حدیث نمبر: 16399
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: ابْنُ رَبِيعَةَ، يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ ⦗١٩٤⦘ وَأَصْحَابُنَا يَقُولُونَ: الْقِيَاسُ أَنْ يَكُونَ فِي الْأَوَّلِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، ثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الثَّانِي، وَثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الثَّالِثِ؛ لِأَنَّهُ مَاتَ مِنْ فِعْلِ نَفْسِهِ وَفِعْلِ اثْنَيْنِ، فَسَقَطَ ثُلُثُ الدِّيَةِ لِفِعْلِ نَفْسِهِ وَوَجَبَ الثُّلُثَانِ، وَفِي الثَّانِي ثُلُثَا الدِّيَةِ، ثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْأَوَّلِ وَثُلُثُهَا عَلَى عَاقِلَةِ الثَّالِثِ، وَفِي الثَّالِثِ وَجْهَانِ: أَحَدُهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الثَّانِي، وَالْآخَرُ ثُلُثَا الدِّيَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي، وَفِي الرَّابِعِ جَمِيعُ الدِّيَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الثَّالِثِ، وَفِيهِ وَجْهٌ آخَرُ أَنَّهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي وَالثَّالِثِ، فَإِنْ صَحَّ الْحَدِيثُ تُرِكَ لَهُ الْقِيَاسُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

امام بخاری رحمہ اللہ اور ہمارے اصحاب فرماتے ہیں: قیاس یہی ہے کہ اول پر چوتھائی دیت ہو، اس کی ثلث دوسرے کے عاقلہ پر اور اس کی ثلث تیسرے عاقلہ پر ہو؛ کیونکہ وہ اپنے آپ کے فعل سے فوت ہوا ہے اور باقی دو کے فعل سے، تو ثلث دیت اس کے اپنے فعل کے ہونے کے سبب سے ساقط ہو گئی، تو باقی دو ثلث اسے مل جائے گی۔ دوسرے میں بھی دو تہائی دیت ہو گی۔ اس میں سے ثلث اول کے عاقلہ پر اور ثلث عاقلہ ثالث پر ہو گی اور جو تیسرا شخص ہے اس میں دو وجہیں ہیں: (1) اس کی نصف دیت عاقلہ ثانی پر ہے۔ (2) اس میں بھی دو تہائی دیت ہے جو عاقلہ اول اور ثانی ادا کریں گے اور چوتھے میں مکمل دیت ہے جو عاقلہ ثالث ادا کریں گے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عاقلہ اول اور ثانی اور ثالث تینوں ادا کریں گے۔ اگر حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو قیاس کو چھوڑ دیں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16399
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للبخاري»