السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما ورد في البئر جبار والمعدن جبار باب: ان روایات کا بیان جن میں وارد ہے کہ کنویں میں گرنے سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور کان کے کھودنے کے دوران پیش آنے والا جانی نقصان رائیگاں ہے۔
حدیث نمبر: 16396
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ بَغْلًا، وَقَعَ فِي بِئْرٍ فَانْكَسَرَ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ أَعَلَى الْبِئْرِ ضَمَانٌ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، فَضَمَّنَهُ، وَكَانَتِ الْبِئْرُ فِي الطَّرِيقِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک خچر ایک کنویں میں گر گیا۔ جھگڑا قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آ گیا۔ عمرو بن حارث کہنے لگا: اے ابو امیہ! کیا کنویں میں بھی کوئی ضامن ہے؟ کہا: نہیں، لیکن عمرو بن حارث ضامن ہے کیونکہ اس کا کنواں ایسی جگہ میں تھا جس پر اس کا حق نہیں تھا۔