السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما ورد في البئر جبار والمعدن جبار باب: ان روایات کا بیان جن میں وارد ہے کہ کنویں میں گرنے سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور کان کے کھودنے کے دوران پیش آنے والا جانی نقصان رائیگاں ہے۔
حدیث نمبر: 16400
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، اسْتَأْجَرَ أَرْبَعَةً يَحْفِرُونَ بِئْرًا، فَسَقَطَ طَائِفَةٌ مِنْهَا عَلَى رَجُلٍ فَمَاتَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَعَلَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الثَّلَاثَةِ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِ الدِّيَةِ، وَرَفَعَ عَنْهُمُ الرُّبُعَ نَصِيبَ الْمَيِّتِ أَحَادِيثُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يُحْتَجُّ بِهَا لِإِرْسَالٍ فِيهَا، وَهَذَا عَلَى عَوَاقِلِهِمْ، إِنْ كَانَ سُقُوطُ طَائِفَةٍ فِيهَا بِفِعْلِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
خلاس بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے چار آدمی اجرت پر رکھے کہ وہ کنواں کھودیں، تو اس کا کچھ حصہ ان میں سے ایک شخص پر گر گیا اور وہ مر گیا، یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے ان تینوں پر «ثَلَاثَةُ أَرْبَاعٍ» ”تین چوتھائی“ دیت رکھی اور «رُبُع» ”ایک چوتھائی“ دیت جو میت کا اپنا حصہ تھی وہ ان سے معاف کر دی۔
خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایات ارسال کی وجہ سے قابلِ حجت نہیں ہیں، اور یہ دیت ان کے عاقلہ پر ہوگی اگر کنویں کا حصہ ان کے فعل سے گرا ہو۔