گواہ ہے کہ میں تم میں سے افضل (کو چننے) میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ”آپ کو رسول اللہ ﷺ سے قرابت اور اسلام میں سبقت حاصل ہے جو آپ جانتے ہیں، اللہ آپ پر گواہ ہے، اگر میں آپ کو امیر بنا دوں تو آپ ضرور انصاف کریں گے، اور اگر میں عثمان کو امیر بنا دوں تو آپ ضرور سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔“ پھر دوسرے کے ساتھ علیحدگی میں بھی یہی بات کہی۔ جب عہد لے لیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کہا: ”اے عثمان! اپنا ہاتھ اٹھاؤ“، پھر خود بیعت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کر لی اور گھر والے بھی اندر آئے، انہوں نے بھی بیعت کر لی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنْبَأَ ⦗٢٦٠⦘ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَائِبًا بِأَرْضِهِ بِالسَّرَاةِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ لَكُمْ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَ النَّاسِ شَقاقًّا فِيكُمْ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيكُمْ شَيْءٌ، فَإِنْ كَانَ شِقَاقٌ فَهُوَ مِنْكُمْ، وَإِنَّ الْأَمْرَ إِلَى سِتَّةٍ: إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَطَلْحَةَ، وَسَعْدٍ، ثُمَّ إِنَّ قَوْمَكُمْ إِنَّمَا يُؤَمِّرُونَ أَحَدَكُمْ أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ، فَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عُثْمَانَ، فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَلَا تَحْمِلَنَّ أَقَارِبَكَ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ يَا عَلِيُّ، فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، قُومُوا فَتَشَاوَرُوا وَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ، فَقَامُوا يَتَشَاوَرُونَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَدَعَانِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ لِيُدْخِلَنِي فِي الْأَمْرِ، وَلَمْ يُسَمِّنِي عُمَرُ، وَلَا وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُمْ، عِلْمًا مِنْهُ بِأَنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا قَالَ أَبِي، وَاللهِ لَقَلَّمَا سَمِعْتُهُ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ حَقًّا، فَلَمَّا أَكْثَرَ عُثْمَانُ دُعَائِي قُلْتُ: أَلَا تَعْقِلُونَ، تُؤَمِّرُونَ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَيُّ؟ فَوَاللهِ لَكَأَنَّمَا أَيْقَظْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ مَرْقَدٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمْهِلُوا، فَإِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ صُهَيْبٌ مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، ثُمَّ أَجْمِعُوا فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَشْرَافَ النَّاسِ وَأُمَرَاءَ الْأَجْنَادِ، فَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ، فَمَنْ تَأْمَّرَ عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سراۃ میں اپنی زمین پر تھے، وہاں حاضر نہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر انھیں دیکھا پھر فرمایا: ”میں نے تمہارے لیے لوگوں کے معاملے پر غور کیا ہے، مجھے لوگوں میں تمہارے بارے میں کوئی اختلاف نظر نہیں آیا، الا یہ کہ تمہارے اپنے اندر کوئی بات ہو، اگر اختلاف ہوا تو تمہاری طرف سے ہوگا۔ امارت کا معاملہ ان چھ کے سپرد ہے: عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام، طلحہ اور سعد۔ تمہاری قوم تم تین میں سے کسی کو ہی امیر بنائے گی۔ اے عثمان! اگر تمہیں لوگوں کے معاملے میں کچھ اختیار ملے تو بنو ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا، اے عبدالرحمن! اگر تمہیں لوگوں کے معاملے میں کچھ اختیار ملے تو اپنے اقرباء کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا، اے علی! اگر تمہیں کچھ اختیار ملے تو بنو ہاشم کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا۔ اٹھو، باہم مشورہ کرو اور اپنے میں سے کسی کو امیر بنا لو۔“ چنانچہ وہ اٹھ کر مشورہ کرنے لگے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک یا دو مرتبہ مجھے بلایا کہ مجھے بھی اس معاملے میں شریک کر لیں، حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرا نام نہیں لیا تھا، اور واللہ! میں ان کے ساتھ شامل ہونا پسند نہیں کرتا تھا؛ کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان کے معاملے میں وہی ہو گا جو میرے والد نے کہا تھا۔ واللہ! میں نے بہت ہی کم ایسا سنا کہ انھوں نے کسی بات کے لیے لبوں کو حرکت دی ہو اور وہ حق نہ نکلی ہو۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بار بار مجھے بلایا تو میں نے کہا: ”کیا تمہیں سمجھ نہیں کہ تم امیر بنا رہے ہو حالانکہ امیر المؤمنین زندہ ہیں؟“ واللہ! گویا میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیند سے جگا دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ٹھہرو، اگر مجھے کچھ ہو جائے (یعنی میں فوت ہو جاؤں) تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، جو بنو جدعان کے مولیٰ ہیں، تین راتوں تک لوگوں کو نماز پڑھائیں، پھر تیسرے دن لوگوں کے سربراہان اور لشکروں کے امراء کو جمع کرنا اور اپنے میں سے کسی کو امیر بنا لینا، اور جو بغیر مشورہ کے امیر بنے اس کی گردن اڑا دینا۔“