السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما ورد في البئر جبار والمعدن جبار باب: ان روایات کا بیان جن میں وارد ہے کہ کنویں میں گرنے سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور کان کے کھودنے کے دوران پیش آنے والا جانی نقصان رائیگاں ہے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيِّ، ⦗١٩٣⦘ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ حَفَرَ قَوْمٌ زُبْيَةً لِلْأَسَدِ، فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى الزُّبْيَةِ، وَوَقَعَ فِيهَا الْأَسَدُ، فَوَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ، وَتَعَلَّقَ بِرَجُلٍ، وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا أَرْبَعَةً، فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ فِيهَا فَهَلَكُوا، وَحَمَلَ الْقَوْمُ السِّلَاحَ، فَكَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: أَتَقْتُلُونَ مِائَتَيْ رَجُلٍ مِنْ أَجْلِ أَرْبَعَةِ أُنَاسٍ، تَعَالَوْا أَقْضِ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ، فَإِنْ رَضِيتُمُوهُ فَهُوَ قَضَاءٌ بَيْنَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ رَفَعْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ قَالَ: فَجَعَلَ لِلْأَوَّلِ رُبُعَ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ لِلثَّانِي ثُلُثَ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ لِلثَّالِثِ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ لِلرَّابِعِ الدِّيَةَ، وَجَعَلَ الدِّيَاتِ عَلَى مَنْ حَضَرَ الزُّبْيَةَ عَلَى الْقَبَائِلِ الْأَرْبَعَةِ، فَسَخِطَ بَعْضُهُمْ وَرَضِيَ بَعْضُهُمْ، ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: " أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ " فَقَالَ قَائِلٌ: فَإِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَضَى بَيْنَنَا، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقَضَاءُ كَمَا يَقْضِي عَلِيٌّ " قَالَ هَذَا حَمَّادٌ، وَقَالَ قَيْسٌ: فَأَمْضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاءَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو لوگوں نے شیر پکڑنے کے لیے ایک گڑھا کھودا، لوگ اس گڑھے پر کھڑے تھے جس میں شیر پھنس چکا تھا تو اس گڑھے میں ایک شخص گر پڑا، اس نے دوسرے کو پکڑا، اس نے تیسرے کو پکڑا، اس نے تیسرے کو اور اس نے چوتھے کو، شیر نے ان کو زخمی کر دیا اور وہ مر گئے۔ لوگوں نے اپنے اپنے شخص کا بدلہ لینے کے لیے ایک دوسرے پر اسلحہ نکال لیا اور قریب تھا کہ وہ لڑ پڑتے تو میں نے انہیں کہا کہ کیا تم چار لوگوں کے بدلے ٢٠٠ آدمیوں کو قتل کرو گے؟ آؤ میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں، اگر پسند آئے تو مان لینا ورنہ نبی ﷺ کے پاس چلے جانا کیونکہ فیصلے کے وہی زیادہ حقدار ہیں، تو میں نے پہلے کے لیے ربع دیت، دوسرے کے لیے ثلث دیت، تیسرے کے لیے نصف دیت اور چوتھے کے لیے مکمل دیت کا فیصلہ کر دیا اور دیت ان چار قبائل پر لگا دی جو اس وقت وہاں آئے ہوئے تھے۔ بعض لوگوں نے فیصلہ مان لیا، بعض نے انکار کر دیا اور آپ ﷺ کے پاس آ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں فیصلہ کرتا ہوں“ تو ایک شخص نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔ جب آپ ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو علی نے فیصلہ کیا ہے وہی صحیح ہے“۔