کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان روایات کا بیان جن میں وارد ہے کہ کنویں میں گرنے سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور کان کے کھودنے کے دوران پیش آنے والا جانی نقصان رائیگاں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے، معدنیات نکالتے ہوئے مرے تو اس کا خون رائیگاں ہے اور جو کنویں میں مرے وہ بھی رائیگاں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16394
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ " زَادَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ: " وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، إِذَا حَفَرَهَا فِي مِلْكِهِ وَفِي صَحْرَاءَ أَوْ طَرِيقٍ وَاسِعَةٍ مُحْتَمَلَةٍ، فَأَمَّا إِذَا حَفَرَهَا فِي غَيْرِ هَذِهِ الْمَوَاضِعِ فَإِنَّهُ يَضْمَنُ مَا يَتْلَفُ فِيهَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ بَنَى فِي غَيْرِ حَقِّهِ، أَوِ احْتَفَرَ فِي غَيْرِ مِلْكِهِ فَهُوَ ضَامِنٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے اور کنواں بھی رائیگاں ہے۔“ حفص بن عمر نے یہ اضافہ کیا کہ ”کان بھی رائیگاں ہے اور «الرِّکَازُ» (رکاز) میں «الْخُمُسُ» (خمس) ہے۔“ اس کو شیخین نے صحیح میں حضرت شعبہ سے روایت کیا ہے اور ان کی مراد (خدا بہتر جانتا ہے) یہ تھی کہ جو کنواں اپنی ملکیت میں کھودے یا صحرا میں یا واضح کھلے راستے میں (وہ رائیگاں ہے)۔ بہرحال، جب ان جگہوں کے علاوہ کھودے تو وہ نقصان کا ضامن ہوگا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اپنے حق کے علاوہ میں عمارت بنائی یا اپنے غیر کی زمین میں کنواں کھودا تو وہ ضامن ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16395
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ بَغْلًا، وَقَعَ فِي بِئْرٍ فَانْكَسَرَ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ أَعَلَى الْبِئْرِ ضَمَانٌ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، فَضَمَّنَهُ، وَكَانَتِ الْبِئْرُ فِي الطَّرِيقِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک خچر ایک کنویں میں گر گیا۔ جھگڑا قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آ گیا۔ عمرو بن حارث کہنے لگا: اے ابو امیہ! کیا کنویں میں بھی کوئی ضامن ہے؟ کہا: نہیں، لیکن عمرو بن حارث ضامن ہے کیونکہ اس کا کنواں ایسی جگہ میں تھا جس پر اس کا حق نہیں تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16396
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيِّ، ⦗١٩٣⦘ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ حَفَرَ قَوْمٌ زُبْيَةً لِلْأَسَدِ، فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى الزُّبْيَةِ، وَوَقَعَ فِيهَا الْأَسَدُ، فَوَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ، وَتَعَلَّقَ بِرَجُلٍ، وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا أَرْبَعَةً، فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ فِيهَا فَهَلَكُوا، وَحَمَلَ الْقَوْمُ السِّلَاحَ، فَكَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: أَتَقْتُلُونَ مِائَتَيْ رَجُلٍ مِنْ أَجْلِ أَرْبَعَةِ أُنَاسٍ، تَعَالَوْا أَقْضِ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ، فَإِنْ رَضِيتُمُوهُ فَهُوَ قَضَاءٌ بَيْنَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ رَفَعْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ قَالَ: فَجَعَلَ لِلْأَوَّلِ رُبُعَ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ لِلثَّانِي ثُلُثَ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ لِلثَّالِثِ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ لِلرَّابِعِ الدِّيَةَ، وَجَعَلَ الدِّيَاتِ عَلَى مَنْ حَضَرَ الزُّبْيَةَ عَلَى الْقَبَائِلِ الْأَرْبَعَةِ، فَسَخِطَ بَعْضُهُمْ وَرَضِيَ بَعْضُهُمْ، ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: " أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ " فَقَالَ قَائِلٌ: فَإِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَضَى بَيْنَنَا، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقَضَاءُ كَمَا يَقْضِي عَلِيٌّ " قَالَ هَذَا حَمَّادٌ، وَقَالَ قَيْسٌ: فَأَمْضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاءَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو لوگوں نے شیر پکڑنے کے لیے ایک گڑھا کھودا، لوگ اس گڑھے پر کھڑے تھے جس میں شیر پھنس چکا تھا تو اس گڑھے میں ایک شخص گر پڑا، اس نے دوسرے کو پکڑا، اس نے تیسرے کو پکڑا، اس نے تیسرے کو اور اس نے چوتھے کو، شیر نے ان کو زخمی کر دیا اور وہ مر گئے۔ لوگوں نے اپنے اپنے شخص کا بدلہ لینے کے لیے ایک دوسرے پر اسلحہ نکال لیا اور قریب تھا کہ وہ لڑ پڑتے تو میں نے انہیں کہا کہ کیا تم چار لوگوں کے بدلے ٢٠٠ آدمیوں کو قتل کرو گے؟ آؤ میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں، اگر پسند آئے تو مان لینا ورنہ نبی ﷺ کے پاس چلے جانا کیونکہ فیصلے کے وہی زیادہ حقدار ہیں، تو میں نے پہلے کے لیے ربع دیت، دوسرے کے لیے ثلث دیت، تیسرے کے لیے نصف دیت اور چوتھے کے لیے مکمل دیت کا فیصلہ کر دیا اور دیت ان چار قبائل پر لگا دی جو اس وقت وہاں آئے ہوئے تھے۔ بعض لوگوں نے فیصلہ مان لیا، بعض نے انکار کر دیا اور آپ ﷺ کے پاس آ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں فیصلہ کرتا ہوں“ تو ایک شخص نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔ جب آپ ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو علی نے فیصلہ کیا ہے وہی صحیح ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16397
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اجْمَعُوا فِي الْقَبَائِلِ الَّذِينَ حَضَرُوا رُبُعَ الدِّيَةِ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ يَلِيهِ، وَالثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ فَوْقَهُ، وَالثَّالِثُ نِصْفُ الدِّيَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ فَوْقَهُ، وَالرَّابِعُ الدِّيَةُ كَامِلَةً فَزَعَمَ حَنَشٌ أَنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ كَرِهَ ذَلِكَ، حَتَّى أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَقُوهُ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَاحْتَبَى بُرْدَهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى بَيْنَنَا، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَأَجَازَهُ فَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ أُرْسِلَ آخِرُهُ، وَحَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16398
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: ابْنُ رَبِيعَةَ، يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ ⦗١٩٤⦘ وَأَصْحَابُنَا يَقُولُونَ: الْقِيَاسُ أَنْ يَكُونَ فِي الْأَوَّلِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، ثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الثَّانِي، وَثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الثَّالِثِ؛ لِأَنَّهُ مَاتَ مِنْ فِعْلِ نَفْسِهِ وَفِعْلِ اثْنَيْنِ، فَسَقَطَ ثُلُثُ الدِّيَةِ لِفِعْلِ نَفْسِهِ وَوَجَبَ الثُّلُثَانِ، وَفِي الثَّانِي ثُلُثَا الدِّيَةِ، ثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْأَوَّلِ وَثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الثَّالِثِ، وَفِي الثَّالِثِ وَجْهَانِ: أَحَدُهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الثَّانِي، وَالْآخَرُ ثُلُثَا الدِّيَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي، وَفِي الرَّابِعِ جَمِيعُ الدِّيَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الثَّالِثِ، وَفِيهِ وَجْهٌ آخَرُ أَنَّهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي وَالثَّالِثِ، فَإِنْ صَحَّ الْحَدِيثُ تُرِكَ لَهُ الْقِيَاسُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ اور ہمارے اصحاب فرماتے ہیں: قیاس یہی ہے کہ اول پر چوتھائی دیت ہو، اس کی ثلث دوسرے کے عاقلہ پر اور اس کی ثلث تیسرے عاقلہ پر ہو؛ کیونکہ وہ اپنے آپ کے فعل سے فوت ہوا ہے اور باقی دو کے فعل سے، تو ثلث دیت اس کے اپنے فعل کے ہونے کے سبب سے ساقط ہو گئی، تو باقی دو ثلث اسے مل جائے گی۔ دوسرے میں بھی دو تہائی دیت ہو گی۔ اس میں سے ثلث اول کے عاقلہ پر اور ثلث عاقلہ ثالث پر ہو گی اور جو تیسرا شخص ہے اس میں دو وجہیں ہیں: (1) اس کی نصف دیت عاقلہ ثانی پر ہے۔ (2) اس میں بھی دو تہائی دیت ہے جو عاقلہ اول اور ثانی ادا کریں گے اور چوتھے میں مکمل دیت ہے جو عاقلہ ثالث ادا کریں گے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عاقلہ اول اور ثانی اور ثالث تینوں ادا کریں گے۔ اگر حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو قیاس کو چھوڑ دیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16399
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للبخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، اسْتَأْجَرَ أَرْبَعَةً يَحْفِرُونَ بِئْرًا، فَسَقَطَ طَائِفَةٌ مِنْهَا عَلَى رَجُلٍ فَمَاتَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَعَلَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الثَّلَاثَةِ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِ الدِّيَةِ، وَرَفَعَ عَنْهُمُ الرُّبُعَ نَصِيبَ الْمَيِّتِ أَحَادِيثُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يُحْتَجُّ بِهَا لِإِرْسَالٍ فِيهَا، وَهَذَا عَلَى عَوَاقِلِهِمْ، إِنْ كَانَ سُقُوطُ طَائِفَةٍ فِيهَا بِفِعْلِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
خلاس بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے چار آدمی اجرت پر رکھے کہ وہ کنواں کھودیں، تو ان میں سے تین ایک شخص پر گر گئے اور وہ مر گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان تینوں پر «ثُلُث» ”ایک تہائی“ دیت رکھی اور «رُبُع» ”ایک چوتھائی“ دیت جو میت پر خود تھی وہ چھوڑ دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16400
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَضَى فِي الْقَارِصَةِ وَالْقَامِصَةِ وَالْوَاقِصَةِ بِالدِّيَةِ أَثْلَاثًا قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ: وَتَفْسِيرُهُ أَنَّ ثَلَاثَ جَوَارٍ كُنَّ يَلْعَبْنَ فَرَكِبَتْ إِحْدَاهُنَّ صَاحِبَتَهَا، فَقَرَصَتِ الثَّالِثَةُ الْمَرْكُوبَةَ فَقَمَصَتْ، فَسَقَطَتِ الرَّاكِبَةُ فَوُقِصَتْ عُنُقُهَا، فَجَعَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَلَى الْقَارِصَةِ ثُلُثَ الدِّيَةِ، وَعَلَى الْقَامِصَةِ الثُّلُثَ، وَأَسْقَطَ الثُّلُثَ، يَقُولُ: لِأَنَّهُ حِصَّةُ الرَّاكِبَةِ؛ لِأَنَّهَا أَعَانَتْ عَلَى نَفْسِهَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چٹکی بھرنے والی، بدکنے والی اور گردن ٹوٹ کر مرنے والی کے متعلق دو تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ ابن ابی زائدہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ تین لڑکیاں آپس میں کھیل رہی تھیں، ان میں سے ایک دوسری پر سوار ہوگئی تو تیسری نے اسے، جس کے اوپر وہ سوار تھی، چٹکی بھری، وہ بدکی تو اوپر والی گر پڑی اور اس کی گردن ٹوٹ گئی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں دو تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا اور چونکہ مرنے والی نے خود ان کی اعانت کی تھی، اس لیے اس کا ایک تہائی (ثلث) حصہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16401
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: إِنَّ أَعْمَى كَانَ يُنْشِدُ فِي الْمَوْسِمِ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ
علی بن رباح لخمی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ایک نابینا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ اشعار پڑھ رہا تھا: ”اے لوگو! مجھے ایک عجیب بات پتا چلی ہے کہ کیا اندھا صحیح آدمی کی دیت ادا کرے گا؟ وہ ساتھ ہی گرا اور اسے توڑ دیا۔“ یہ ایک اندھا اور صحیح ایک کنویں پر آئے اور وہ اندر گرے، اندھا صحیح کے اوپر گرا تو بینا آدمی مر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نابینا پر بینا کی دیت کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16402
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لعلي»